پاکستان میں بجٹ شفافیت میں نمایاں بہتری، بھارت اور بنگلادیش کو پیچھے چھوڑ دیا
پاکستان نے بجٹ شفافیت میں عالمی اوسط کے برابر اسکور حاصل کرلیا۔
اسلام آباد: پاکستان میں بجٹ شفافیت میں دو سال کے دوران 50 فیصد بہتری ریکارڈ کی گئی ہے، اوپن بجٹ سروے 2025 میں پاکستان کا اسکور 30 سے بڑھ کر 45 پوائنٹس ہوگیا ہے۔
وزارتِ خزانہ کے مطابق پاکستان نے بجٹ شفافیت میں عالمی اوسط کے برابر اسکور حاصل کرلیا جب کہ بھارت، سری لنکا اور بنگلادیش سے بھی آگے نکل گیا ہے۔
وزارتِ خزانہ نے بتایا کہ اوپن بجٹ سروے 2025 میں پاکستان کا بجٹ شفافیت کا اسکور 30 سے بڑھ کر 45 پوائنٹس ہوگیا جو دو سال کے دوران 50 فیصد بہتری کو ظاہر کرتا ہے۔
سروے میں بتایا گیا ہے کہ بجٹ شفافیت میں بھارت کا اسکور 44، سری لنکا کا 43، بنگلادیش کا 37 جب کہ چین کا اسکور 19 پوائنٹس ریکارڈ کیا گیا۔
وزارتِ خزانہ کا کہنا ہے کہ ایگزیکٹو بجٹ پروپوزل میں پاکستان کا اسکور 43 سے بڑھ کر 57 پوائنٹس ہوگیا جب کہ منظور شدہ بجٹ کے اسکور میں بھی 33 سے بڑھ کر 50 پوائنٹس تک بہتری آئی ہے۔
وزارتِ خزانہ کے مطابق سالانہ اختتامی رپورٹ کی بروقت آن لائن اشاعت سے بجٹ معلومات تک عوام کی رسائی اور مالیاتی شفافیت میں نمایاں بہتری آئی ہے۔
بجٹ سازی کے عمل میں عوامی شرکت کا اسکور بھی 15 سے بڑھ کر 22 پوائنٹس ہوگیا جس کے بعد پاکستان میں عوامی شرکت کا اسکور عالمی اور ایشیا پیسیفک اوسط سے بھی بہتر ہوگیا ہے۔
وزارتِ خزانہ نے بتایا کہ انٹرنیشنل بجٹ پارٹنرشپ نے ایگزیکٹو بجٹ پروپوزل میں زیادہ جامع معلومات کی فراہمی کو سراہا ہے جب کہ آمدن اور اخراجات سے متعلق معلومات کی دستیابی بھی نمایاں طور پر بہتر ہوئی ہے۔
وزارتِ خزانہ نے یہ بھی بتایا کہ پاکستان میں بجٹ اور سالانہ اختتامی رپورٹ عوام کے لیے وسیع پیمانے پر دستیاب ہیں جس سے پارلیمان اور عوام کو مالی معاملات سے متعلق بہتر معلومات میئسر ہوں گی۔
وزارتِ خزانہ کا کہنا ہے کہ امریکی محکمہ خارجہ کی مالیاتی شفافیت رپورٹ میں بھی پاکستان کی پیشرفت کو تسلیم کیا گیا ہے۔
وزارتِ خزانہ نے مزید بتایا کہ بجٹ شفافیت میں بہتری سے حکومتی امور میں احتساب، ادارہ جاتی ساکھ اور عوامی اعتماد مضبوط ہوگا جب کہ مالیاتی شفافیت میں پیشرفت پاکستان کے ادارہ جاتی اعتبار کے لیے بھی اہم پیش رفت ہے۔

