سابق نائب صدر دھنکڑ، اڈوانی، سبل سمیت کئی اہم شخصیات کو الیکشن کمیشن کا نوٹس

CEC Gyanesh Kumar PIB


دہلی میں ایس آئی آر کے تحت لال کرشن اڈوانی، جگدیپ دھنکڑ، کپل سبل، جسٹس مدن بی لوکور سمیت کئی اہم شخصیات کو الیکشن کمیشن کی جانب سے نوٹس ملے ہیں۔ کمیشن کا کہنا ہے کہ نوٹس کا مطلب ووٹر لسٹ سے نام ہٹانا نہیں ہے، وہیں اپوزیشن نے اس کارروائی پر سوال اٹھائے ہیں۔

نئی دہلی: دہلی میں ووٹر لسٹ کی  اسپیشل انٹینسیو ریویژن(ایس آئی آر) کے تحت  الیکشن کمیشن آف انڈیا کی جانب سے نوٹس پانے والوں میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سینئر رہنما اور سابق نائب وزیر اعظم لال کرشن اڈوانی، سابق نائب صدر جگدیپ دھنکڑ، راجیہ سبھا رکن پارلیامنٹ کپل سبل، سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس مدن بی لوکور اور دو سابق چیف جسٹس کی بیویاں شامل ہیں۔

دہلی کے چیف الیکٹورل آفیسر (سی ای او) کے دفتر نے جمعہ (18 ستمبر) کو تقریباً 33.1لاکھ ایسے رائے دہندگان کی پولنگ بوتھ کے لحاظ سے فہرست جاری کی، جنہیں نوٹس بھیجے گئے ہیں۔ یہ دہلی کی مسودہ ووٹر لسٹ میں شامل 97.5 لاکھ ناموں کے ایک تہائی سے زیادہ ہے۔

ان لوگوں کے نام یا تو الیکشن کمیشن کے سافٹ ویئر کے ذریعے پہچانی گئی 11 طرح کی ’منطقی تضادات‘ کی وجہ سے نشان زد کیے گئے ہیں، یا پھر ان کی جانکاری گزشتہ ایس آئی آر ووٹر لسٹ سے مل نہیں پائی ہے۔

قابل ذکر ہے کہ جن ووٹروں کا گزشتہ ایس آئی آر فہرست سے ملان نہیں ہو اہے، انہیں اپنی اہلیت ثابت کرنے کے لیے الیکشن کمیشن کی جانب سے بتائے گئے 12 دستاویزوں میں سے کوئی ایک جمع کرنا ہوگا۔ جبکہ ’منطقی تضاد‘ والے رائے دہندگان کو اپنی موجودہ جانکاری کی تصدیق کرانی ہوگی۔

ان معاملوں کی تصدیق 29 اکتوبر تک ہونی ہے اور 4 نومبر کو حتمی ووٹر لسٹ جاری کی جانی ہے۔

کانگریس نے ایس آئی آر پر سوال اٹھائے

اس سلسلے میں کانگریس کے جنرل سکریٹری (مواصلات) جئے رام رمیش نے اتوار (20 ستمبر) کو ایس آئی آر کے عمل کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے اسے ’امت شاہ کے اشارے پر بڑے پیمانے پر ووٹروں کے نام ہٹانے کی مشق‘بتایا ہے۔

جئے رام رمیش کے مطابق، ایس آئی آر کے تیسرے مرحلے میں 12 ریاستوں اور دو مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں 6.18 کروڑ نام ووٹر لسٹوں سے ہٹائے گئے ہیں، جبکہ 5.43 کروڑ ووٹروں کو اضافی دستاویز جمع کرانے کے نوٹس دیے گئے ہیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس طرح تقریباً 32فیصد ووٹر یا تو فہرست سے باہر ہو چکے ہیں یا ان کے نام ہٹائے جانے کا خطرہ ہے۔ دہلی کے لیے انہوں نے یہ تعداد 53.73 فیصد بتائی۔

کانگریس رہنما نے کہا کہ ایس آئی آر کے تحت شہریوں پر ایسے دستاویز پیش کرنے کا بوجھ ڈالا جا رہا ہے، جو ممکن ہے کہ ان کے پاس پہلے سے موجود ہی نہ ہوں۔

