واشنگٹن — امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس اور دیگر اعلیٰ فلسطینی عہدیداروں کو اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے ویزا دینے سے انکار کر دیا ہے۔ یہ مسلسل دوسرا سال ہے کہ عباس نیویارک میں ذاتی طور پر شرکت کے بجائے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کریں گے۔
امریکی محکمۂ خارجہ نے وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ فلسطینی قیادت نے سابقہ معاہدوں کے تحت امن کے وعدے پورے نہیں کیے اور بین الاقوامی عدالتوں (آئی سی جے، آئی سی سی) میں اسرائیل کے خلاف قانونی کارروائیاں جاری رکھی ہیں۔ فلسطینی وزارتِ خارجہ نے اس اقدام کی مذمت کی اور اسے دو ریاستی حل کے منافی قرار دیا۔
گزشتہ سال جنرل اسمبلی نے ۱۴۵ ووٹوں سے عباس کو ویڈیو خطاب کی اجازت دی تھی۔ فلسطین اقوامِ متحدہ میں غیر رکن مبصر ریاست کی حیثیت رکھتا ہے، اسے ووٹ کا حق نہیں مگر شرکت و خطاب کی اجازت حاصل ہے۔

