اے آئی رہنماؤں کا اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں انتباہ

Inquilab 20260924 182617 0000 d 1


نیویارک— مصنوعی ذہانت کی صنعت کے سرکردہ رہنماؤں نے بدھ کے روز اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل سے خطاب کرتے ہوئے حکومتوں کو خبردار کیا کہ اے آئی ٹیکنالوجی کو فوری طور پر ریگولیٹ نہ کیا گیا تو یہ انسانی کنٹرول سے باہر ہو سکتی ہے۔
اینتھروپک کے سی ای او ڈاریو اموڈئی نے کہا کہ ناقص انتظام کے تحت چلنے والی اے آئی انسانیت کیلئے سنگین خطرہ بن سکتی ہے۔ اوپن اے آئی کے سیم آلٹ مین نے دنیا کے مستقبل پر کنٹرول کھو دینے کے خطرے کی نشاندہی کی، جبکہ ہگنگ فیس کے کلیمنٹ ڈیلانگو نے بھی — تکنیکی مسائل کے باوجود — خطاب کیا۔
اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوٹیرس نے زور دیا کہ "زندگی اور موت کے فیصلے کبھی مشینوں کے سپرد نہیں کئے جانے چاہئیں،” جبکہ فرانسیسی وزیرِ خارجہ ژاں نوئل باروٹ نے اس لمحے کا موازنہ ایٹمی دور کے آغاز سے کیا۔
تاہم اتفاقِ رائے مکمل نہیں۔ برطانیہ نے عالمی معیارات کی حمایت کی، مگر امریکی صدر ٹرمپ نے اے آئی کنٹرول کی کسی بھی "عالمگیر اسکیم” کو مسترد کر دیا، اور چین نے قومی خودمختاری پر زور دیا۔ یہ بحث چینی صدر شی جن پنگ کے واشنگٹن دورے کے دوران سامنے آئی۔

متعلقہ پوسٹ