
(ویب ڈیسک) کویت کی حکومت نے ڈرون استعمال کرنے والوں کے لیے ایک جامع قانون کے تحت سخت پیغام جاری کر دیا ہے، جس میں جرمانے اور قید کی سزا شامل ہے۔
کویت نے ڈرون کے استعمال کو مکمل طور پر لائسنس، رجسٹریشن اور سیکیورٹی منظوری کے نظام کے تحت کر دیا ہے، جب کہ غیر مجاز استعمال پر قید، بھاری جرمانے اور ڈرون ضبط کیے جانے کا خطرہ ہے۔
عرب ٹائمز آن لائن کے مطابق کویت نے ڈرونز، ہلکے کھیلوں کے طیاروں اور فضائی کھیلوں کے استعمال کے لیے نیا جامع قانونی نظام نافذ کر دیا ہے، قانونی فرمان نمبر 89، 2026 سرکاری گزٹ کویت الیوم میں شائع ہوتے ہی نافذ ہو گیا۔
اس قانون کے تحت بغیر اجازت ڈرون چلانے پر قید اور زیادہ سے زیادہ 5,000 کویتی دینار جرمانہ ہو سکتا ہے۔
کویت میں ڈرون اڑانے کے لیے رجسٹریشن، ایئر ورتھینس سرٹیفکیٹ، آپریٹنگ لائسنس اور متعلقہ سرکاری اجازتیں ضروری ہوں گی،وزارتِ داخلہ کی منظوری کے بغیر ڈرون یا متعلقہ طیارہ استعمال کرنا ممنوع قرار دیا گیا ہے۔
ڈرون کی درآمد، تیاری، اسمبلنگ، پروگرامنگ، ترمیم اور تجارتی استعمال کے لیے بھی مخصوص اجازتیں اور منظوری درکار ہوگی،ہوائی اڈوں، ممنوعہ اور محدود علاقوں میں پرواز پر پابندی ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں:صوبوں کی تقسیم پر اہم مشاورت، رانا ثناءاللہ کی سینئر صحافیوں سے ملاقات
رات کے وقت اور خراب موسم میں پرواز بھی ممنوع ہوگی، سوائے خصوصی اجازت کے،ڈرون کے ذریعے لوگوں، نجی املاک اور بعض عوامی تنصیبات کی تصویر یا ویڈیو بنانے پر بھی قانونی پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔
سرکاری اداروں کو ہنگامی، طبی، سائنسی اور تحقیقی مقاصد کے لیے ڈرون استعمال کرنے کی اجازت ہوگی، جب کہ فوجی استعمال کے لیے وزارتِ دفاع کو استثنا دیا گیا ہے،حکام کو خطرہ پیدا کرنے والے طیاروں کو جام کرنے، ناکارہ بنانے، روکنے، کنٹرول کرنے اور ضرورت پڑنے پر مار گرانے کے اختیارات حاصل ہوں گے۔
خلاف ورزی کی نوعیت کے مطابق سزا 6 ماہ تک قید اور 700 دینار تک جرمانے سے لے کر 3 سال تک قید اور 5,000 کویتی دینار تک جرمانے تک ہو سکتی ہے، دوبارہ خلاف ورزی یا خلاف ورزی کے نتیجے میں حادثہ پیش آنے کی صورت میں سزا مزید سخت ہوگی، بعض صورتوں میں جرمانہ یا سزا دوگنی ہو سکتی ہے۔
عدالت ڈرون یا متعلقہ آلات ضبط کرنے، لائسنس منسوخ کرنے اور متعلقہ سہولت یا ادارہ بند کرنے کا حکم بھی دے سکتی ہے،موجودہ ڈرون مالکان کو اپنے معاملات نئے قانون کے مطابق کرنے کے لیے ایک سال کی مہلت دی گئی ہے، قانون کے تفصیلی انتظامی ضوابط 31 دسمبر 2026 تک جاری کیے جانے ہیں۔