اڈوانی اور خاندان کے نام بھی ’ان میپڈ

فیکٹ چیکر اور آلٹ نیوز کے شریک بانی محمد زبیر کی جانب سے شیئر کی گئی جانکاری کے مطابق، لال کرشن اڈوانی، ان کی بیٹی پرتیبھا اڈوانی اور بہو گیتیکا اڈوانی کے نام ’حتمی ایس آئی آرسے ان میپڈ‘ زمرے میں ہیں۔

اسی طرح سابق چیف جسٹس بی آر گوئی کی اہلیہ تیجسونی بھوشن گوئی اور سابق چیف جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ کی اہلیہ کلپنا داس کے نام بھی اسی زمرے میں ہیں۔

زبیر کے مطابق، بی جے پی کے سابق آئی ٹی سیل سربراہ امت مالویہ اور ان کی اہلیہ گوری مالویہ کا نام بھی نوٹس کی فہرست میں ہے۔

سابق جج اور کئی سینئر وکیل بھی فہرست میں

سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس مدن بی لوکور کا نام ایک ’منطقی تضاد‘کی وجہ سے نشان زد کیا گیا ہے۔

دی ہندو کے مطابق، ان کے اور ان کے دادا کے درمیان درج عمر کا فرق 40 سال سے زیادہ نہیں تھا۔ یہ ان تضادات میں سے ایک ہے، جن کی شناخت الیکشن کمیشن کا سافٹ ویئر کر رہا ہے۔

سینئر وکیل اندرا جئے سنگھ، آنند گروور اور حذیفہ احمدی کے نام بھی گزشتہ ووٹر لسٹ سے ’ان میپڈ‘ بتائے گئے ہیں۔

ان کے علاوہ سابق نائب صدر جگدیپ دھنکڑ اور ان کی اہلیہ سدیش دھنکڑ، سابق مرکزی وزیر سبرامنیم سوامی، دہلی کے وزیر پرویش صاحب سنگھ، دہلی بی جے پی کے سابق صدر وریندر کمار سچدیوا، مؤرخ رومیلا تھاپر اور نئی دہلی کی رکن پارلیامنٹ بانسوری سوراج کے نام بھی فہرست میں ہیں۔

کانگریس کے رکن پارلیامنٹ ابھیشیک منو سنگھوی کا نام بھی فہرست میں ہے، تاہم ان کے نام کے سامنے تضادکی وجہ نہیں بتائی گئی ہے۔

سال2024میں وفات پا چکے ماہر اقتصادیات کا نام بھی فہرست میں

وزیر اعظم کی اکنامک ایڈوائزری کونسل کے سابق چیئرمین بی بیک دیب رائے کا نام بھی ’حتمی ایس آئی آر سے ان میپڈ‘ زمرے میں ہے۔ نومبر 2024 میں 69 سال کی عمر میں ان کی موت ہو گئی تھی، لیکن دہلی کی مسودہ ووٹر لسٹ میں ان کا نام 70 سالہ ووٹر کے طور پر درج ہے۔

دی ہندو کے مطابق، 2025 کے دہلی اسمبلی انتخابات کے دوران بھی ان کا نام ووٹر لسٹ میں تھا۔

ماہر اقتصادیات دیپک نیر کا نام ’والدین کے نام میں فرق‘والے زمرے میں نشان زد کیا گیا ہے۔

معلوم ہو کہ دہلی کی موجودہ وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا اور سابق وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال کے نام بھی پہلے سامنے آ چکے ہیں۔

دی وائر نے اس سے پہلے رپورٹ کیا تھا کہ دہلی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا اور سابق وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال کا نام بھی نوٹس پانے والوں کی فہرست میں تھا۔

ریکھا گپتا کے نام کے سامنے والدین اور اولاد کے درمیان 15 سال سے کم عمر کے فرق کا تضاد درج تھا۔ بعد میں شالیمار باغ کے الیکٹورل رجسٹریشن افسر نے کہا کہ بی ایل اونے ان کے پتے پر جا کر تصدیق کی اور ان کا نام حتمی ووٹر لسٹ میں شامل کرنے کے لیے تصدیق شدہ قرار دے دیا گیا ہے۔

