وی لاگنگ کا تاریخی پس منظر 1990 کی دہائی کے آخر اور 2000 کی دہائی کے اوائل سے جڑا ہوا ہے، جب انٹرنیٹ کی رسائی میں اضافہ ہوا اور ویڈیو اسٹریمنگ ٹیکنالوجیز نے عام صارفین کے لیے ویڈیوز بنانا اور شیئر کرنا آسان کر دیا۔
اس دور میں آن لائن اظہارِ خیال کے ذرائع محدود تھے چنانچہ 2003 میں گوگل نے اُن افراد کے لیے بلاگنگ کا آغاز کیا جو لکھنا چاہتے تھے مگر اُن کے پاس اپنے خیالات دوسروں تک پہنچانے کے لیے کوئی موزوں پلیٹ فارم موجود نہ تھا، یا وسائل کی کمی کے باعث وہ اپنا مضمون کسی اخبار، رسالے یا کتابی صورت میں شائع نہیں کر سکتے تھے۔
چنانچہ ’’Blogger.com‘‘ کی شکل میں گوگل نے ایسے لکھنے والوں کو ایک آزاد اور عالمی سطح کا فورم فراہم کیا جہاں وہ اپنی تحریریں بلا معاوضہ شائع کرسکتے تھے۔ بلاگ کی تیزی سے بڑھتی ہوئی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے گوگل نے کچھ ہی عرصے بعد بلاگ میں ویڈیو اپ لوڈ کرنے کا آپشن متعارف کرایا، جس نے ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک نیا انقلاب برپا کر دیا۔
یہی وہ لمحہ تھا جب تحریری بلاگنگ آہستہ آہستہ ویڈیو بلاگنگ یا وی لاگنگ میں تبدیل ہونے لگی، اور انسانی اظہار ایک نئے بصری دور میں داخل ہوا۔ اس کے بعد 2005 میں YouTube کے قیام نے وی لاگنگ کے تصور کو عالمی سطح پر غیر معمولی فروغ دیا۔
یہ پلیٹ فارم اس قدر سہل اور جامع تھا کہ عام صارف بھی چند کلکس کے ذریعے اپنی ویڈیوز دنیا بھر میں شائع کر سکتا تھا۔ ابتدائی وی لاگرز نے اپنی روزمرہ زندگی، مشاہدات، خیالات اور تجربات کو کیمرے میں محفوظ کر کے اپ لوڈ کرنا شروع کیا، جس سے ایک نئی قسم کی ڈیجیٹل ثقافت وجود میں آئی۔
2006 سے 2010 کے دوران ہائی اسپیڈ انٹرنیٹ، اسمارٹ فونز اور ڈیجیٹل کیمروں کی دستیابی نے اس رجحان کو مزید تقویت بخشی۔ رفتہ رفتہ وی لاگنگ صرف ذاتی اظہار یا تفریح کا ذریعہ نہ رہی بلکہ تعلیم، اشتہارات، صحافت، اور سماجی مہمات کے لیے بھی ایک مؤثر ترین پلیٹ فارم بن گئی۔ یوں چند منٹ کی ویڈیوز نے الفاظ سے زیادہ اثر پیدا کرنا شروع کیا اور دنیا نے اظہار کے ایک نئے، تیز رفتار اور عالمگیر انداز کو اپنایا۔
وی لاگنگ کا آغاز دراصل انٹرنیٹ کے اُس دور میں ہوا جب 2000 کے وسط میں یوٹیوب جیسی ویڈیو شیئرنگ ویب سائٹس عام صارفین کی دسترس میں آئیں۔ اس نئے ڈیجیٹل پلیٹ فارم نے ہر شخص کو یہ موقع دیا کہ وہ اپنی آواز، خیالات اور تجربات دنیا کے سامنے پیش کرے۔
وی لاگنگ (Video Blogging) یا ویڈیو بلاگنگ کی ابتدا کا سہرا اُن چند افراد کے سر جاتا ہے جنہوں نے 2000 کی دہائی کے اوائل میں ویڈیو مواد کے ساتھ تجربات کیے۔ ان میں چند اہم نام درج ذیل ہیں:
ایڈم کونٹراس (Adam Kontras): انہیں پہلا وی لاگر قرار دیا جاتا ہے۔ انہوں نے سال 2000 میں ایک مختصر ویڈیو پوسٹ کی جس میں وہ لاس اینجلس منتقل ہونے کے اپنے سفر کی روداد بیان کر رہے تھے۔
