یہ درست کہ جانے والے کبھی نہیں آتے، اس سے بھی زیادہ درست کہ جانے والوں کی یاد آتی ہے۔عرض ہے کہ گزرے ہوئے کل میں ، کس کس کا کل شریک نہیں ہوتا۔ جس میں اُس کی آپ بیتی اور جنگ بیتی کا کہا جا سکتا ہے۔ وہ دن بھی کیا دن تھے ۔
آج اُن کی یادیں اور باتیں ہی،دل کے سنگ روح کے بھی قریب ہوتی ہیں۔آنسو بہانے کو جی میں آتا ہے، اس کا مطلب یہ نہیں کہ جی کاجانا ٹھہر گیا ہے۔ہمارے سماج میں ایک سے بڑھ کر ایک واردات اس کی آڑ میں کی جاتی رہی ہے، اور آج بھی جاری ہیں۔دوسروں کے راستے بند کرنے سے بھی کبھی کچھ ہوا؟ اس کے آگے جتنے سوال لگائیں گے، اُتنے ہی جواب آئیں گے۔ یہ بھی دیکھا ، بار بار دیکھا، کہ ہر سوال کا جواب نہیں مل پاتا ہے۔ قمر ؔ جلالوی کا ایک سدا بہار شعر:
راستے بند کیے دیتے ہو دیوانوں کے
ڈھیر لگ جائیں گے بستی میں گریبانوں کے
راستے بند ہونے سے بندشیں اور رنجشیں بڑھ جاتی ہیں لیکن دیوانوں کا سفر جاری رہتا ہے۔اُنہیں منزل کی کوئی پرواہ نہیں، وہ تو خود ایک منزل ہوتے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ وہ حدودِ وقت سے آگے نکل جائیں۔ وقت کی مہربانی اور پشیمانی کا بھی پاس رہتا ہے۔
ان کی تلاش میں کس کس کی آس نہیں ہوتی۔یہ بھی کہتے ہیں کہ اس میں وقت کا خاص قصور نہیں ، وہ تو مجبور ہوتا ہے۔کاش! یہ ہی کہہ پاتے کہ مجبوری کا نام شکریہ ۔لیکن کس کس کا شکریہ ادا کریں۔اس کی ادا میں کبھی وفا اور کبھی بے وفا کا رم جھم دکھائی دیتا ہے۔فرانس کا عظیم فلسفی ، ڈرامہ نویس سارترے Jean Paul Satre(21جون 1905۔15اپریل 1980( نے زندگی کے بارے میں کہا تھا کہ’’اس کا مقصد مکمل آزادی ہے، انسان کو چاہیے کہ وہ کرب سے آزادی حاصل کرے‘‘۔بیسویں صدی کو جن دو دانشوروں نے سب سے زیادہ متاثر ،وہ لارڈ بر ٹر ینڈ رسل اور سارترے ہیں۔ماں کی دوسری شادی نے اسے تنہائی پسند بنا دیا، اور اُس نے ساری عمر باقاعدہ شادی نہیں کی۔سیمون ڈی بوار اس کی نظریاتی ساتھی تھی،سارترے اور وہ بغیر شادی کے ایک ساتھ رہے۔سارترے نے اپنی تمام کتابیں ہوٹل اور کیفے میں بیٹھ کر لکھیں۔’’ہوٹل فلور‘‘ اُس کا پسندیدہ ہوٹل تھا۔ کچھ دانشور اُس کے فلسفے ’’جدیدیت‘‘ کو ’’ کافی ہائوس کا فلسفہ‘‘ بھی کہتے ہیں۔
اُس نے لوگوں کو کہا تھا، ’’ کافی ہائوس‘‘ میں گھر سے بہتر ماحول محسوس کرتا ہوں۔لوگ وہاں نہ میری پرواہ کرتے ہیں نہ مجھے اُن کی پرواہ ہوتی ہے۔اس ماحول میں مجھے کام کرنے میں آسانی ہوتی ہے اور پھر گھر کا بار بوجھ میرے بس کی بات نہیں ‘‘۔ وجودیت پر لکھنے والوں کا خیال ہے کہ یہ فلسفہ پہلے سے موجود تھا، لیکن سارترے نے انہیں باقاعدہ فلسفے کی شکل دی۔سقراط سے پہلے تک، اُس کے بعد میں بھی، یہ فلسفہ مخصوص لوگوں کی وراثت تھا۔بے شک! سقراط نے اسے بازاروں کا راستہ دکھایا لیکن اس کے باوجوداس میں عوامی رنگ نہیں آسکا۔لیکن سارترے کی بدولت وہ سب کچھ ہو گیا، اور گلی، محلوں،ہوٹلوں ادب میں وجودیت کے فلسفہ کا ذکر ہونے لگا۔سارترے انسان کو پرانے رواجوں کی بندشوں سے آزاد کروانا چاہتا تھا۔اس سلسلے میںوہ اپنے ناول’’ نوسیا‘‘ میں ہیرو کے کردار میں ظاہر کرتا ہے۔
