امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ان کے خیال میں ایران کے ساتھ جنگ نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات کے بعد تک ختم نہیں ہوگی اور اس وقت تک تیل کی قیمتیں بھی نیچے نہیں آئیں گی۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کو کہا کہ ’میرے خیال میں جنگ انتخابات کے فوراً بعد ختم ہو جائے گی، کیونکہ ایرانی رہنما اس وقت مزید مزاحمت نہیں کر سکیں گے۔‘
انہوں نے یہ بیان ٹیکساس روانگی کے دوران دیا، جہاں وہ رپبلکن پارٹی کے پہلے وسط مدتی انتخابی کنونشن میں شرکت کر رہے تھے۔
وہاں بھی انہوں نے یہی مؤقف دہرایا اور کہا کہ ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکنے کے لیے مختصر مدت کی معاشی مشکلات برداشت کرنا ضروری ہے۔
ٹرمپ کو اس وقت رائے عامہ کے جائزوں میں گرتی ہوئی مقبولیت اور اپنی ہی رپبلکن پارٹی کے اندر سے جنگ ختم کرنے کے دباؤ کا سامنا ہے۔
یہ جنگ اس وقت شروع ہوئی جب فروری میں امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملے کیے۔
تنازع تیزی سے پورے مشرق وسطیٰ میں پھیل گیا، جب ایران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے اسرائیل اور ان عرب ممالک پر میزائل اور ڈرون حملے کیے جہاں امریکی فوجی تنصیبات موجود ہیں۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’انتخابات کے فوراً بعد تیل کی قیمتیں تیزی سے نیچے آنا شروع ہو جائیں گی۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ جنگ کے خاتمے میں وسط مدتی انتخابات تک کا وقت لگ سکتا ہے۔
بی بی سی نیوز کے مطابق ٹرمپ نے الزام لگایا کہ ایران انتخابات پر اثر انداز ہونے کے لیے بے چین ہے تاکہ امریکہ میں ایک ’کمزور گروپ‘ اقتدار میں آئے۔
ان کا اشارہ بظاہر ڈیموکریٹس کی جانب تھا۔ ٹرمپ کے مطابق ایران چاہتا ہے کہ ایسی حکومت اقتدار میں آئے جو اسے جوہری ہتھیار بنانے کی اجازت دے۔
تاہم، ٹرمپ نے اپنے اس انتخابی دعوے کے حق میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیا۔
دوسری جانب ایران بارہا اس بات کی تردید کر چکا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور اس کا مؤقف ہے کہ اس کا جوہری پروگرام مکمل طور پر پُرامن مقاصد کے لیے ہے۔

