سشانت سنگھ کی سابق منیجر کا اجتماعی زیادتی کے بعد قتل، نامور اداکار زیرِ تفتیش

sanchita ugalay sushant singh1781588952 0



بھارتی اداکار سشانت سنگھ راجپوت کی سابق منیجر دیشا سالیان کی موت کا معاملہ چھ سال بعد ایک بار پھر خبروں میں آگیا ہے۔ 

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق سینٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) نے کیس میں قتل، اجتماعی زیادتی، مجرمانہ سازش اور شواہد ضائع کرنے جیسے سنگین الزامات کے تحت ایف آئی آر درج کرلی ہے۔

دیشا سالیان 8 جون 2020 کو ممبئی کے علاقے مالاد میں واقع ایک رہائشی عمارت کی 14 ویں منزل سے گر کر ہلاک ہوئی تھیں۔ ممبئی پولیس نے واقعے کو حادثاتی موت قرار دیتے ہوئے تحقیقات کی تھیں اور بعد ازاں اسے خودکشی قرار دیا گیا تھا۔ تاہم اب کیس کی تفتیش نئے رخ میں داخل ہوگئی ہے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق ایف آئی آر میں شیوسینا (یو بی ٹی) کے رہنما آدتیہ ٹھاکرے کے علاوہ اداکارہ ریا چکرورتی، اداکار ڈینو موریا اور سورج پنچولی سمیت متعدد معروف شخصیات کے کردار کو بھی تفتیش کا حصہ بنایا گیا ہے۔ سابق مہاراشٹر وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے، سابق وزیر داخلہ انیل دیش مکھ، ریا کے بھائی شووک چکرورتی، سابق ممبئی پولیس کمشنر پرم بیر سنگھ اور سابق پولیس افسر سچن وازے کے نام بھی رپورٹ میں سامنے آئے ہیں۔

تاہم کسی شخص کا نام ایف آئی آر میں شامل ہونا اس بات کا ثبوت نہیں کہ اس نے کوئی جرم کیا ہے۔ ان تمام افراد کے ممکنہ کردار اور ایف آئی آر میں موجود الزامات کی حقیقت کا تعین اب سی بی آئی کی تحقیقات میں ہوگا۔

ایف آئی آر میں کیا الزامات شامل ہیں؟

میڈیا رپورٹس کے مطابق ایف آئی آر میں قتل، اجتماعی زیادتی، مجرمانہ سازش، شواہد ضائع کرنے اور غلط معلومات فراہم کرنے سے متعلق دفعات شامل کی گئی ہیں۔

رپورٹس میں ایف آئی آر کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ نامزد افراد کے کردار کو مبینہ جرائم کے ساتھ ساتھ ایسی مبینہ سازش کے تناظر میں بھی دیکھا جائے گا جس کے ذریعے ’’جھوٹی خودکشی کی کہانی‘‘ تیار اور پھیلانے، شواہد دبانے، ضائع کرنے یا ان میں مبینہ ردوبدل کی کوشش کی گئی۔

تفتیش کا دائرہ صرف ان افراد تک محدود نہیں بلکہ ان پولیس اہلکاروں، فرانزک ماہرین، ڈاکٹروں، پوسٹ مارٹم سے وابستہ عملے، عمارت کے سیکیورٹی اہلکاروں اور بعد میں کیس کی تحقیقات کرنے والی ٹیم کے کردار تک بھی پھیل سکتا ہے۔ 

آدتیہ ٹھاکرے کا نام کیوں آیا؟

رپورٹس کے مطابق سی بی آئی کی ایف آئی آر میں آدتیہ ٹھاکرے کو بھی ان افراد میں شامل کیا گیا ہے جن کے کردار کی تحقیقات کی جائیں گی۔ ایف آئی آر میں ان کے والد اور اس وقت کے مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے کا بھی حوالہ موجود ہے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق ایف آئی آر کے ایک حصے میں ادھو ٹھاکرے اور دیگر افراد پر مبینہ سازش اور بعد ازاں معاملہ دبانے میں کردار ادا کرنے کے الزامات کا ذکر ہے۔ اس میں یہ امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے کہ بعض سرکاری ملازمین اور پولیس افسران نے ریکارڈ دبانے، سرکاری دستاویزات میں مبینہ جعل سازی یا سرکاری وسائل کے غلط استعمال کے ذریعے ملزمان کو تحفظ فراہم کیا ہو۔

دیشا سالیان کی موت کب ہوئی تھی؟

دیشا سالیان ایک معروف سیلبریٹی منیجر تھیں اور مختصر عرصے کے لیے سشانت سنگھ راجپوت کے ساتھ بھی کام کرچکی تھیں۔ 8 جون 2020 کو ممبئی کے مالاد علاقے میں ایک رہائشی عمارت کی 14ویں منزل سے گرنے کے بعد ان کی موت ہوگئی۔