ایڈریان مائلز (Adrian Miles): 2000 میں انہوں نے ایک ویڈیو شائع کی جس میں ایک جامد تصویر پر بدلتا ہوا متن دکھایا گیا۔ انہوں نے ہی "Vog” کی اصطلاح وضع کی، جسے بعد میں ویڈیو بلاگ (Vlog) کہا جانے لگا۔
اسٹیو گارفیلڈ (Steve Garfield): ایک ویڈیو گرافر تھے جنہوں نے 2004 میں اپنے بلاگ پر مختصر ویڈیوز اپ لوڈ کرنا شروع کیں۔ اسی سال کو انہوں نے "The Year of the Video Blog” یعنی "ویڈیو بلاگنگ کا سال” قرار دیا۔ انہیں وی لاگنگ کا باپ (Father of Vlogging) بھی کہا جاتا ہے۔
لوک باؤمین (Luuk Bouwman): انہوں نے 2002 میں “Tropisms” نامی ویب سائٹ شروع کی، جو ان کے گریجویشن کے بعد کے سفر کی ویڈیو ڈائری تھی۔ یہ ان ابتدائی ویب سائٹس میں سے ایک تھی جسے "وی لاگ” یا "ویڈیو لاگ” کہا گیا۔
جاوید کریم (Jawed Karim): یوٹیوب کے بانیوں میں سے ایک، جنہوں نے 23 اپریل 2005 کو “Me at the zoo” کے عنوان سے پہلی یوٹیوب وی لاگ ویڈیو اپ لوڈ کی، جس نے عام لوگوں کے ویڈیو مواد بنانے کے رجحان کی بنیاد رکھی۔
یہ ابتدائی وی لاگرز وہ رہنما ثابت ہوئے جنہوں نے آج کے مقبول ویڈیو پلیٹ فارمز، خاص طور پر یوٹیوب، کے لیے راہ ہموار کی۔
ابتدائی دور میں وی لاگنگ زیادہ تر "روزمرہ کے بلاگز” یا "ذاتی ڈائری” کے طور پر تھی، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ اس نے مختلف صنفیں اختیار کیں، جیسے سفر کے وی لاگز، ٹیکنالوجی کے جائزے، تعلیمی وی لاگز، اور تفریحی وی لاگز۔ ابتدائی ویڈیوز کی مدت عموماً چند منٹ کی ہوتی تھی، مگر ان میں ناظرین کے ساتھ تعلق اور اعتماد پیدا کرنے کی طاقت ہوتی تھی۔
کاروباری افراد اور برانڈز بھی وی لاگنگ کو مارکیٹنگ اور پروموشن کے لیے استعمال کرتے ہیں کیونکہ ویڈیو فارمیٹ زیادہ پرکشش اور یادگار ہوتا ہے۔ ڈیجیٹل مارکیٹنگ کی دنیا میں وی لاگنگ نے صارفین کے ساتھ براہِ راست تعلقات قائم کرنے کا موقع فراہم کیا، اور مشغولیت کی شرح کو بڑھایا۔
لائیک، ویوز اور کمنٹس حاصل کرنے کے لیے ویڈیوز کو دلچسپ، معلوماتی اور ناظرین کی دلچسپی کے مطابق ہونا ضروری ہے۔ ویڈیوز کی لمبائی 7 سے 12 منٹ کے درمیان ہونے پر ناظرین زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں۔
ویڈیوز کو اپلوڈ کرنے کے لیے سب سے مؤثر پلیٹ فارمز یوٹیوب، انسٹاگرام اور ٹک ٹاک ہیں، کیونکہ یہ پلیٹ فارم الگورتھمز کے لحاظ سے ناظرین کو نئے اور متعلقہ مواد دکھاتے ہیں، جس سے پہنچ بڑھتی ہے۔
دنیا بھر میں وی لاگنگ کے رجحان کو مقبولیت کی بلند ترین سطح تک پہنچانے میں چند نمایاں شخصیات کا کردار بنیادی رہا ہے۔ ان میں PewDiePie (سویڈن)، Casey Neistat (امریکہ)، Zoella (برطانیہ) اور MrBeast (امریکہ) قابلِ ذکر ہیں، جن کے وی لاگز نے عالمی سطح پر ڈیجیٹل کلچر کی تشکیل میں نمایاں کردار ادا کیا۔
