یوکرین کے جاسوسی سربراہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ روسی صدر ولادیمیر پوتن 2028 تک فوجیوں سے محروم ہو جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ روسی فوج کے حوصلے پست ہیں اور وہ لڑنا نہیں چاہتے۔
یوکرین کے جاسوسی سربراہ لیفٹیننٹ جنرل اولیہ ایواشچینکو نے پیش گوئی کی ہے کہ روسی فوج 2028 تک فوجیوں اور فوجی وسائل سے محروم ہو سکتی ہے، جبکہ ماسکو کی صفوں میں حوصلے ”انتہائی پست“ ہیں۔ یوکرین کی وزارت دفاع میں انٹیلیجنس ڈائریکٹوریٹ کے سربراہ نے کہا کہ روس کے وسائل صرف مزید 16 ماہ تک چلیں گے۔ انہوں نے دی ٹائمز سے گفتگو میں کہا: ”روس کے پاس اگلے ایک سال کے لیے فوجی اور معاشی وسائل ہیں، لیکن ہمارا اندازہ ہے کہ یہ 2028 میں ختم ہو جائیں گے۔“
جنرل ایواشچینکو نے مزید کہا: ”روس روزانہ تقریباً ایک ہزار افراد بھرتی کرتا ہے، کبھی کبھی 1200، لیکن ان ہلاکتوں کے اعداد و شمار کو دیکھیں۔ کل یہ 1410 تھیں، ایک دن پہلے 1511 تھی۔ ان میں سے تقریباً 60 فیصد میدان جنگ میں مارے جاتے ہیں۔“ انہوں نے مزید کہا: ”روسی فوج کے حوصلے انتہائی پست ہیں کیونکہ کوئی لڑنا نہیں چاہتا۔“
دریں اثنا، روسی ڈرونز نے یوکرین کے جنوب مشرقی شہر پاولوہراد میں ایک شاپنگ مال پر حملہ کیا، جس میں کم از کم پانچ افراد ہلاک اور 67 دیگر زخمی ہوئے۔ حکام کے مطابق دن کی روشنی میں ہونے والے اس حملے میں دکانیں اور گاڑیاں نشانہ بنیں، اور یہ حملہ اس وقت ہوا جب سڑکوں پر بہت سے لوگ موجود تھے۔ زخمیوں میں 13، 14 اور 15 سال کے تین نوعمر لڑکے بھی شامل ہیں۔
واضح رہے کہ امریکہ میں صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی واپسی کے بعد جنگ بندی کی سفارت کاری تیز ہو گئی ہے۔ امریکی نمائندہ خصوصی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر نے ماسکو میں صدر پوتن سے، اور پھر 6 ستمبر کو کیف میں صدر زیلنسکی سے ملاقات کی۔ دونوں دارالحکومتوں کے لیے 72 گھنٹے کی عارضی جنگ بندی پر اتفاق بھی ہوا، تاہم دیگر علاقوں میں حملے جاری ہیں۔ علاوہ ازیں ٹرمپ اور پوتن کے درمیان 90 منٹ کی فون کال بھی ہوئی۔

