امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے وائٹ ہاؤس کی تین خواتین ملازمین کو دیے گئے بھاری بھرکم نقد تحفوں کی تفصیلات سامنے آنے کے بعد امریکی سیاست میں نئی بحث چھڑ گئی ہے۔
وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری مالی گوشواروں کے مطابق ٹرمپ نے اپنی ایگزیکٹو اسسٹنٹ نٹالی ہارپ، کمیونیکیشنز ایڈوائزر مارگو مارٹن اور اوول آفس کی ڈپٹی ڈائریکٹر چیمبرلین ہیرس کو گزشتہ سال تعطیلات کے موقع پر 45،45 ہزار ڈالر نقد دیے۔
ان تینوں خواتین ملازمین نے اپنے گوشواروں میں صدر ٹرمپ کی جانب سے دی گئی اس رقم کو تعطیلات کا نقد تحفہ قرار دیا۔ جن کی سالانہ سرکاری تنخواہ تقریباً 1 لاکھ 50 ہزار ڈالر ہے۔
اس طرح ہر ایک کو ملنے والی 45 ہزار ڈالر کی رقم ان کی ایک سال کی تنخواہ کے تقریباً 30 فیصد کے برابر بنتی ہے۔ ٹرمپ نے صرف تین خواتین ملازمین ہی کو نہیں نوازا بلکہ اوول آفس کے ڈائریکٹر والٹ نوٹا کو بھی تعطیلات کے موقع پر 20 ہزار ڈالر کا نقد تحفہ دیا۔
اس طرح ان چار قریبی معاونین کو صدر تڑمپ کی جانب سے دی گئی تحفے کی رقم مجموعی طور پر 1 لاکھ 55 ہزار ڈالر بنتی ہے۔
نٹالی ہارپ کون ہیں؟
ان تحفوں میں سب سے زیادہ توجہ نٹالی ہارپ کو ملنے والی رقم پر مرکوز ہے جو صدر ٹرمپ کے انتہائی قریبی عملے میں شمار ہوتی ہیں۔
35 سالہ ہارپ ٹرمپ کی ایگزیکٹو اسسٹنٹ کے طور پر کام کرتی ہیں اور ان کی ذمہ داریوں میں صدر کے لیے معلومات اور میڈیا مواد تیار کرنا بھی شامل ہے۔
انھیں وائٹ ہاؤس میں بعض ساتھی مزاحاً ہیومن پرنٹر بھی کہتے ہیں کیونکہ وہ ٹرمپ کے لیے خبروں اور سوشل میڈیا پوسٹس کا پرنٹ شدہ مواد تیار کرکے ان تک پہنچاتی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق ہارپ ٹرمپ کے Truth Social اکاؤنٹ سے متعلق کام میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں اور صدر کی جانب سے بتائے گئے مواد کو پوسٹس کی شکل دینے میں مدد کرتی ہیں۔
تحفے یا اضافی معاوضہ؟ بحث چھڑ گئی
بھاری نقد رقم سامنے آنے کے بعد امریکی اخلاقی اور قانونی ماہرین نے سوال اٹھایا ہے کہ آیا ایک موجودہ صدر کی جانب سے سرکاری ملازمین کو اس نوعیت کی بڑی رقم دینا مناسب ہے یا نہیں۔
سابق وائٹ ہاؤس اخلاقی امور کے وکیل رچرڈ پینٹر سمیت بعض ماہرین نے اس عمل پر تحفظات کا اظہار کیا ہے، کیونکہ وفاقی ملازمین کے لیے سرکاری تنخواہ کے علاوہ اضافی معاوضے سے متعلق قوانین موجود ہیں۔
تاہم وائٹ ہاؤس نے ان اعتراضات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹرمپ طویل عرصے سے اپنے قریبی لوگوں کو کرسمس اور تعطیلات پر تحائف دیتے آئے ہیں۔
وائٹ ہاؤس کے ترجمان ڈیوس انگل کے مطابق یہ تحائف ملازمین کی سرکاری ذمہ داریوں سے متعلق نہیں تھے اور انتظامیہ کے مؤقف کے مطابق متعلقہ قانونی و اخلاقی اصولوں کے تحت جائز ہیں۔
واضح رہے کہ مالی گوشواروں میں سامنے آنے والے یہ تحفے اس لیے بھی غیر معمولی قرار دیے جا رہے ہیں کہ امریکی صدور کی جانب سے وائٹ ہاؤس کے ماتحت ملازمین کو اس قدر بڑی نقد رقم بطور ذاتی تحفہ دینے کی کوئی معروف سابقہ مثال سامنے نہیں آتی۔

