پمز آتشزدگی میں فی الحال کسی مخصوص شخص کا مجرمانہ قصور ثابت نہیں ہوا: تحقیقاتی رپورٹ

398466 1524607955


اسلام آباد کے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کی نرسری میں 26 اگست کو لگنے والی آگ کی تحقیقات کرنے والی کمیٹی نے واقعے کو ادارہ جاتی اور نظامی ناکامی تو قرار دیا تاہم ساتھ یہ بھی کہا کہ واقعے میں کسی مخصوص شخص کا مجرمانہ قصور ثابت نہیں ہوا۔

وزیر اعظم کی ہدایت کے بعد منگل کو جاری ہونے والی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق پمز انتظامیہ معلوم خطرات اور سابقہ انتباہات کو مؤثر حفاظتی نظام میں تبدیل کرنے میں ناکام رہی، تاہم فی الحال کسی مخصوص فرد کے خلاف مجرمانہ ذمہ داری ثابت نہیں ہوئی۔

کمیٹی نے اے سی یونٹ نمبر دو کی برقی تنصیب اور دیکھ بھال میں ممکنہ کوتاہی، ہنگامی راستے کی رکاوٹ، معلوم انتباہات کے باوجود کارروائی نہ کرنے اور بیرونی امداد طلب کرنے میں ثابت شدہ تاخیر کے معاملات میں مزید فوجداری تحقیقات کی سفارش کی ہے۔

سات ستمبر کو مکمل ہونے والی رپورٹ میں اے سی یونٹ نمبر دو کی برقی تنصیب یا دیکھ بھال میں ممکنہ مجرمانہ کوتاہی، لازمی ہنگامی راستے میں رکاوٹ، مخصوص سابقہ انتباہ کے باوجود کارروائی نہ کرنے اور بیرونی امداد طلب کرنے میں ثابت ہونے والی مجرمانہ تاخیر کو مزید تحقیقات کے لیے اہم پہلو قرار دیا گیا ہے۔

کمیٹی کے مطابق کسی فرد کی مجرمانہ ذمہ داری کے تعین کے لیے اس پر عائد ذمہ داری، خطرے سے آگاہی یا اس کی پیش بینی، کارروائی کا اختیار، کیا گیا عمل یا ترک کیا گیا اقدام، غفلت کی شدت، حفاظتی انتظام کی ناکامی، واقعے میں اس کے کردار اور قابل اطلاق جرم کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جن اہلکاروں نے آگ کے دوران ریسکیو کی کوششیں کیں اور جن کا ردعمل شواہد سے ثابت ہوتا ہے، انہیں صرف اس لیے ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جانا چاہیے کہ واقعے کا نتیجہ انتہائی تباہ کن رہا۔

کمیٹی نے سفارش کی ہے کہ اصلاحاتی اور احتسابی اقدامات بیک وقت اور بلا تاخیر شروع کیے جائیں اور جہاں مریضوں کی فوری حفاظت کا معاملہ ہو وہاں تادیبی، معاہداتی یا فوجداری کارروائی مکمل ہونے کا انتظار نہ کیا جائے۔

آگ کیسے لگی؟

کمیٹی کے مطابق سی سی ٹی وی ریکارڈ سے ظاہر ہوتا ہے کہ آگ صبح تقریباً 6:38 بجے واضح طور پر شروع ہو چکی تھی۔ عملے کے بعض ارکان نے فوری ردعمل دیا اور ایک نرس نے ایک بچے کو بچانے کی کوشش بھی کی، تاہم چند ہی منٹوں میں دھواں اتنا گہرا ہو گیا کہ صورت حال قابو سے باہر ہو گئی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عملے کی جانب سے بچوں کو چھوڑ دینے کا عمومی الزام درست ثابت نہیں ہوتا۔

قومی فرانزک ادارے کی رپورٹ کے مطابق آگ لگنے کا سب سے زیادہ امکانی مقام اے سی یونٹ نمبر دو کی بجلی کی تار تھی، جہاں غالباً زیادہ کرنٹ یا کسی برقی خرابی کے باعث حرارت پیدا ہوئی اور قریب موجود آتش گیر مواد نے آگ پکڑ لی۔

تحقیقاتی کمیٹی نے سازش، دانستہ آتش زنی اور آکسیجن لیک ہونے کے امکانات کو مسترد کر دیا۔

حفاظتی نظام کی سنگین خامیاں

رپورٹ کے مطابق اے سی کی دیکھ بھال کا ریکارڈ صرف یہ ظاہر کرتا ہے کہ یونٹس چلتے رہے، تاہم اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ برقی نظام کو باقاعدگی سے قابل اعتماد حفاظتی معیار کے مطابق جانچا گیا۔

کمیٹی کے مطابق 10 بستروں کی نرسری میں 15 نازک حالت کے نوزائیدہ بچے زیرِ علاج تھے جبکہ وہاں صرف دو ڈاکٹر اور دو نرسیں موجود تھیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نرسری میں کوئی مربوط، منظور شدہ اور عملی مشقوں کے ذریعے آزمایا گیا ہنگامی انخلا کا طریقہ کار موجود ہونے کا ثبوت نہیں ملا۔ اسی طرح خودکار دھواں شناخت، الارم اور فائر سپریشن کا نظام بھی فعال نہیں تھا۔

