حوثیوں کا سعودی عرب پر تازہ حملوں کا دعویٰ: پاکستان کی مکہ ڈرون حملے کی مذمت

398494 1090066956


پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف اور اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) نے بدھ کو مکہ پر ڈرون حملے کی کوشش کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔

سعودی عرب نے بدھ کی صبح بتایا تھا کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے مکہ مکرمہ کی فضائی حدود میں داخل ہونے کی کوشش کرنے والے ایک ڈرون کو مار گرایا ہے۔

 یہ واقعہ حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کے خلاف حملوں میں ایک بڑی شدت کے طور پر سامنے آیا ہے۔

ڈرون کو منگل کی شام سعودی وقت کے مطابق چھ بج کر 50 منٹ پر مکہ مکرمہ کے جنوب میں روک کر تباہ کیا گیا۔

حوثیوں کے نئے حملے کے دعوے

حوثیوں نے بدھ کو دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے سعودی عرب کی جانب سے کیے گئے فضائی حملوں کے جواب میں بحیرہ احمر کے ساحلی شہر ینبع میں آرامکو کی ایک تنصیب اور جنوبی سعودی عرب میں ایک ایئر بیس کو نشانہ بنایا۔

اے ایف پی کے مطابق حوثیوں کے فوجی ترجمان یحییٰ ساری نے کہا کہ سعودی عرب نے اس ہفتے یمن پر 450 سے زیادہ فضائی حملے کیے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس کے جواب میں انہوں نے ’ینبع میں آرامکو کی تنصیب کو درجنوں بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا‘ جس کے نتیجے میں وہاں آگ بھڑک اٹھی، جبکہ ’خمیس مشیط ایئر بیس‘ کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

پاکستان کی شدید مذمت

وزیر اعظم شہباز شریف نے ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ ’میں مکہ مکرمہ کے مقدس مقام پر ڈرون حملے کی گھناؤنی اور مذموم کوشش کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتا ہوں۔‘

انہوں نے کہا کہ ’پاکستانی عوام اس اشتعال انگیز اقدام پر رنجیدہ اور مضطرب ہیں۔ اس قابلِ مذمت اور ناقابلِ معافی اقدام پر ہمارے دلوں میں موجود گہرے دکھ اور کرب کو بیان کرنے کے لیے الفاظ ناکافی ہیں۔‘

شہباز شریف نے مزید کہا کہ ’ہم شاہی سعودی مسلح افواج کی غیر معمولی جرأت اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں، جنہوں نے فوری اور بہادرانہ کارروائی کرتے ہوئے اس کوشش کو ناکام بنایا۔‘

حملے سے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے: او آئی سی

دوسری جانب اسلامی تعاون تنظیم نے بھی مکہ کی جانب ڈرون حملے کی کوشش کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ان حملوں سے بے گناہ شہریوں میں خوف و ہراس پھیلتا ہے، مقدس مقامات اور مساجد کی حرمت پامال ہوتی ہے اور دنیا بھر کے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوتے ہیں۔‘

اسلامی تعاون تنظیم کے جنرل سیکریٹریٹ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’مقدس مقامات، مساجد اور شہری بنیادی ڈھانچے کے خلاف حوثی ملیشیا کی کارروائیاں دہشت گردی کے زمرے میں آتی ہیں، جو اسلامی اقدار کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی اصولوں، ضوابط اور قانون کے بھی منافی ہیں۔‘

او آئی سی نے زور دیا کہ ’مقدس مقامات کی حرمت کی خلاف ورزی ناقابلِ قبول اور ناقابلِ برداشت اقدام ہے، جس کے مرتکبین کو روکنا اور ایسے عناصر کا راستہ بند کرنا ضروری ہے جو ان مقامات کی حرمت پامال کرنے کی جرأت کریں۔‘

عرب لیگ کی مذمت

عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل نبیل فہمی نے بدھ کو سعودی عرب میں مکہ کو نشانہ بنانے کی یمنی حوثیوں کی مبینہ کوشش کی مذمت کی ہے۔

