دی وائر کے سدھارتھ وردراجن اور میکسیکو کی صحافی مارسیلا توراتی کو ایل مندو انٹرنیشنل جرنلزم ایوارڈ

Varadarajan and Turati


اسپین کے مؤقر  اخباروں میں سے ایک ایل مندو نے ہندوستان کے سینئر صحافی سدھارتھ وردراجن اور میکسیکو کی صحافی مارسیلا توراتی کو 24ویں ایل مندو انٹرنیشنل جرنلزم ایوارڈ کے لیے منتخب کیا ہے۔ جیوری نے وردراجن کو پریس فریڈم کے زمرے میں اورتوراتی کو شاندار صحافتی خدمات کے لیے منتخب کیا ہے۔ دونوں کو فروری 2027 میں ایوارڈ سے نوازا جائے گا ۔

Varadarajan and Turati

سدھارتھ وردراجن اور (دائیں) مارسیلا توراتی کو ایل مندو انٹرنیشنل جرنلزم ایوارڈز سے نوازا گیا ہے۔

نئی دہلی:ہندوستان کے سینئر صحافی سدھارتھ وردراجن اور میکسیکو کی صحافی مارسیلا توراتی کو 24ویں ایل مندو انٹرنیشنل جرنلزم ایوارڈکے لیے منتخب کیا گیا ہے۔

ایل مندو اسپین کے مؤقراخباروں میں سے ایک ہے۔ جیوری نے وردراجن کو پریس فریڈم کے زمرے میں اور توراتی کو شاندار صحافتی خدمات کے لیے منتخب کیا ہے۔ دونوں کو فروری 2027 میں ایوارڈ دیے جائیں گے۔

دی وائر کے بانی مدیر وردراجن نے ایل مندو سے کہا،’یہ دی وائر اورہندوستان میں  آزادانہ صحافت کو حقیقی معنوں میں مضبوط کرے گا۔‘

ایل مندو کے ڈائریکٹر جوآکین مینسو کے علاوہ ایوارڈ دینے کے لیے بنی جیوری میں سابق وزیر خارجہ آنا پالاسیو، کوریئرے دیلا سیرا کی صحافی سارا گانڈولفی، رائٹرز کی اسپین ڈائریکٹر ایسلین لیونگ، ٹیلی سنکو کے نیوز ڈائریکٹر کارلوس فرانگانیلو، پالیٹکل سائنٹسٹ جوسے اگناسیو تورے بلانکا، صحافی فلیپے ساگاہون، نامہ نگار زیویر کولاس اور ایل مندو کی نائب مدیر سلویا رومان شامل تھیں۔

ایل مندو کے دو صحافیوں کے قتل کے بعد ان انٹرنیشنل جرنلزم ایوارڈز کا آغاز 2002 میں کیا گیا تھا۔ جوسے لوئس لوپیز دے لا کائے کو مئی 2000 میں گولی مار کر قتل کر دیا گیا تھا، جبکہ صحافی خولیو فوینتس نومبر 2001 میں افغانستان جنگ کے دوران صحافیوں کے ایک قافلے پر گھات لگا کر کیے گئے حملے میں مارے گئے تھے۔

ایل مندو نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ وردراجن اور توراتی کو دیا جانے والا یہ ایوارڈ’ایسی جگہوں پر جرأتمندانہ صحافت کو تسلیم کرتا ہے جہاں دباؤ کے درمیان اس کی ضرورت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ یہ دونوں الگ الگ براعظم سے تعلق رکھنے والے پیشہ ور صحافی ہیں، لیکن آزادی اور جمہوریت کے لیے ان کی جدوجہد ہم سب سے وابستہ ہے۔ ‘

بتایا گیا ہے کہ ایل مندو کے ڈائریکٹر مینسو نے کہا کہ وردراجن کو دیا جانے والاپریس فریڈم ایوارڈ ایشیا کی عظیم صحافتی روایات میں سے ایک، یعنی ہندوستان میں آزاد صحافت، کو خراج تحسین پیش کرنے جیسا ہے۔ وردراجن کے صحافتی کیریئر کا ذکر کرتے ہوئے مینسو نے کہا،’ مودی حکومت کی جانب سے اقتدار کے غلط استعمال کی تحقیقات کرنے کے لیے وردراجن کو مقدموں، پولیس تحقیقات اور الزامات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ جب ہندوستانیوں کی ایک نئی نسل، ’کاکروچوں‘، نے روایتی میڈیا کے طور طریقوں کے خلاف آواز اٹھانا شروع کی، تو انہیں وردراجن کی صورت میں ایک ایسا صحافی ملا، جو پہلے ہی ایک دہائی سے اس آزاد جگہ کا دفاع کر رہے تھے، جس نے انہیں اپنے اختلاف رائے کا اظہار کرنے کا موقع دیا۔‘

’ ان کا کیریئر ہمیں یہ بھی یاد دلاتا ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کی حیثیت سے ہندوستان کی طاقت اس بات پر بھی منحصر ہے کہ جو لوگ اقتدار میں بیٹھے لوگوں کو بے چین کرتے ہیں، وہ ایسا کرنا جاری رکھ سکیں۔‘

وردراجن کے ساتھ ایوارڈ سے سرفراز ہونے والی میکسیکن صحافی مارسیلا توراتی کے صحافتی کیریئر کا ایک بڑا حصہ میکسیکو اور بین الاقوامی میڈیا اداروں کے ساتھ کام کرتے ہوئے گزرا ہے۔ ان کی نمایاں کارکردگی میں ان کی دوتصانیف فوئیگو کروزاڈو اور سین فرنانڈو: التیما پارادا ہیں۔ فوئیگو کروزادو میکسیکو کی منشیات کے خلاف جنگ کی کہانی کو اس کے متاثرین کے تجربات کے ذریعے سامنے لانے کی پہلی بڑی کوشش تھی، جبکہ سین فرنانڈو: التیما پارادا نے اس کام کو اور آگے بڑھایا۔

ان کے کام میں میکسیکو میں صحافیوں کو درپیش خطرات اور ایسے سسٹم کے نتائج کو مسلسل درج کیا گیا ہے جہاں صحافیوں کے خلاف ہونے والے جرائم کے ذمہ داروں کو اکثر سزا نہیں ملتی۔

مینسو نے کہا کہ توراتی پرعزم صحافت کی ایسی مثال ہیں جو ’ایسی جگہوں پر ناانصافی کو درست کرنے کا کام کرتی ہے جہاں ریاست موجود ہی نہیں ہوتی۔ ‘

انہوں نے کہا، ’اس سچ کو سامنے لانے کی قیمت یہ تھی کہ میکسیکو کی حکومت نے خود ان کے ذرائع اور سرگرمیوں کا سراغ لگانے کے لیے غیر قانونی طور پر ان کی جاسوسی کی۔ ‘





Source link

متعلقہ پوسٹ