ہارٹ فورڈ یونیورسٹی کے طلباء کا واشنگٹن میں پاکستانی سفارتخانے کا دورہ

copy of untitled design 461790914208 0



واشنگٹن:

ہارٹ فورڈ یونیورسٹی کے طلباء کے وفد نے واشنگٹن میں پاکستانی سفارتخانے کا دورہ کیا۔

یو نیورسٹی وفد میں شامل بین الاقوامی طالب علموں کا تعلق مختلف ممالک بشمول البانیہ ، گھانا، انڈونیشیا، لبنان اور امریکہ سے  تھا، طالب علم بین الاقوامی پیس بلڈنگ (Peacebuilding) پروگرام میں ماسٹرز ڈگری کے حصول کیلئے زیرِ تعلیم ہیں۔

ہارٹ فورڈ یونیورسٹی کنیکٹیکٹ میں واقع ہے اور طلباء کا وفد پیس اینڈ جسٹس ایسوسی ایشن کانفرنس میں شرکت کیلئے واشنگٹن کے دورہ پر ہے۔ ہارٹ  فورڈ یو نیورسٹی کا  شمار ممتاز یونیورسٹیوں میں ہوتا ہے اور یہ یونیورسٹی مذہبی اسکالر شپ، مکالمے ، قیام ِ امن  اور تنازعات کے حل کیلئے کاوشوں سے منسلک ہے۔

ماسٹرز پروگرام میں طلباء تعلیم کے ساتھ ساتھ  مکالمہ، ثالثی، مفاہمت اور کمیونٹی کیلئے تعمیری سرگرمیوں میں عملی مہارت حاصل کرتے ہیں۔ امریکہ، ایران کے مابین جنگ کے دوران پاکستان کے حالیہ  ثالثی  کردار کے پیش نظر ہارٹ فورڈ یونیورسٹی نے پاکستانی  سفارت خانے سے رابطہ کیا تاکہ زیر تعلیم طلباء کو پاکستان کی بین الاقوامی سفارتی کو ششوں کے بارے میں آگاہی فراہم کریں۔

اس موقع پر سفیر پاکستان رضوان سعید شیخ نے طلباء کو پاکستان کی سفارتی ترجیحات اور آٹھ دہائیوں پرمشتمل پاک امریکہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کیلئے کوششوں کے بارے میں بریف کیا۔ طلباء نے پاکستان کے بین الاقوامی سفارتی سطح پر اُبھرتے ہوئے قائدا نہ کردار میںِ دلچسپی کا اظہار کیا۔

سفیرِ پاکستان نے بین الاقوامی سفارت کاری میں طلباء  کو پاکستان کی مُسلمہ حیثیت اور کردار کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان کی کامیاب، علاقائی اور عا لمی امن پر مرکوز سفارت کاری کا سفر آٹھ دہائیوں پر مُحیط ہے۔ پاکستان نے ماضی میں امریکہ اور چین کے درمیان پُل کا کردار ادا کیا اور دونوں صفِ اول کے  ممالک کو قریب لانے کا کریڈٹ پاکستان کو حاصل ہے۔

سفیر پاکستان نے کہا کہ 1988 میں جنیوا معاہدہ  میں بھی پاکستان نے کلیدی کردار ادا کیا، سفارت کاری ایک مسلسل اور تدریجی عمل ہے جس میں رازداری کو خصو صی اہمیت حا صل ہے۔ اسلام آباد ایم او یو (MoU) پاکستان کی سفارتی کاوشوں کا نتیجہ اور کلیدی اہمیت کا حامل ہے۔

رضوان سعید شیخ کا کہنا تھا کہ پاکستان کی سفارتی کوششوں کے تحت ایران اور امریکہ 47 سال بعد ایک جگہ اکٹھے ہوئے، اسلام آباد مفاہمتی یا د داشت نے ایک اہم ترین بنیاد قائم کی ہے جو ایک بڑی کامیابی ہے، اسلام آباد ایم او یو (MoU) خاموش،  انتھک  اور مو ثر سفارت کاری کا نتیجہ ہے۔

سفیر پاکستان نے کہا کہ پاکستان روز اول سے عالمی اور علاقائی  امن کا داعی ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ پاکستان امریکہ – ایران  تنازعہ میں آج بھی کار فرما ہے اور خطے میں امن کے حصول کیلئے دوسرے اتحادیوں کے ساتھ مل کر کردار ادا  کر رہا ہے، علاقائی اور عالمی امن کے ضمن میں پاکستان کا کردار اور صلاحیتیں باعث ِ اطمینان ہیں۔ 

انہوں نے کہا کہ دنیا اس وقت ایک نازک دور سے گز رہی ہے، امن کے قیام کیلئے اقدامات کی افادیت پہلے سے بڑھ گئی ہے، پاکستان اندرونی وبیرونی دہشت گردی کے چیلنجز سے نبر آزما ہے۔ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے انتہا قُربانیاں دیں جِن کی دُنیا متعرف ہے۔ بد قسمتی سے پاکستان عالمی دہشت گردی انڈیکس 2026 میں سر فہرست ہے۔ اس سے ظاہر ہو تا ہے کہ پاکستان دہشت گردی کے ناسوُر کا شکار ہے۔

تقریب کے اختتام پر بین الاقوامی طلباء نے سفیر پاکستان اور سفارتخانہ پاکستان کا شُکریہ ادا کیا جنہوں نے اُنھیں یہ اہم موقع فراہم کیا۔





Source link

متعلقہ پوسٹ