1960 میں اُس نے سیمون ڈی بوار کے ساتھ کیوبا کا دورہ کیا، اور وہاں پر انقلابی لیڈر چے گویرا سے ملاقات کی،’’ چے صرف ذہین آدمی ہی نہیں،ہمارے عہد کاایک مکمل انسان ہے‘‘۔ 1964 میں اُسے نوبل پرائز کی پیش کش ہوئی لیکن یہ انعام لینے سے انکار کر دیا اور کہا ’’ ایک ادیب کو ایک ادارے میں تبدیل نہیں ہونا چاہیے۔الجیریا پر فرانس کی جارحیت کی اُس نے مخالفت کی، اور کہا’’ الجیریا میں موجودہ فرانسیسی فوجیوں کو نوکری چھوڑ دینا چاہیے‘‘۔ظلم اور تشدد کے خلاف اُس نے عملی سیاست میں بھی حصہ لیا۔1968میں اُس نے اسٹوڈنٹس کی ہڑتال میں اُن کے شانہ بشانہ شرکت کی۔ اُسے سول نافرمانی کے جرم میں گرفتار کرلیا گیا۔یہ ڈیگال کا دور تھا، جس نے اُسے رہائی دلائی ،’’ سارترے فرانس ہے، فرانس سارترے ہے‘‘۔جون 1964 میں اس عظیم انسان نے تیل کے ذخیروں پر امریکہ کی بمباری کی شدید مخالفت کی ۔
اگست 1966 میں اس بمباری کے خلاف ایک غیرسرکاری ٹرائل کا اعلان کیا، رسل، سیمون اور سارترے اس کے ممبر تھے۔ اس عدالت کا صدر سارترے تھا۔ مئی 1967 میں اس کا فیصلہ سنایا گیا، جس میں شہری ٹھکانوں پر بمباری کے جرم میں امریکہ کو مجرم قرار دیا۔ کام کی زیادتی کی وجہ سے اُس کی صحت اس قدر خراب ہوگئی کہ آنکھوں کی بینائی بھی ختم ہو گئی۔ پھیپھڑوں کا مرض جان لیوا ثابت ہوا اور 15اپریل 1980 کو یہ عظیم انسان دوست اس دُنیا سے چلا گیا۔ وقت اور قابلؔ اجمیری:
وقت کرتا ہے پرورش برسوں
حادثہ ایک دم نہیں ہوتا
اس میں کوئی بھی حادثہ آسکتا ہے ،بے شک اسے سانحہ کہہ لیں۔اس کی پرورش میںکس کی رنجش نہیں ہوتی، سازش نہیں ہوتی۔معاف کیجئے گا!اس میں سب سے آگے یار لوگ اور یار مارلوگ آتے ہیں۔وہ بھی کبھی روگ سے کم نہیں ہوتے۔ ہروقت لاٹری لوٹنے کے چکر میں ہوتے ہیں۔اور اکثر اس کا شکار ہوجاتے ہیں۔ ایک بار پھر معاف کیجئے !ستم زری اورظریفی کی کوئی حد ہوتی ہے۔اس میں نو سربازی کو بھی شامل کرسکتے ہیں۔اسرارؔ زیدی کا ایک شعر نذرِ قارئین ہے:
مصروف ہم بھی انجمن آرائیوں میں تھے
گھر جل رہا تھا لوگ تماشائیوں میں تھے
آج کے ریفرنس میںاپنے عظیم المرتبت والد عبدالحفیظ خان کا ذکر اس لیے ہو گا، کہ اُن کا شمار مغربی پاکستان ریلوے کے معماروں میں ہوتا تھا ۔’’ آپ 14دسمبر 1924کو آگرہ میں پیدا ہوئے تھے۔ آپ کے والد عبدالرحمان خان فتح پور سیکری (بھارت) کے اسٹیشن ماسٹر تھے۔
آپ نے علی گڑھ یونیورسٹی سے گریجویشن کی۔ 14 اگست 1947 کو مشرقی بنگال (مشرقی پاکستان) میں تعینات تھے۔ اُنہیں آپشن دیا گیا،آپ نے پاکستان جانے کا کہا۔ آپ لاہور تشریف لے آئے۔ وہاں سے کوئٹہ چلے گئے۔ 1964 کو پھر لاہور آ گئے۔ڈپٹی فیڈرل انسپکٹر آف ریلوے اور کنسلٹنٹ کے منصب تک پہنچے۔ اس اہم عہدے کے منصب پر ہونے کے باعث وہ کسی بھی قسم کی کرپشن کے خلاف تھا۔ آج اُس دور کو یاد کیا جاتا ہے۔ اُنہیں حکومت ِ پاکستان کی طرف سے تمغہ ٔ خدمت عطا ہوا۔ 18ستمبر 1997 کو لاہور میں رحلت فرمائی۔ آپ گڑھی شاہو تھانہ لاہور کے عقب میں واقع قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں‘‘۔ باقیؔ صدیقی کا ایک شعر:
جن کے سائے میں صبا چلتی تھی
پھر نہ وہ لوگ لوٹ کر آئے

