واشنگٹن، — ایک تازہ سی این این/ایس ایس آر ایس رائے شماری کے مطابق صرف 26 فیصد امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ایران جنگ سے نمٹنے کے طریقہ کار کی حمایت کرتے ہیں، جبکہ 73 فیصد اس کی مخالفت کرتے ہیں۔ یہ شرح مارچ میں ریکارڈ کی گئی 33 فیصد حمایت سے نمایاں کمی ظاہر کرتی ہے۔
16 سے 17 ستمبر کے دوران 1,206 امریکی بالغوں پر کی گئی اس رائے شماری سے پتہ چلتا ہے کہ حمایت میں کمی صرف ڈیموکریٹس تک محدود نہیں۔ ریپبلکن میں حمایت مارچ کے 73 فیصد سے گھٹ کر اب 60 فیصد رہ گئی ہے، جبکہ 45 سال سے کم عمر ریپبلکن میں 53 فیصد اور غیر-MAGA ریپبلکن میں 54 فیصد نے تنازعے سے نمٹنے کے طریقے کی مخالفت کی۔
ایک الگ رائٹرز/آئیپسوس سروے میں ٹرمپ کی مجموعی مقبولیت 32 فیصد اور ایران پالیسی کی حمایت 34 فیصد ریکارڈ کی گئی۔
سروے میں غیر یقینی صورتحال بھی واضح ہوئی: 75 فیصد کا ماننا ہے کہ ٹرمپ کے پاس ایران کے حوالے سے کوئی واضح منصوبہ نہیں، 78 فیصد کہتے ہیں کہ وہ جنگ ختم کرنے کیلئے کافی کوششیں نہیں کر رہے، اور 69 فیصد کو طویل مدتی فوجی تنازعے کا خدشہ ہے۔ 76 فیصد امریکیوں کی رائے میں جنگ امریکی جانوں کے ضیاع اور مالی بوجھ کے قابل نہیں تھی۔
ٹرمپ کی مجموعی خارجہ پالیسی بھی دباؤ کا شکار ہے — صرف 29 فیصد اس کی حمایت کرتے ہیں (جنوری میں 39 فیصد تھی) اور محض 20 فیصد کا خیال ہے کہ ان کے فیصلوں سے عالمی سطح پر امریکہ کا مقام بہتر ہوا، جبکہ 65 فیصد نے نقصان کی بات کہی۔ یہ اعداد و شمار نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے قبل اور ٹرمپ کے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے دوران ایران کو مرکزی موضوع بنانے کے تناظر میں سامنے آئے ہیں۔

