رشمیکا مندانا نے فلم انڈسٹری میں اپنے سفر سے متعلق اہم انکشاف کردیا

2555809 rashmikamandanna 1698072620



اداکارہ رشمیکا مندانا کا فلمی کیریئر ایک سے زیادہ زبانوں تک پھیل چکا ہے، تاہم ان کا کہنا ہے کہ مختلف زبانوں میں کام کرنے کا سفر کبھی کسی باقاعدہ منصوبہ بندی کا حصہ نہیں تھا بلکہ حالات خود انہیں ایک فلم سے دوسری زبان کی فلموں تک لے جاتے رہے۔

کرناٹک کے ضلع کوڈاگو سے تعلق رکھنے والی 30 سالہ اداکارہ تیلگو اور ہندی فلموں کے علاوہ کناڈا اور تامل سنیما میں بھی کام کرچکی ہیں۔ رشمیکا کے مطابق زبان ان کے لیے کبھی پیشہ ورانہ رکاوٹ نہیں بنی، جس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ان کی مادری زبان کوڈاوا ٹک کی کوئی باقاعدہ فلم انڈسٹری موجود نہیں۔

رشمیکا نے بتایا کہ وہ خود کو ایک کوڈاوا سمجھتی ہیں اور کوڈاوا ٹک بولتی ہیں۔ ان کے بقول اسی پس منظر کی وجہ سے وہ مختلف زبانوں کو اپنے لیے اجنبی نہیں سمجھتیں بلکہ ہر زبان کو اپنی زبان کی طرح قبول کرتی ہیں۔

اداکارہ نے اپنے فلمی سفر کے حوالے سے بتایا کہ ابتدا میں ان کے مداح، جنہیں وہ اپنا خاندان قرار دیتی ہیں، انہیں یہ مشورہ دیا کرتے تھے کہ انہیں تیلگو فلم کیوں نہیں کرنی چاہیے۔ بعد میں یہی صورتحال ہندی فلموں کے معاملے میں بھی سامنے آئی۔ یوں ایک کے بعد دوسری زبان میں کام کرنے کے مواقع ملتے گئے اور ان کا سنیما کا سفر وسیع ہوتا چلا گیا۔

اپنے لہجے پر ہونے والے ردعمل کے بارے میں بات کرتے ہوئے رشمیکا نے کہا کہ ان کے لیے اہم بات یہ ہے کہ اگر ان سے کسی مخصوص زبان میں سوال کیا جائے تو وہ اسی زبان میں جواب دے سکیں۔ ان کے خیال میں دنیا کے مختلف حصوں سے تعلق رکھنے والے ناظرین کا احترام کرنے کا یہی ایک طریقہ ہے۔

رشمیکا کا کہنا تھا کہ وہ فلموں میں اپنے لہجے سے متعلق غیر ضروری بحث کو زیادہ اہمیت نہیں دیتیں۔ ان کی توجہ اس بات پر رہتی ہے کہ وہ اپنے کردار اور اداکاری کے ساتھ انصاف کریں۔ انہوں نے کہا کہ ایک اداکارہ کے طور پر ان کی ذمہ داری سیٹ پر اچھی کہانی سنانا ہے، جس کے بعد وہ گھر واپس آجاتی ہیں۔

اداکارہ نے کہا کہ ہر فلم کے آغاز کے ساتھ انہیں یہ یقین ہوتا ہے کہ پوری ٹیم اپنی بہترین صلاحیتیں استعمال کرکے کچھ جادوئی تخلیق کرنے کے لیے موجود ہے۔ وہ اپنی توجہ صرف کام پر مرکوز رکھتی ہیں اور کوشش کرتی ہیں کہ ہر کردار میں بہترین اداکاری پیش کریں۔

رشمیکا کے مطابق کسی فلم کا حتمی نتیجہ کسی ایک شخص کی محنت نہیں بلکہ اس منصوبے سے وابستہ تمام افراد کی مشترکہ توانائی اور کوششوں کا نتیجہ ہوتا ہے۔ اسی لیے وہ دوسروں کے کام میں مداخلت کرنے کے بجائے اپنی ذمہ داری پر توجہ دیتی ہیں اور اپنی طرف سے بہترین کارکردگی دینے کی کوشش کرتی ہیں۔



Source link

متعلقہ پوسٹ