آسٹریلیا کے سات سابق کرکٹ کپتانوں نے انسانیت کی بنیاد پر عمران خان کی حراست پر تشویش کا اظہار کیا

Imran Khan


آسٹریلیا کے سات سابق کرکٹ کپتانوں نے پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان کی مسلسل حراست اور ان کے علاج کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے وزیر خارجہ پینی وونگ کو خط لکھ کر کہا کہ ان کی تشویش خان کے سیاسی یا قانونی معاملوں کے بارے میں نہیں، بلکہ حراست میں کسی شخص کے ساتھ کیے جانے والے انسانی سلوک کے بارے میں ہے۔

Imran Khan
پاکستان تحریک انصاف کے بانی اور سابق وزیر اعظم عمران خان۔ (تصویر: یوٹیوب/پی ٹی آئی اسکرین شاٹ)

نئی دہلی: آسٹریلیا کے سات سابق کرکٹ کپتانوں نے سابق پاکستانی وزیر اعظم اور ورلڈ کپ جیتنے والے کپتان عمران خان کی مسلسل حراست پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

انہوں نے اس سلسلے میں آسٹریلیا کی وزیر خارجہ پینی وونگ کو خط لکھ کر خان کی حراست کے دوران ان کے ساتھ کیے جانے والے سلوک پر سوال اٹھائے ہیں۔ یہ جانکاری ای ایس پی این نے دی ہے۔

خط پر دستخط کرنے والوں میں ایلن بارڈر، گریگ چیپل، ایان چیپل، بیلنڈا کلارک، کِم ہیوز، مارک ٹیلر اور اسٹیو وا شامل ہیں۔

سابق آسٹریلیائی کپتانوں نے واضح کیا ہے کہ انہوں نے یہ خط سفارت کاروں یا سیاسی شخصیات کی حیثیت سے نہیں بلکہ سابق کرکٹ کپتانوں کی حیثیت سے لکھا ہے، جنہیں اس معاملے پر آواز اٹھانا ضروری محسوس ہوا۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ خان کے خلاف جاری قانونی یا سیاسی معاملوں پر کوئی مؤقف اختیار نہیں کر رہے۔ ان کے مطابق، یہ معاملہ پوری طرح  پاکستان کا ہے۔

سابق کرکٹروں نے کہا کہ ان کی تشویش حراست میں رکھے گئے کسی بھی شخص کے ساتھ کیے جانے والے سلوک کو لے کر ہے۔ انہوں نے اسے ان کی سیاست سے الگ ’بنیادی انسانیت کا معاملہ‘ بتایا۔

خط میں کہا گیا ہے کہ عمران خان کے بیٹوں اور بہنوں نے گزشتہ کئی مہینوں سے عوامی طور پر ان کی صحت اور حراست میں ان کے ساتھ کیے جانے والے سلوک پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ خاندان کی جانب سے محدود طبی سہولیات، خاندان سے ملاقات پر پابندی اور قانونی مشورے تک انتہائی محدود رسائی جیسےخدشات کا اظہار کیا ہے۔

ای ایس پی این کے مطابق، خط پر دستخط کرنے والے گریگ چیپل نے گزشتہ مہینے وزیر خارجہ پینی وونگ سے ملاقات کی درخواست بھی کی تھی۔ وہ اس گروپ کی جانب سے اس معاملے پر بات کرنا چاہتے تھے، لیکن انہیں اب تک کوئی جواب نہیں ملا ہے۔

پہلے بھی 14 سابق کپتانوں نے کیا تھاتشویش کا اظہار

اس سے قبل ہندوستان کے کپل دیو اور سنیل گواسکر سمیت 14 سابق بین الاقوامی کرکٹ کپتانوں نے بھی عمران خان کی صحت کے حوالے سے شدید تشویش کا اظہار کیا تھا۔

سابق کرکٹروں نے ایک کھلے خط میں پاکستان کی حکومت سے اپیل کی تھی کہ خان کو ’ماہر اہل افراد کی جانب سے فوری، مناسب اور مسلسل طبی نگہداشت‘ فراہم کی جائے۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ خان کو بین الاقوامی معیار کے مطابق حراست میں ’انسانی اور باوقار حالات‘دیے جائیں۔

یہ اپیل عمران خان کے خاندان اور ان کے وکیل کی جانب سے کیے گئے ان دعووں کے بعد سامنے آئی تھی، جن میں کہا گیا تھا کہ جیل میں علاج نہ ملنے کی وجہ سے ان کی دائیں آنکھ کی 85 فیصد بینائی ختم ہو گئی ہے۔

پاکستان کی ادیالہ جیل میں خان کو مناسب طبی سہولیات نہ ملنے کے الزامات نے ملک کے اندر اور بین الاقوامی کرکٹ کی دنیا سے وابستہ لوگوں کے درمیان بھی تشویش کو جنم دیا ہے۔

کئی معاملوں میں جیل کی سزا کاٹ رہے ہیں عمران خان

عمران خان 2018 سے 2022 تک پاکستان کے وزیر اعظم رہے تھے۔ وہ بدعنوانی، تشدد پر اکسانے اور غداری سمیت کئی معاملوں میں 10، 14 اور 17 سال کی الگ الگ قید کی سزائیں کاٹ رہے ہیں۔ خان اور ان کے حامیوں کا کہنا ہے کہ ان کے خلاف درج معاملے سیاسی بنیادوں پر قائم کیے گئے ہیں۔

سال 2024 کے پاکستان کے عام انتخابات سے قبل خان کو ان کی شادی سے متعلق ایک معاملے میں بھی سات سال کی سزا سنائی گئی تھی۔ اس فیصلے پر بڑے پیمانے پر تنقید ہوئی تھی اور بعد میں اسے پلٹ دیا گیا۔



Source link

متعلقہ پوسٹ