سپریم کورٹ. (تصویر: دی وائر)
سپریم کورٹ کی دو رکنی بنچ نے چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمشنروں کی تقرری سے متعلق 2023 کے قانون کو چیلنج دینے والی عرضیوں کو آئینی بنچ کے پاس بھیج دیا ہے۔ جسٹس دیپانکر دتہ نے تقرری کے عمل میں ایگزیکٹو کے اثر و رسوخ پر سوال اٹھائے، جبکہ جسٹس ستیش چندر شرما نے بڑی بنچ کی ضرورت بتائی۔
نئی دہلی:سپریم کورٹ کی دو رکنی بنچ نے بدھ (23 ستمبر) کو چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمشنروں کی تقرری سے متعلق 2023 کے قانون کو چیلنج دینے والی عرضیوں کو آئینی بنچ کے پاس بھیج دیا۔
لائیو لا کی رپورٹ کے مطابق، جسٹس دیپانکر دتہ نے کہا کہ پہلی نظرمیں 2023 کا قانون ایگزیکٹو کو ویٹو کا اختیار دیتا ہے، کیونکہ وزیراعظم، ایک مرکزی وزیر اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر پر مشتمل کمیٹی کی جانب سے کی جانے والی تقرریاں ’ادراک کی سطح پر اعتماد‘ کی کسوٹی پر کھری نہیں اترتی۔
’آزاد اور منصفانہ انتخابات کا انحصار حقیقت میں ایک آزاد الیکشن کمیشن پر ہوتا ہے۔ الیکشن کمیشن کا آزاد ہونا ہی کافی نہیں ہے، بلکہ اسے آزاد نظر بھی آنا چاہیے۔ وزیراعظم کی جانب سے نامزد کیے گئے رکن سے یہ امید نہیں کی جا سکتی کہ وہ وزیراعظم کے فیصلے کی مخالفت کرے گا، ‘جسٹس دتہ نے کہا۔
اس کے علاوہ جسٹس دتہ نے سلیکشن کمیٹی میں ایک مرکزی وزیر کو تیسرے رکن کے طور پر شامل کیے جانے کے جواز پر بھی سوال اٹھایا۔
لائیو لا کے مطابق، انہوں نے کہا، ’مرکزی وزیر کو شامل کرنے سے وہ آزادانہ توازن قائم نہیں ہو پاتا جو کسی غیر جانب دار سلیکٹر کے ہونے سے بنتا۔ یہ انتظام بڑی حد تک محض دکھاوے تک محدود ہو جاتا ہے۔‘
شنوائی کے دوران جسٹس دتہ نے کہا کہ مرکزی حکومت کی جانب سے معاملے کو بڑی بنچ کے پاس بھیجنے کا مطالبہ مناسب نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن میں تقرریاں ایگزیکٹو کے اثر و رسوخ سے آزاد ہونی چاہیے، یہ آئینی اصول سپریم کورٹ کی پانچ رکنی بنچ پہلے ہی 2023 کے انوپ برنوال معاملے میں واضح کر چکی ہے۔
تاہم، جسٹس ستیش چندر شرما نے اس سے اختلاف کیا۔ انہوں نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 145(3) کے تحت اس معاملے پر باضابطہ طور پر فیصلہ کیا جانا ضروری ہے، کیونکہ اس میں آئین کی تشریح سے متعلق ایک اہم سوال سامنے آیا ہے۔
منقسم فیصلے میں بنچ نے کہا کہ معاملہ ہندوستان کے چیف جسٹس کے سامنے رکھا جائے، تاکہ وہ اس معاملے کی سماعت کے لیے آئینی بنچ تشکیل دے سکیں اور معاملے میں تاخیر سے بچا جا سکے۔
لائیو لا کے مطابق، حکم نامے میں کہا گیا، ’تین ججوں کی بنچ کی جانب سے ان دونوں میں سے کون سا مؤقف درست ہے، اس پر لیاگیا فیصلہ زیادہ مفید نہیں ہوگا اور اس سے اٹھائے گئے اہم مسائل پر فیصلہ کرنے میں صرف تاخیر ہوگی۔‘
سپریم کورٹ کی بنچ نے یہ فیصلہ چیف الیکشن کمشنر اور دیگر الیکشن کمشنروں (تقرری، سروس کی شرائط اور مدت کار) ایکٹ، 2023 کو چیلنج کرنے والی عرضیوں کی سماعت کے دوران دیا۔ عرضیوں میں خاص طور پر ایکٹ کی دفعہ 7 کو چیلنج کیا گیا تھا، جو سلیکشن کمیٹی سے متعلق ہے۔ عرضی گزاروں کا استدلال تھا کہ سلیکشن کمیٹی میں ایگزیکٹو کو دو کے مقابلے ایک کی اکثریت حاصل ہے، جس سے الیکشن کمیشن کی آزادی متاثر ہوتی ہے۔
غورطلب ہے کہ فی الحال چیف الیکشن کمشنر سمیت تینوں الیکشن کمشنروں کی تقرری مودی حکومت نے کی ہے اور ان کی تقرریاں 2023 کے متنازعہ قانون کے تحت ہوئی ہیں۔ اس قانون کے تحت الیکشن کمشنروں کی تقرری کرنے والی سلیکشن کمیٹی سے ہندوستان کے چیف جسٹس کو خارج کر دیا گیا تھا۔ چیف جسٹس کی موجودگی کا مقصد الیکشن کمیشن جیسے اہم آئینی ادارے میں غیر جانبدار تقرری کو یقینی بنانا تھا۔

