اسلام آباد:
وزیراعظم شہباز شریف نے 2026 سے 2031 تک کی نئی پانچ سالہ آٹو پالیسی کے مسودے کی منظوری دیدی، جس کے تحت روایتی گاڑیوں کے موجودہ سمبلرزکومزید 4سال تحفظ حاصل رہے گا،جبکہ نئی انرجی گاڑیوںکی قیمتوں میں نمایاں کمی کیلیے بڑے ٹیکس مراعات دی جائیں گی۔
منظور شدہ پالیسی کے تحت بیٹری الیکٹرک گاڑیوں کو سب سے زیادہ ترجیحی ٹیکس سہولت دی جائیگی،جبکہ رینج ایکسٹینڈڈ الیکٹرک وہیکلز اور پلگ اِن ہائبرڈ الیکٹرک وہیکلزکو الگ الگ کیٹیگریزمیں رکھاجائے گا۔
وزیراعظم نے کمیٹی کی جانب سے ان تینوں اقسام کو یکساں ٹیکس سہولت دینے کی تجویز سے اتفاق نہیں کیا۔نئی انرجی گاڑیوں، انکی مکمل ناک ڈاؤن کٹس ، پرزہ جات، ان پٹس اور خام مال پرصرف ایک فیصد سیلز ٹیکس عائد ہوگا،جبکہ فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی،کیپیٹل ویلیو ٹیکس اورودہولڈنگ ٹیکس سے بھی استثنیٰ دیاجائے گا۔
حکومت نے NEVs کی خریداری کیلیے قرض کی حد 30 لاکھ روپے سے بڑھا کر ایک کروڑروپے کرنے اورقرض کی مدت تین سال سے بڑھاکر5 سال کرنے کی منظوری بھی دی ہے۔
چارجنگ اور بیٹری سویپ اسٹیشنزکی درآمد پر ایک فیصدکسٹمزڈیوٹی عائد ہوگی،جبکہ سویپ اسٹیشنزکیلیے وائی ایبلٹی گیپ فنڈنگ فراہم کی جائے گی۔دوسری جانب ہائبرڈ الیکٹرک گاڑیوں اورروایتی اندرونی احتراقی انجن (ICE) گاڑیوں کوڈیوٹیزاور ٹیکسزکے حوالے سے یکساں سلوک دیا جائیگا۔
روایتی گاڑیوں پر اضافی FED عائد کرنے کی تجویز بھی منظورکی گئی، تاکہ ٹیرف میں کمی سے پیداہونیوالے قیمتوں کے فرق کوکسی حد تک متوازن کیاجاسکے۔
وزیراعظم نے 1000 سی سی سے کم روایتی گاڑیوں پر مجوزہ فیڈرل ایکسائزڈیوٹی ختم کرنے کی ہدایت کی ہے۔

