اسرائیلی فوج نے فلسطینی اتھارٹی کے کرنل کو گرفتار کر لیا

news 1790184927 7093



news 1790184927 7093

(24 نیوز)  مغربی کنارے میں  اسرائیلی کمانڈوز نے فلسطینی اتھارٹی کے ایک کرنل کو مبینہ طور پر دہشت گردانہ سرگرمیوں کو آگے بڑھانے کے الزام میں گرفتار کیا ہے۔ 2 فلسطینیوں پر مبینہ طور پر  اسرائیل کی حکومت کے انتہا پسند وزیر بین گویر کو قتل کرنے اور دہشت گردانہ حملوں کی منصوبہ بندی کرنے کا الزام سامنے آیا ہے۔ 

فلسطین مین دو الگ مگر ایک ہی دن سامنے آنے والے واقعات  رپورٹ ہوئے ہیں جن کی 23 ستمبر 2026 کو اسرائیلی حکام نے یہ تفصیلات جاری کیں:

 فلسطینی اتھارٹی کے کرنل کی گرفتاری
اسرائیلی بارڈر پولیس کے خفیہ اہلکاروں نے نابلس کے جنوب میں گاؤں کفر قلیل میں رات کے چھاپے کے دوران فلسطینی اتھارٹی کی پریوینٹیو سکیورٹی سروس  Preventive Security Service کے ایک کرنل کو گرفتار کیا۔

اس فلسطینی کرنل کا نام فلسطینی میڈیا کے مطابق مجدی عامر (Majdi Amer) ہے۔ اسرائیلی پولیس نے ان کرنل کو  ایک مطلوب شخص اور  فتح تنظیم کا رکن  بتایا اور الزام لگایا کہ وہ "دہشت گردانہ سرگرمیوں کو آگے بڑھا رہا تھا۔ ٹائمز آف اسرائیل نے  فوجی حکام کےحوالے سے رپورٹ کیا کہ کرنل مجدی عامر کی” گرفتاری کے لیے undercover اہلکاروں نے عمارت کو گھیر کر جس طریقے سے مشتبہ شخص کو باہر آنے پر مجبور کیا، اسے اسرائیلی پولیس نے پریشر ککر ٹیکٹک  "pressure cooker” tactic کہا۔

اس وقت تک اسرائیلی پولیس نے یہ نہیں بتایا کہ کرنل نے کون سا مخصوص حملہ کیا یا کس کارروائی کی منصوبہ بندی کی۔ اس سنگین واقعہ پر  فلسطینی اتھارٹی کا مؤقف سامنے نہیں آیا۔

بین گویر کو قتل کرنے کا مبینہ منصوبہ
آج بدھ کے روز  اسرائیلی فوجی پراسیکیوٹرز نے فلوطین مین نابلس کے علاقے سے تعلق رکھنے والے دو فلسطینیوں پر فردِ جرم عائد کی۔

اسرائیل کی انٹرنل سکیورٹی ایجنسی شین بیخ Shin Bet اور پولیس کے مشترکہ بیان کے مطابق گرفتار کئے گئے  دونوں فلسطینیوں نے 2023 کے آخر سے مل کر مسلح سرگرمی  کو آگے بڑھانا شروع کیا تھا۔ ان  دونوں پر دوسرے افراد کو بھرتی کرنے اور ہتھیار چلانے  کی تربیت دینے کا الزام ہے۔ ان پر رائفلیں اور گولہ بارود جمع کرنے کا  بھی الزام ہے۔

اسرائیلی حکام نے الزام لگایا کہ انہوں نے 2024 میں قومی سلامتی کے  وزیرِ اتمار بن گویر کو قتل کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔
الزام کے مطابق ایک ویڈیو میں بن گویر کو کسی دہشت گرد حملے کی جگہ پہنچتے دیکھا گیا، جس کے بعد منصوبہ بنایا گیا کہ ایسا حملہ کیا جائے جس سے بن گویر وہاں پہنچے اور پھر اسے قتل کیا جائے۔
بعد میں ایک مشتبہ شخص نے بارودی مواد سے لیس ڈرون استعمال کرنے کی تجویز دی اور مبینہ طور پر چین سے ڈرون کے پرزے خریدنے کی کوشش کی۔
ان پر اسرائیلی شہریوں اور فوجیوں کے خلاف کار بم، ڈرون حملے، فائرنگ اور ایک فوجی کو اغوا کرنے کی منصوبہ بندی کا بھی الزام ہے۔
دونوں افراد ابھی زیرِ حراست ہیں اور اسرائیلی حکام نے دونوں کے نام بھی جاری نہیں کیے۔

ایک دلچسپ تفصیل
بن گویر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ یہ ان کے خلاف گیارہواں قتل کا منسوبہ ہے۔ یہ بن گویر کا اپنا دعویٰ ہے، اس مخصوص کیس سے الگ اسے میں آزادانہ طور پر تصدیق شدہ عدد نہیں کہا جا سکتا۔  بین گویر کا شمار نیتن یاہو کی حکومت کے سب سے زیادہ اشتعال پھیلانے والے انتہا پسند وزیروں میں ہوتا ہے۔ 

یہ بھی پڑھیئے:   اسلام آباد میں سیکشن144 نافذ ہو گئی، اجتماعات پر پابندی 





Source link

متعلقہ پوسٹ