PewDiePie، جن کا اصل نام Felix Kjellberg ہے، یوٹیوب کے سب سے زیادہ سبسکرائب کیے جانے والے انفرادی کنٹینٹ کری ایٹرز میں شامل ہیں، جن کے سبسکرائبرز کی تعداد 110 million سے زیادہ رہی اور ان کے گیمنگ و لاگز نے انٹرنیٹ انٹرٹینمنٹ کے معیارات کو ازسرِنو متعین کیا۔
Casey Neistat نے 2015 تا 2019 کے دوران روزانہ وی لاگز کے ایک منفرد سلسلے کے ذریعے شہری زندگی، خود انکشاف (self-expression) اور بیانیہ ویڈیو اسٹائل کو نئی شناخت دی، جسے یوٹیوب کلچر کی "creative renaissance” کہا گیا۔
برطانوی وی لاگر Zoella، جن کا اصل نام Zoe Sugg ہے، نے لائف اسٹائل اور بیوٹی بلاگنگ کو وی لاگنگ کے دائرے میں لا کر خواتین ناظرین کے لیے ایک نیا ڈیجیٹل پلیٹ فارم مہیا کیا، اور ان کے چینل پر ویڈیوز کے ویوز کی مجموعی تعداد 1 billion سے زیادہ رہی۔ جدید وی لاگنگ کے موجودہ مرحلے میں MrBeast، یعنی Jimmy Donaldson، نے philanthropic اور challenge-based وی لاگز کے ذریعے نہ صرف وی لاگنگ کو ایک اقتصادی ماڈل میں بدلا بلکہ اس کے وائرل اثرات کو نیا معنی دیا۔
ان کے ویڈیوز اکثر 100 million views سے زیادہ حاصل کرتے ہیں، اور ان کی پیش کردہ “giving culture” نے یوٹیوب کمیونٹی میں خیراتی سرگرمیوں کے ایک نئے رجحان کو جنم دیا۔ ان تمام وی لاگرز کے کام نے اجتماعی طور پر وی لاگنگ کو محض ذاتی اظہار کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک سماجی، معاشی اور ثقافتی مظہر میں تبدیل کر دیا ہے، جو آج کے ڈیجیٹل عہد میں (media influence) کی نئی تعریف طے کرتا ہے۔
پاکستان میں بھی وی لاگنگ کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ وی لاگنگ سے ایک فائدہ تو یہ ہوا کہ ملکی سطح پر سیر و سیاحت کو فروغ ملا، معلومات کا تبادلہ تیزی سے بڑھا۔ گاؤں دیہات کے درمیان جو خلا تھا وہ بڑی آسانی سے کم ہوگیا۔آج کے ڈیجیٹل دور میں نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد وی لاگنگ میں مصروف دکھائی دیتی ہے، کیوں کہ یہ نہ صرف کمائی کا ایک تیز اور آسان ذریعہ بن چکا ہے بلکہ شہرت حاصل کرنے کا بھی مؤثر وسیلہ ہے۔
دنیا بھر میں لاکھوں نوجوان یوٹیوب، انسٹاگرام، فیس بک اور ٹک ٹاک جیسے پلیٹ فارمز پر اپنی تخلیقی صلاحیتیں پیش کر رہے ہیں۔ Statista (2024) کی ایک رپورٹ کے مطابق دنیا کے تقریباً 54% نوجوان (عمر 18 تا 29 سال) ایسے ہیں جو کسی نہ کسی صورت میں آن لائن ویڈیو مواد تخلیق یا شیئر کرتے ہیں۔ اسی طرح Pew Research Center (2023) کے مطابق امریکہ کے 80% نوجوان صارفین وی لاگرز یا آن لائن ویڈیو کری ایٹرز کو باقاعدگی سے دیکھتے ہیں، جو اس رجحان کے عالمی پھیلاؤ کی واضح علامت ہے۔
یہ رجحان خصوصاً اُن نوجوانوں میں زیادہ دیکھا گیا ہے جو اداکاری، میڈیا یا پرفارمنس آرٹس سے دلچسپی رکھتے ہیں۔ ماضی میں جنہیں ٹی وی یا فلم انڈسٹری تک رسائی نہیں ملتی تھی، آج وہ صرف ایک اسمارٹ فون اور انٹرنیٹ کنکشن کے ذریعے اپنی شناخت قائم کر سکتے ہیں۔ وی لاگنگ نے دراصل تفریحی اور صحافتی اظہار کو ایک عوامی تجربے میں بدل دیا ہے۔
