تھانے کے 81 سالہ اصغر علی ووہرا کی اپنے ’ہم جماعت‘وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کے چند دنوں بعد ان کا 15 سال پرانا زمین کا تنازعہ حل ہوتا نظر آ رہا ہے۔ بی جے پی ایم ایل اے نریندر مہتہ کی کمپنی نےمتنازعہ پلاٹ کی تعمیر کی اجازت واپس لینے اور زمین سے پیچھے ہٹنے کی بات کہی ہے۔

نئی دہلی: مہاراشٹر کے ضلع تھانے کے میرا روڈ علاقے میں رہنے والے 81 سالہ اصغر علی ووہرا نے اپنی زمین واپس حاصل کرنے کے لیے تقریباً 15 سال تک سرکاری محکموں کے چکر لگائے۔ آخرکار انہوں نے اپنے اسکول کے ہم جماعت اور وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کی اور اس معاملے میں مداخلت کی درخواست کی۔
قابل ذکر ہے کہ اس ملاقات کے چند دنوں بعد بی جے پی ایم ایل اے نریندر مہتہ نے متنازعہ زمین پر اپنا دعویٰ چھوڑنے اور تعمیر کی اجازت واپس کرنے کی بات کہی ہے۔
ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق، مہتہ نے ووہرا کے خلاف درج شکایت بھی واپس لے لی ہے۔
بتایا جا رہا ہے کہ ووہرا نے 8 ستمبر کو وزیر اعظم مودی سے ملاقات کی تھی۔ انہوں نے مودی سے زمین کے تنازعہ میں مداخلت کرنے اور معاملے کی سی بی آئی سے جانچ کرانے کی درخواست کی تھی۔ ووہرا اور مودی نے گجرات کے وڈ نگر واقع بی این اسکول میں ایک ساتھ پڑھائی کی تھی۔
ووہرا کے مطابق، انہوں نے 1989 میں بھائندر ایسٹ کے نوگھر علاقے میں تقریباً 2,810 مربع میٹر زمین خریدی تھی۔ ان کا الزام ہے کہ 2011 میں سویم بلڈرز اور بی جے پی ایم ایل اے نریندر مہتہ کی کمپنی سیون الیون کنسٹرکشنز نے اس زمین پر قبضہ کر لیا۔ اس کے بعد سے وہ تقریباً 15 برس تک الگ الگ سرکاری افسروں کے پاس اپنی شکایت لے کر جاتے رہے ہیں۔
متنازعہ زمین پر ایم ایل اے مہتہ کی کمپنی تعمیر شروع کرنے والی تھی۔ تاہم، منگل (15 ستمبر) کو مہتہ نے مبینہ طور پر زمین کا قبضہ چھوڑنے اور تعمیر کے لیے حاصل کی گئی اجازت واپس کرنے کی بات کہی ہے۔
خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق، سیون الیون کنسٹرکشن پرائیویٹ لمیٹڈ نے میرا-بھائندر میونسپل کارپوریشن کے ٹاؤن پلاننگ ڈپارٹمنٹ کو خط لکھ کر مذکورہ پلاٹ کے لیے جاری کیا گیا تعمیر شروع کرنے کا سرٹیفکیٹ واپس کر دیا ہے۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ اس نے یہ زمین 13 جون 2019 کو مرون فرنانڈس سے رجسٹرڈ فروخت نامے (سیل ڈیڈ) کے ذریعے خریدی تھی۔ کمپنی کو 17 اپریل 2026 کو اس زمین پر تعمیر کی اجازت ملی تھی۔
اخبار کے مطابق،کمپنی نے پولیس کمشنر کو بھیجے گئے خط میں کہا ہے کہ دونوں فریقوں کے درمیان سمجھوتہ ہو گیا ہے اور اسی وجہ سے وہ تعمیر کی اجازت واپس کر رہی ہے۔
کمپنی نے میونسپل کارپوریشن سے تعمیر کی اجازت رد کرنے اور منصوبے کے لیے جمع کرائی گئی فیس واپس کرنے کی بھی درخواست کی ہے۔ اس کے ساتھ ہی، اس نے زمین کے مالک ووہرا کے خلاف اٹھائے گئے قانونی اقدامات واپس لینے کا عمل بھی شروع کر دیا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ ووہرا کی مودی سے ملاقات کے بعد مہاراشٹر کے وزیر ٹرانسپورٹ پرتاپ سرنائک نے وزیر اعظم اور ووہرا کی ملاقات کی تصویریں اور ایک پریس نوٹ جاری کیا تھا۔ انہوں نے امید ظاہر کی تھی کہ وزیر اعظم اپنے پرانے اسکول کے ہم جماعت کو انصاف دلانے میں مدد کریں گے۔
اس پورے واقعہ کے بعد یہ سمجھوتہ وزیر اعظم مودی کی ملاقات اور ان سے مداخلت کی اپیل کے چند ہی دن بعد ہوا ہے۔

