دنیا کو جنگوں اور تنازعات کے خاتمے کیلئے مشترکہ اقدامات کرنا ہوں گے، انتونیو گوتریس

bbf6778bc385437b3545d06e3fadf98f L


اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے گزشتہ دہائی میں شروع ہونے والی جنگوں کے تباہ کن اثرات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنگیں بے حسی کے ساتھ جاری رہیں، ان کے دوران شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، انسانی حقوق پامال کیے گئے اور بھوک کو بھی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا گیا، صرف فوجی طاقت، سیکیورٹی یا معاشی قوت امن اور استحکام کی ضمانت نہیں دے سکتی۔

اقوام متحدہ کے جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انتونیو گوتریس نے کہا کہ دنیا کو جنگوں اور تنازعات کے خاتمے کیلئے مشترکہ اقدامات کرنا ہوں گے، قیام امن کیلئے تمام فریقوں کو ایک جگہ بیٹھ کر مسائل کا حل نکالنا ہوگا۔

طاقت کا استعمال مسائل کا حل نہیں بلکہ اس سے مزید تباہی اور انسانی مشکلات پیدا ہوتی ہیں۔ ان کے مطابق باہم مربوط دنیا عالمی مسائل کے متوازن حل میں مدد دے سکتی ہے، جبکہ بین الاقوامی قوانین سب کیلئے برابر ہونے چاہئیں۔

جنگوں کے تباہ کن اثرات، شہری سب سے زیادہ متاثر
سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ نے کہا کہ گزشتہ برسوں کے دوران مختلف خطوں میں جاری جنگوں نے عام شہریوں کی زندگیوں کو شدید متاثر کیا، جنگوں کے دوران انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کی گئیں اور شہری آبادی کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔

 ان کا کہنا تھا کہ جنگ ہر صورت بند ہونی چاہیے اور متاثرہ علاقوں میں امدادی سامان کی فراہمی بلا تعطل جاری رہنی چاہیے۔

انتونیو گوتریس نے بین الاقوامی قانون کے مطابق جہازرانی کی آزادی بحال کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا، انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کو ایسے اقدامات کرنے چاہئیں جن سے تنازعات مزید پھیلنے کے بجائے کم ہوں۔

امن کیلئے سفارتی کوششیں، مذاکرات اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ عالمی قوانین کا احترام تمام ممالک کی ذمہ داری ہے اور کسی بھی ملک کیلئے بین الاقوامی قانون سے بالاتر ہونے کا تصور قابل قبول نہیں ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق موجودہ عالمی بحرانوں کا مقابلہ اجتماعی کوششوں کے ذریعے ہی کیا جاسکتا ہے۔

فلسطین کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے انتونیو گوتریس نے کہا کہ 7 اکتوبر کے بعد فلسطین میں بڑے پیمانے پر قتل و غارت اور تباہی شروع ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ مغربی کنارے میں تشدد اور نقل مکانی امن کی راہ میں رکاوٹ ہیں، جبکہ بستیوں کی توسیع اور تشدد سے صورتحال مزید پیچیدہ ہورہی ہے۔

سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ نے کہا کہ دنیا دو ریاستی حل کو اپنی آنکھوں کے سامنے ختم ہوتے نہیں دیکھ سکتی۔ ان کے مطابق فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کیلئے دیرپا امن کا راستہ سیاسی حل سے ہی نکل سکتا ہے۔ انہوں نے جنگ بندی، شہریوں کے تحفظ اور انسانی امداد کی فراہمی پر زور دیا۔

روس اور یوکرین کے تنازع کے حوالے سے گوتریس نے کہا کہ جنگ کے نتیجے میں یوکرین اور روس کے کچھ حصوں میں ایسے شہری بھی ہلاک ہورہے ہیں جو براہ راست جنگ کا حصہ نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جنگ کے اثرات صرف محاذ تک محدود نہیں رہتے بلکہ عام آبادی، بنیادی ڈھانچے اور معیشت کو بھی متاثر کرتے ہیں۔

سوڈان کی صورتحال پر انہوں نے کہا کہ وہاں اقتدار کی جنگ اب شہریوں کے خلاف جنگ میں بدل چکی ہے۔ لاکھوں افراد بے گھر ہوچکے ہیں جبکہ ڈرون حملوں میں اسپتالوں اور گھروں کو بھی نشانہ بنایا جارہا ہے۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ سوڈان سمیت تمام تنازعات میں شہریوں کے تحفظ کو ترجیح دی جائے۔

انتونیو گوتریس نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اصلاحات کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سلامتی کونسل دوسری جنگ عظیم کے بعد بنائی گئی تھی لیکن اس کے بعد سے دنیا بہت بدل چکی ہے۔ موجودہ عالمی چیلنجز کا مقابلہ کرنے کیلئے سلامتی کونسل کو آج کی دنیا کی حقیقتوں کے مطابق بنانا ضروری ہے۔