کوئی دلچسپ واقعہ، سماجی منظر یا روزمرہ تجربہ اگر اسے تخلیقی انداز میں کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کر کے پیش کیا جائے تو وہ لاکھوں ناظرین تک پہنچ سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یوٹیوب جیسے پلیٹ فارمز نے ’’Citizen Journalism‘‘ کے تصور کو عام کر دیا ہے، جہاں ہر فرد اپنے مشاہدات اور آراء کو ویڈیو کی صورت میں نشر کر سکتا ہے۔
پاکستان میں انٹرنیٹ اور اسمارٹ فون کی تیز رفتار رسائی نے اس شعبے کو مزید فروغ دیا ہے۔ Pakistan Telecommunication Authority (PTA) کے اعدادوشمار کے مطابق 2024 تک ملک میں Broadband Users کی تعداد 130 Million سے تجاوز کر گئی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ نوجوانوں کے لیے ڈیجیٹل مواد کی تخلیق ایک فعال ذریعہ معاش بنتی جا رہی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ یونیورسٹیاں اور میڈیا ادارے اب وی لاگنگ، ڈیجیٹل مارکیٹنگ اور سوشل میڈیا جرنلزم جیسے نئے کورسز متعارف کرا رہے ہیں تاکہ اس بڑھتے ہوئے رجحان کو پیشہ ورانہ سمت دی جا سکے۔
وی لاگنگ سے entrepreneurship کے مواقع بھی ملتے ہیں، کیونکہ اسپانسرشپ، برانڈ کولیبریشنز، اور affiliate marketing کے ذریعے آمدنی حاصل کی جا سکتی ہے۔
وی لاگنگ سے آمدنی مختلف عوامل پر منحصر ہوتی ہے: ویوز، سبسکرائبرز، مشغولیت کی شرح، اور اسپانسرشپ ڈیلز۔
یوٹیوب کے مطابق، ایک ویڈیو جس کے پاس تقریباً 100,000 ویوز ہیں، وہ تقریباً 1000 سے 2000 ڈالر تک کمائی کر سکتی ہے، جبکہ برانڈ اسپانسرشپ اور affiliate marketing کے ذریعے یہ رقم کہیں زیادہ بھی ہو سکتی ہے۔
TikTok اور Instagram پر بھی وی لاگرز audience size اور engagement کے حساب سے آمدنی حاصل کرتے ہیں۔ TikTok پر وائرل ویڈیوز کے ذریعے کم از کم 500 سے 1000 ڈالر فی مہینہ کی آمدنی ممکن ہے، جبکہ انسٹاگرام پر اسپانسر شدہ پوسٹس اور اسٹوریز سے بھی اچھا منافع حاصل ہوتا ہے۔
وی لاگنگ کے لیے سب سے زیادہ کامیاب پلیٹ فارم کا انتخاب ویڈیو کی نوعیت، ناظرین کی ترجیحات اور مشغولیت پر منحصر ہوتا ہے۔ عالمی سطح پر یوٹیوب سب سے زیادہ مستحکم اور کامیاب پلیٹ فارم ہے کیونکہ یہاں وی لاگرز کو اشتہارات، اسپانسرشپ اور مصنوعات کی فروخت کے ذریعے مستقل آمدنی کے مواقع دستیاب ہیں۔
ٹک ٹاک نوجوانوں کے درمیان وائرل ہونے کے لیے زیادہ تیز رفتار پلیٹ فارم ہے، کیونکہ یہاں مختصر ویڈیوز، trending challenges اور وائرل ہیش ٹیگز کے ذریعے ویوز جلد حاصل ہوتے ہیں۔ انسٹاگرام بھی چھوٹے اثر رکھنے والے افراد اور lifestyle، fashion، travel، اور food content کے لیے مؤثر پلیٹ فارم ہے، جہاں اسٹوریز،اور ریلس.
