مدینہ، 15 ستمبر 2026: سعودی عرب نے مدینہ کے جبل سعید علاقے میں تقریباً 110 ملین ٹن معدنی مواد کی نشاندہی کی ہے جس میں یورینیم کے ساتھ بھاری نایاب معدنیات کی نمایاں مقدار موجود ہے۔ سعودی وزیر توانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان نے ویانا میں IAEA کی جنرل کانفرنس کے دوران یہ اعلان کیا۔ واضح رہے کہ 110 ملین ٹن خالص یورینیم نہیں بلکہ یورینیم رکھنے والے مجموعی معدنی مواد کی مقدار ہے۔
ریاض اس دریافت کو اپنے قومی جوہری توانائی پروگرام سے جوڑ رہا ہے۔ وزیر توانائی کے مطابق یورینیم کی تلاش، اقتصادی استعمال اور کان کنی سے لے کر پراسیسنگ اور افزودگی تک کے امکانات پر کام جاری ہے، جس میں فرانسیسی کمپنی Orano کا تعاون بھی شامل ہے۔ یہ اعلان سعودی عرب اور امریکہ کے درمیان جولائی 2026ء میں ہونے والے سول جوہری تعاون کے معاہدے کے چند ہفتے بعد سامنے آیا۔
عبدالعزیز بن سلمان نے واضح کیا کہ سعودی عرب کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے اور یہ عالمی برادری اور IAEA کے ساتھ تعاون سے چلایا جا رہا ہے، خفیہ تنصیبات کے ذریعے نہیں۔ ماہرین کے مطابق سعودی عرب میں ابھی تک تجارتی سطح پر یورینیم کی پیداوار نہیں ہوئی اور ملک کے پاس افزودگی کی تنصیب بھی موجود نہیں، اس لیے اس دریافت کو فوری طور پر جوہری خودکفالت کے مترادف قرار نہیں دیا جا سکتا۔