انہوں نے ایک بیان میں کہا: ’مکہ کی سلامتی اور اسلامی مقدس مقامات کے تقدس کو نقصان پہنچانا انتہائی سنگین معاملہ ہے۔‘

انہوں نے سعودی فضائیہ کی جانب سے حملہ ناکام بنانے کو سراہا۔

نبیل فہمی نے خبردار کیا کہ سعودی سرزمین پر حوثیوں کے بڑھتے ہوئے حملے ’خطے کی سلامتی اور استحکام کے لیے خطرہ ہیں۔‘

مکہ کے قریب ڈرون حملے پر انڈیا کا ردعمل

انڈیا کی وزارت خارجہ نے بدھ کو مکہ کے قریب ڈرون حملے پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے تشویش کا اظہار کیا ہے۔

انڈین وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا: ’’ہمیں مکہ کے قریب ڈرون حملے پر گہری تشویش ہے۔ انڈیا سعودی عرب کی خودمختار سرزمین پر حملوں اور شہریوں کی زندگیوں اور بنیادی ڈھانچے کو خطرے میں ڈالنے والے اقدامات کی مذمت کا اعادہ کرتا ہے۔‘

بیان میں مزید کہا گیا کہ ’مکہ کے قریب یہ واقعہ خاص طور پر تشویش ناک ہے، کیونکہ یہ شہر دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے خاص اہمیت رکھتا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ خطے میں جلد ہی امن و استحکام بحال ہو جائے گا۔‘

اس سے قبل یمن میں اتحادی افواج کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے بدھ کی صبح جاری ایک بیان میں کہا کہ مکہ مکرمہ کو نشانہ بنانے کی کوشش ’ریڈ لائن‘ ہے۔

مکہ مکرمہ اسلام کا مقدس ترین مقام ہے اور ایران کے حمایت یافتہ گروہ کی جانب سے اس مقدس شہر کی فضائی حدود میں ڈرون بھیجنے کی کوشش سے دنیا بھر کے لاکھوں مسلمانوں میں تشویش پیدا ہونے کا امکان ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ مکہ مکرمہ اسلام کے اہم ترین ارکان میں سے ایک حج کا مرکز بھی ہے، جس کے لیے مسلمان اس شہر اور اس کے مقدس مقامات کا رخ کرتے ہیں۔

اتحادی افواج نے کہا کہ حوثیوں کی یہ کوشش ’دہشت گرد حوثی ملیشیا کی خلاف ورزیوں کے ریکارڈ پر ایک سیاہ دھبہ‘ رہے گی اور اسے لاکھوں مسلمانوں کے جذبات بھڑکانے کی دانستہ کوشش قرار دیا۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ مکہ مکرمہ کے اطراف حوثیوں کی جانب سے داغا گیا میزائل یا دیگر ہتھیار مار گرایا گیا ہو۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

2017 میں سعودی فضائی دفاعی نظام نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے مکہ مکرمہ کی طرف داغا گیا ایک بیلسٹک میزائل بھی روک کر تباہ کیا تھا۔

عرب اتحادی افواج کی کمان کے مطابق اس میزائل کو طائف صوبے کے علاقے الوسیلیہ کے اوپر مار گرایا گیا تھا۔ اس واقعے میں کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی تھی۔

حوثیوں کی جانب سے پیر کو بھی خمیس مشیط، ابہا اور طائف میں شہری علاقوں کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنانے کے نتیجے میں 13 شہری زخمی ہوئے تھے۔

گذشتہ ہفتے بھی حوثی حملوں میں سعودی عرب کے مختلف شہروں اور قصبوں میں 70 سے زائد افراد زخمی ہوئے تھے، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے۔

سعودی عرب نے جمعے کے روز ریاض اور مدینہ کے علاقوں میں متعدد ڈرون حملوں کے بعد اپنی ایسٹ-ویسٹ آئل پائپ لائن کو عارضی طور پر بند کر دیا تھا۔

خلیجی اور مسلم تنظیموں نے پائپ لائن پر حملوں کی مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔





Source link

متعلقہ پوسٹ