IGTV (Instagram TV)
2018 میں متعارف کرائی گئی انسٹاگرام کی ویڈیو سروس تھی، جو طویل اور عمودی ویڈیوز شیئر کرنے کے لیے بنائی گئی تھی۔
یوٹیوب دنیا کا سب سے بڑا ویڈیو پلیٹ فارم ہے جو اپنے تخلیق کاروں کی خدمات اور کارکردگی کے اعتراف میں انہیں مختلف اعزازات اور مراعات فراہم کرتا ہے۔ یوٹیوب کے Creator Awards کو عموماً ’’پلے بٹن‘‘ کہا جاتا ہے۔ یہ اعزازات کسی چینل کے سبسکرائبرز کی تعداد کے مطابق دیے جاتے ہیں
یوٹیوب پر Silver Play Button حاصل کرنے کے لیے کسی بھی چینل کو 100,000 سبسکرائبرز (یعنی ایک لاکھ صارفین) کا ہدف مکمل کرنا ہوتا ہے۔ یہ YouTube Creator Awards کا پہلا درجہ ہے اور اس اعزاز کو حاصل کرنا اس بات کی علامت سمجھا جاتا ہے کہ تخلیق کار (Creator) نے محنت، مستقل مزاجی اور اثر انگیزی کے ساتھ اپنا مقام بنایا ہے۔
یوٹیوب کے Play Button Awards کے درجے درج ذیل ہیں:
Silver Play Button — جب چینل کے سبسکرائبرز 100,000 ہوں۔
Gold Play Button — جب سبسکرائبرز کی تعداد 1,000,000 (یعنی دس لاکھ) تک پہنچ جائے۔
Diamond Play Button — جب سبسکرائبرز 10,000,000 (یعنی ایک کروڑ) ہو جائیں۔
Red Diamond Play Button — جب سبسکرائبرز 100,000,000 (یعنی دس کروڑ) سے زیادہ ہوں۔
جب کوئی یوٹیوبر 100,000 سبسکرائبرز کا ہدف حاصل کر لیتا ہے تو یوٹیوب اس کے چینل کا جائزہ لیتا ہے تاکہ یہ یقین کیا جا سکے کہ وہ پلیٹ فارم کے Community Guidelines (کمیونٹی اصولوں) پر پورا اترتا ہے۔
تصدیق کے بعد یوٹیوب کی جانب سے ایک نوٹیفکیشن موصول ہوتا ہے جس کے ذریعے وہ تخلیق کار اپنا Silver Play Button Award وصول کر سکتا ہے۔
اس کے علاوہ Red
Diamond Play Button صرف اُن چند یوٹیوبرز کو ملا ہے جن کے سبسکرائبرز 100 Million سے زیادہ ہیں۔ پلے بٹن پر چینل کا نام کندہ ہوتا ہے اور یہ یوٹیوب کی طرف سے تخلیق کار کی شہرت اور تسلسل کی باضابطہ توثیق سمجھا جاتا ہے۔
Social Blade ایک معتبر ڈیجیٹل اینالیٹکس پلیٹ فارم ہے جو YouTube، Instagram، TikTok اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے وی لاگرز کے اعدادوشمار فراہم کرتا ہے۔ اس کے ذریعے ویوز، سبسکرائبرز، اپلوڈ فریکوئنسی، آمدنی کے تخمینے، اور گلوبل و ملکی درجہ بندی جیسے ڈیٹا حاصل کیا جا سکتا ہے۔
تحقیقی اور تجزیاتی مضامین میں Social Blade کا حوالہ استعمال کرکے وی لاگرز کی مقبولیت اور اثرات کو مستند انداز میں بیان کیا جا سکتا ہے، کیونکہ یہ 2008 سے ڈیجیٹل میڈیا ریسرچ میں قابل اعتماد ماخذ کے طور پر استعمال ہو رہا ہے۔
YPP
YouTube Partner
Program