اس وقت ممبئی پولیس نے حادثاتی موت کی رپورٹ درج کی اور تحقیقات کے بعد اسے خودکشی قرار دیا۔ اس واقعے کے صرف چھ روز بعد 14 جون کو سشانت سنگھ راجپوت بھی ممبئی کے باندرہ میں واقع اپنے گھر میں مردہ پائے گئے۔

دونوں اموات کے درمیان انتہائی کم وقفے نے عوامی سطح پر یہ سوال اٹھایا کہ آیا دونوں واقعات ایک دوسرے سے منسلک تھے یا نہیں۔ تاہم دونوں معاملات کی تحقیقات الگ الگ کی گئی تھیں۔

والد نے خودکشی کی کہانی کو چیلنج کیا

دیشا سالیان کے والد ستیش سالیان طویل عرصے سے اپنی بیٹی کی موت کو خودکشی قرار دیے جانے کے خلاف آواز اٹھاتے رہے ہیں۔ انہوں نے گزشتہ برس بمبئی ہائی کورٹ سے رجوع کرتے ہوئے الزام عائد کیا تھا کہ ان کی بیٹی کو اجتماعی زیادتی کے بعد قتل کیا گیا اور بعد میں بااثر افراد نے معاملہ دبانے کی کوشش کی۔

رپورٹس کے مطابق ستیش سالیان نے گزشتہ ہفتے سی بی آئی کے سامنے بھی اپنا بیان ریکارڈ کرایا۔ انہوں نے آدتیہ ٹھاکرے اور ڈینو موریا سمیت متعدد افراد کے خلاف الزامات عائد کیے ہیں، جن کا اب تحقیقاتی ادارہ جائزہ لے گا۔

بمبئی ہائی کورٹ نے پولیس تحقیقات پر سوالات اٹھائے

سی بی آئی تحقیقات کا راستہ بمبئی ہائی کورٹ کے 2 ستمبر کے حکم کے بعد کھلا۔ عدالت نے دیشا سالیان کی موت کی پولیس تحقیقات کے طریقہ کار پر سخت سوالات اٹھاتے ہوئے کیس سی بی آئی کو منتقل کرنے کا حکم دیا تھا۔

رپورٹس کے مطابق عدالت نے سوال کیا کہ چھ سال تک ایف آئی آر کیوں درج نہیں کی گئی اور یہ بھی کہا کہ پولیس کی تحقیقات جواب دینے کے بجائے مزید سوالات پیدا کرتی ہیں۔

عدالت نے کیس میں بعض ’’واضح تضادات‘‘ کی نشاندہی بھی کی اور سوال اٹھایا کہ معاملہ اتنے عرصے تک حادثاتی موت کی رپورٹ تک کیوں محدود رہا۔

عدالت کے سامنے یہ بات بھی آئی کہ دیشا سالیان کے خاندان کو مبینہ طور پر چھ سال گزرنے کے باوجود پوسٹ مارٹم رپورٹ اور حادثاتی موت کی رپورٹ کی نقول فراہم نہیں کی گئی تھیں۔

اب سی بی آئی کیا کرے گی؟

سی بی آئی نے ابتدائی تحقیقات سے متعلق دستاویزات اور ریکارڈ طلب کیے ہیں۔ ادارہ دیشا سالیان کی موت کے حالات کے ساتھ ساتھ موت کے بعد شواہد اور کیس سے متعلق ریکارڈ کو کس طرح سنبھالا گیا، اس کا بھی جائزہ لے گا۔

اس طرح موجودہ تحقیقات صرف 8 جون 2020 کو مالاد کی عمارت میں پیش آنے والے واقعے تک محدود نہیں رہیں گی بلکہ پولیس، فرانزک عملے اور دیگر متعلقہ حکام کی جانب سے بعد کے برسوں میں کی جانے والی کارروائی بھی تفتیش کے دائرے میں آسکتی ہے۔

چھ سال تک خودکشی کے طور پر زیرِ تفتیش رہنے والے دیشا سالیان کیس میں قتل اور اجتماعی زیادتی جیسے سنگین الزامات کے تحت نئی ایف آئی آر کا اندراج ممبئی کی فلمی دنیا سے جڑے سب سے متنازع معاملات میں سے ایک کی ایک بار پھر باقاعدہ تحقیقات کا آغاز ہے۔ تاہم حتمی حقیقت کا تعین سی بی آئی کی تفتیش اور آئندہ قانونی کارروائی سے ہی ہوگا۔
 



Source link

متعلقہ پوسٹ