کمیٹی نے نشاندہی کی کہ 2015 میں وفاقی محتسب کی رپورٹ، سی ڈی اے کی خط و کتابت، پمز کی اپنی 2025 کی رپورٹ اور 6 جولائی 2026 کو نرسنگ ہاسٹل میں لگنے والی آگ پہلے ہی حفاظتی نظام کی کمزوریوں کی نشاندہی کر چکی تھیں، تاہم ان خامیوں کو دور کرنے کے لیے مکمل اور قابلِ تصدیق اقدامات نہیں کیے گئے۔

پورے ہسپتال کا فوری حفاظتی آڈٹ کرنے کی سفارش

کمیٹی نے پمز میں آگ، برقی نظام اور طبی گیسوں سمیت اہم انفراسٹرکچر کا فوری اور عملی حفاظتی آڈٹ کرانے کی سفارش کی ہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

رپورٹ کے مطابق ہر خامی کو خطرے کی نوعیت کے لحاظ سے درجہ بندی کیا جائے اور اسے فوری طور پر دور کیا جائے یا عارضی حفاظتی انتظامات کیے جائیں۔

کمیٹی نے سفارش کی ہے کہ نرسری، نیو نیٹل انتہائی نگہداشت، پیڈیاٹرک انتہائی نگہداشت اور آپریشن تھیٹرز جیسے حساس شعبے صرف اسی صورت فعال رکھے جائیں جب بنیادی حفاظتی تقاضے عملی طور پر پورے اور آزادانہ طور پر تصدیق شدہ ہوں۔

رپورٹ میں خودکار دھواں شناخت، الارم اور فائر سپریشن نظام نصب کرنے، ہنگامی راستوں کی واضح نشاندہی اور انہیں رکاوٹوں سے پاک رکھنے جبکہ بجلی کی کیبلز، ٹرمینلز اور بریکرز کے مسلسل معائنے پر مبنی مستقل حفاظتی پروگرام قائم کرنے کی بھی سفارش کی گئی ہے۔

کمیٹی نے اے سی یونٹ نمبر دو کے برقی سرکٹ کی تنصیب اور دیکھ بھال کے ذمہ دار افسران اور ٹھیکیداروں کی نشاندہی کرنے کی بھی سفارش کی ہے۔

نوزائیدہ بچوں کے انخلا کے لیے خصوصی طریقہ کار

رپورٹ میں نرسری اور نیو نیٹل یونٹس کے لیے مخصوص ہنگامی انخلا کا طریقہ کار (ایس او پی) منظور اور نافذ کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

کمیٹی کے مطابق اس طریقہ کار کو مناسب آلات، افرادی قوت اور باقاعدہ عملی مشقوں کی مدد حاصل ہونی چاہیے۔

اس کے علاوہ ایک مربوط ہنگامی کمانڈ سسٹم قائم کرنے کی تجویز دی گئی ہے جو الارم، بیرونی اداروں کو اطلاع، انخلا اور ریسکیو کے درمیان فوری رابطہ یقینی بنائے۔

رپورٹ میں ہر شفٹ میں ایسے افسران مقرر کرنے کی سفارش بھی کی گئی ہے جو انتظامی منظوری کے سلسلے کے بغیر براہ راست ریسکیو اور فائر بریگیڈ کو اطلاع دے سکیں۔

پمز کی تنظیم نو اور آزاد نگرانی کی سفارش

ادارہ جاتی اصلاحات کے تحت کمیٹی نے پمز کی تنظیمِ نو کی سفارش کی ہے تاکہ انتظامیہ، انجینئرنگ، طبی آلات، مالیات اور ہنگامی انتظام جیسے شعبے تجربہ کار اور اہل پیشہ ور افراد کے سپرد کیے جائیں۔

رپورٹ میں اہم عہدوں پر تقرریاں میرٹ اور متعلقہ قابلیت کی بنیاد پر کرنے اور اصلاحات پر عمل درآمد کی نگرانی کے لیے مستقل نگرانی کمیٹی کے ساتھ ایک آزاد نگران بورڈ قائم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

کمیٹی نے سفارش کی ہے کہ کسی تفویض کردہ اصلاحی اقدام پر بلاجواز عمل درآمد نہ ہونے کی صورت میں انتظامی یا تادیبی کارروائی کی جائے، جبکہ معاہداتی خلاف ورزیوں پر متعلقہ ٹھیکیداروں کے خلاف کارروائی اور قانونی خلاف ورزیوں سے متعلقہ ضابطہ کار اداروں کو آگاہ کیا جائے۔

متاثرہ خاندانوں کے لیے نفسیاتی مدد اور معاوضہ

رپورٹ میں متاثرہ خاندانوں، زندہ بچ جانے والے نوزائیدہ بچے اور متعلقہ عملے کے لیے الگ رفاہی اور رابطہ کار یونٹ قائم کرنے کی سفارش بھی کی گئی ہے۔

یہ یونٹ نفسیاتی مدد اور جائز معاوضے کی شفاف اور تیز فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے کام کرے گا۔

کمیٹی نے حتمی رپورٹ یا اس کے مناسب حد تک نظرثانی شدہ ورژن کو عوامی سطح پر شائع کرنے کی بھی سفارش کی ہے تاکہ واقعے سے ادارہ جاتی سبق حاصل کیا جا سکے اور عوام کا اعتماد بحال کرنے میں مدد ملے۔

رپورٹ پر تحقیقاتی کمیٹی کے پانچوں ارکان، چیئرمین شاہد خان، میجر جنرل (ریٹائرڈ) ڈاکٹر خورشید، بیرسٹر نبیل احمد اعوان، ڈپٹی کمشنر اسلام آباد عرفان نواز میمن اور معاون رکن ڈاکٹر راشد نے دستخط کیے ہیں۔





Source link

متعلقہ پوسٹ