یہ یوٹیوب کا سرکاری پروگرام ہے جو وی لاگرز کو اپنے چینل پر ویڈیوز سے آمدنی (Monetization) حاصل کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ اس پروگرام کے ذریعے وی لاگرز اپنے ویڈیوز پر اشتہارات چلا سکتے ہیں، ناظرین کی مالی معاونت Memberships یا Super Chat کے ذریعے حاصل کر سکتے ہیں، اور YouTube Premium Revenue کے حصے کے طور پر بھی آمدنی کما سکتے ہیں۔
YPP میں شمولیت کے لیے چینل پر کم از کم 1,000 سبسکرائبرز ہونا اور پچھلے 12 ماہ میں 4,000 گھنٹے واچ ٹائم مکمل ہونا ضروری ہے، نیز یوٹیوب کی Community Guidelines اور AdSense پالیسیاں پر عمل کرنا لازمی ہے۔ یوں YPP وی لاگرز کے لیے اپنے مواد سے آمدنی حاصل کرنے کا ایک مستند اور قانونی ذریعہ فراہم کرتا ہے۔
یوٹیوب اپنے Partner کے ذریعے وی لاگرز کو اشتہارات کی آمدنی میں سے 55% حصہ دیتا ہے، جب کہ 45% یوٹیوب کے پاس رہتا ہے۔ آمدنی کا تعین ویوز کی تعداد پر نہیں بلکہ CPM (Cost Per Mille) پر ہوتا ہے، جو ہر ملک اور مواد کے نوعیت کے لحاظ سے مختلف ہے۔
عمومی طور پر ایک وی لاگر 1 Million views سے 100ڈالر تا 1,000ڈالر کماتا ہے۔
تحقیقی رپورٹس کے مطابق کامیاب ٹک ٹاکرز اپنی وائرل ویڈیوز، برانڈ اشتہارات اور لائیو گفٹس کے ذریعے اوسطاً 5,000 تا 10,000 ڈالر ماہانہ تک کما لیتے ہیں، جبکہ انسٹاگرام پر زیادہ interactive پوسٹس اور اسپانسرڈ اسٹوریز رکھنے والے انفلوئنسرز بھی ہزاروں ڈالر کی آمدنی حاصل کرتے ہیں۔
پاکستان میں یہ شرح نسبتاً کم ہے، جہاں کامیاب وی لاگرز اور ٹک ٹاکرز اوسطاً 200 تا 1,000 ڈالر ماہانہ کماتے ہیں۔
پاکستان میں بھی یوٹیوب تیزی سے تخلیقی معیشت کا اہم جزو بن چکا ہے۔ پاکستانی وی لاگر آمنہ ریاض، جن کا چینل Kitchen with Amna کے نام سے معروف ہے، پہلی پاکستانی خاتون ہیں جنہیں یوٹیوب کی جانب سے Gold Play Button سے نوازا گیا۔
پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی (PTA) کے مطابق 2024 تک ملک میں Broadband Users کی تعداد 130 Million سے تجاوز کر چکی ہے، جس سے وی لاگنگ کا دائرہ غیر معمولی حد تک پھیل چکا ہے۔
اکثر وڈیوز غیر متوقع طور پر وائرل ہو جاتی ہیں اور یہ وائرل کلچر ہی آج کی ڈیجیٹل دنیا کا اہم رجحان بن چکا ہے۔ مثال کے طور پر فروری 2021 میں پاکستانی نوجوان دنانیر مبین کی صرف چار سیکنڈ کی ویڈیو ’’یہ ہماری پاری ہو رہی ہے‘‘ نے غیر معمولی شہرت حاصل کی۔
یہ ویڈیو اتنی وائرل ہوئی کہ اس کے میمز بنے، مختلف ممالک کے چینلز پر نشر ہوئی، اور دنانیر کو بطور ’’کنٹینٹ کری ایٹر‘‘ شناخت ملی۔ اب وہ اپنے بلاگز میں لائف اسٹائل، ذہنی صحت اور خواتین سے متعلق موضوعات پر بات کرتی ہیں۔ غیر ارادی طور پر وائرل ہونے ویڈیو ’’ اوئے۔۔۔پیچھے تو دیکھو‘‘سے مقبولیت حاصل کرنے والا بچہ پاکستان کا کم عمر یوٹیوبر بن گیا.
مواد کی ملکیت کی حفاظت کے لیے ویڈیوز پر کاپی رائٹ کلیم یا واٹرمارک لگانا بھی لازمی ہے تاکہ دوسروں کی جانب سے غیر قانونی اپ لوڈنگ روکی جا سکے۔