وہیں،کیجریوال، ان کی اہلیہ سنیتا کیجریوال، والدین گووند رام کیجریوال اور گیتا دیوی اوربیٹے پلکت کیجریوال کے نام ’نو میپنگ‘زمرے میں ہیں۔

حکام کے مطابق، ان کے دستاویزوں کی تصدیق ابھی نہیں ہوئی ہے۔

کپل سبل نے نوٹس پر سوال اٹھائے

راجیہ سبھا ممبر اور سینئر وکیل کپل سبل اور ان کی اہلیہ پرومیلا سبل کا نام بھی ’نو میپنگ‘زمرے میں ہے۔

سبل نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر ان جیسے شخص کو بھی نوٹس دیا جا سکتا ہے تو عام ووٹروں کو درپیش مشکلات کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

انہوں نے اپنے دستاویز اوربی ایل اوکے دستخط دکھاتے ہوئے کہا کہ ان کی تصدیق پہلے ہی ہو چکی تھی۔ انہوں نے سوال کیا کہ اس کے باوجود انہیں ’ان میپڈ‘ زمرے میں نوٹس کیوں بھیجا گیا۔

سبل نے کہا کہ اس معاملے کو سپریم کورٹ تک لے جایا جائے گا۔ انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ نوٹس شخصی طور پر دینے کے بجائے آن لائن کیوں بھیجا گیا۔

دہلی سی ای او دفتر نے سنیچر کو کہا تھا کہ الیکشن کمیشن کی 14 مئی کی ہدایت کے تحت عدلیہ کے ارکان، عوامی نمائندوں اور فن، ثقافت، صحافت، کھیل اور عوامی خدمت سے وابستہ افراد کے نام مسودہ ووٹر لسٹ میں شامل کیے گئے ہیں، تاکہ دعووں اور اعتراضات کی مدت کے دوران ضروری دستاویز حاصل کیے جا سکیں۔

جئے شنکر، سابق فوجی سربراہ اورسی بی آئی ڈائریکٹر کو بھی نوٹس

بزنس ٹوڈے نے اتوار کو بتایا کہ وزیر خارجہ ایس جئے شنکر، ان کی اہلیہ کیوکو ایس جئے شنکر، سابق فوجی سربراہ جنرل اپیندر دویدی اورسی بی آئی ڈائریکٹر پروین سود سمیت ان کے خاندان کے افراد کو بھی ایس آئی آر کے نوٹس ملے ہیں۔

وہیں،انڈین ایکسپریس کے مطابق، الیکشن کمشنر ایس ایس سندھو کو بھی نوٹس جاری کیا گیا ہے۔

اس سلسلے میں دی ہندو نے ایک سینئر انتخابی افسر کے حوالے سے بتایا کہ اہم رہنماؤں اور دیگر معروف شخصیات کو سماعت مراکز پر جانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ الیکٹورل رجسٹریشن افسر ایسے معاملوں کی فہرست تیار کریں گے اوربی ایل اوکو ان کے پتے پر جا کر تصدیق کرنے کی ہدایت دی جائے گی۔

سی ای اونے کہا- نوٹس کا مطلب نام ہٹنا نہیں

وہیں، اتوار کو دہلی سی ای اودفتر نے واضح کیا کہ نوٹس جاری ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ متعلقہ افراد کے نام ووٹر لسٹ سے ہٹا دیے جائیں گے۔

دفتر کے مطابق، یہ نوٹس  ای سی آئی نیٹ میں ڈیٹا درست کرنے کے لیے سسٹم کی جانب سے جاری کیے گئے ہیں۔ کسی بھی ووٹر کا نام شنوائی کا موقع دیے بغیر اور مناسب، وجوہات پر مبنی اور قابل اپیل حکم کے بغیر نہیں ہٹایا جا سکتا۔

دہلی سی ای اونے سوشل اور پرنٹ میڈیا میں ایس آئی آر کو لے کر ظاہر کیے جا رہے ’وجودی بحران‘ کی بات کو بھی خارج کیا ہے۔



Source link

متعلقہ پوسٹ