 انہوں نے کہا کہ عالمی نظام میں نمایاں تبدیلیاں آچکی ہیں اور بہت سے ایسے ممالک اور خطے ہیں جن کی آواز عالمی فیصلہ سازی میں زیادہ مؤثر انداز میں سنی جانی چاہیے۔ گوتریس کے مطابق عالمی اداروں میں اصلاحات کا مقصد انہیں مزید مؤثر بنانا اور موجودہ دور کے چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت بڑھانا ہونا چاہیے۔

روس اور یوکرین کی جنگ کے معاشی اثرات کا ذکر کرتے ہوئے گوتریس نے کہا کہ روس کے یوکرین پر حملے کے بعد پانچ بڑی مغربی تیل کمپنیوں نے 500 ارب ڈالر منافع کمایا۔ ان کے مطابق جنگوں کے انسانی نقصانات کے ساتھ ساتھ عالمی معیشت اور وسائل پر بھی گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ دنیا کو ایسے نظام کی ضرورت ہے جہاں جنگوں کے بجائے امن، تعاون اور مشترکہ ترقی کو ترجیح دی جائے، باہم مربوط عالمی معیشت اور معاشرے مسائل کے متوازن حل کیلئے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرسکتے ہیں۔

مصنوعی ذہانت کے حوالے سے انتونیو گوتریس نے خبردار کیا کہ دنیا کو اس شعبے کے فوجی استعمال کے ممکنہ خطرات پر فوری توجہ دینا ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ سرد جنگ کے دوران حریف ممالک نے ایٹمی ہتھیاروں کے خطرات کو تسلیم کیا تھا، آج مصنوعی ذہانت کیلئے بھی اسی وضاحت اور ہنگامی احساس کی ضرورت ہے۔

 سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ نے واضح کیا کہ زندگی اور موت کے فیصلے کبھی مشینوں کے حوالے نہیں کیے جانے چاہئیں۔ ان کے مطابق ایسے ہتھیار جن میں انسانی نگرانی کے بغیر کسی انسان کو نشانہ بنانے یا ہلاک کرنے کا فیصلہ کیا جاسکے، مستقبل کیلئے سنگین خطرات پیدا کرسکتے ہیں۔

گوتریس نے کہا کہ قاتل روبوٹس کی ہمارے مستقبل میں کوئی جگہ نہیں ہونی چاہیے۔ مصنوعی ذہانت کے مثبت استعمال کے امکانات اپنی جگہ موجود ہیں، تاہم اس ٹیکنالوجی کو فوجی مقاصد کیلئے استعمال کرتے وقت بین الاقوامی قانون اور انسانی نگرانی کو یقینی بنانا ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کو خوراک کی قلت، نقل مکانی، بارودی سرنگوں کی صفائی اوردیگرانسانی مسائل سے نمٹنے کیلئے استعمال کیا جاسکتا ہے لیکن اگرمناسب ضوابط اورحفاظتی اقدامات نہ کیے گئے تو یہی ٹیکنالوجی نئے خطرات کو جنم دے سکتی ہے۔

انتونیو گوتریس نے کہا کہ دنیا اس وقت کئی سنگین بحرانوں کا سامنا کررہی ہے اوران تمام مسائل کا حل صرف طاقت کے ذریعے تلاش نہیں کیا جاسکتا۔

 جنگیں کسی مسئلے کا حل نہیں بلکہ مزید انسانی المیوں کو جنم دیتی ہیں، اس لیے عالمی برادری کو مذاکرات، سفارت کاری اور سیاسی حل کیلئے اپنی کوششیں تیز کرنا ہوں گی۔

انہوں نے کہا کہ قیام امن کیلئے سب کو مل کر اقدامات کرنا ہوں گے، امن کیلئے ایک جگہ بیٹھ کر مسائل کا حل نکالنا ہوگا۔ عالمی قوانین سب کیلئے برابر ہیں اور ان کا احترام عالمی امن اور استحکام کیلئے بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔

سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ نے زور دیا کہ جنگوں کے خاتمے، شہریوں کے تحفظ، انسانی امداد کی فراہمی اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری کیلئے عالمی برادری کو مشترکہ ذمہ داری ادا کرنا ہوگی۔

ان کے مطابق موجودہ دور کے پیچیدہ عالمی مسائل کا مقابلہ باہمی تعاون، سیاسی مذاکرات اور اجتماعی اقدامات کے ذریعے ہی کیا جاسکتا ہے۔


install suchtv android app on google app store



Source link

متعلقہ پوسٹ