بلوچستان حکومت سے مذاکرات، کسان اتحاد کا کوئٹہ سے اسلام آباد لانگ مارچ موخر

398689 98179131


پاکستان کسان اتحاد نے بلوچستان حکومت کی درخواست اور سکیورٹی صورت حال کے پیش نظر کوئٹہ سے اسلام آباد کی جانب جاری لانگ مارچ اور دھرنا موخر کر دیا ہے، جبکہ حکومت نے کسان اتحاد کے مطالبات کے حل کی یقین دہانی کرائی ہے۔

لانگ مارچ کی قیادت کرنے والے کسان اتحاد کے چیئرمین خالد باٹھ نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’ہمارا لانگ مارچ منزل کی طرف گامزن تھا لیکن زیارت سے پہلے بلوچستان حکومت نے رابطہ کرکے بتایا کہ سکیورٹی فورسز کا عسکریت پسندوں کے خلاف آپریشن جاری ہے اور روڈ بند ہے، لانگ مارچ موخر کر دیا جائے۔ لہذا ہم واپس کوئٹہ جا رہے ہیں۔ لانگ مارچ کی آئندہ روانگی کی تاریخ کا اعلان جلد کیا جائے گا۔‘

بلوچستان کے معاون برائے محکمہ داخلہ بابر یوسفزئی کے مطابق صوبائی وزیر علی مدد جتک کی قیادت میں حکومتی وفد نے کسان اتحاد کے صدر خالد باٹھ سے ملاقات کی، جس میں رکن صوبائی اسمبلی میر جہانزیب مینگل بھی شریک ہوئے۔

انہوں نے بتایا کہ مذاکرات کے دوران حکومتی وفد نے کسان اتحاد کے صدر خالد باٹھ کو ان کے مطالبات کے حل کی یقین دہانی کرائی، جس کے بعد انہوں نے حکومتی یقین دہانی اور درخواست کو قبول کرتے ہوئے لانگ مارچ موخر کرنے کا اعلان کیا۔

بابر یوسفزئی کے مطابق ملکی حالات اور امن و امان کی صورت حال کے پیش نظر کسان اتحاد نے اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ موخر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

انہوں نے حکومت بلوچستان اور کسان اتحاد کے درمیان مذاکرات کو مثبت پیش رفت کی جانب اہم قدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت کسان برادری کے جائز مطالبات کے حل کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔

کسان اتحاد کا لانگ مارچ کیوں شروع ہوا تھا؟

کسان اتحاد کے ایک دھڑے نے وزیر اعلیٰ پنجاب کے خلاف کوئٹہ پریس کلب سے اسلام آباد تک لانگ مارچ کا آغاز کیا تھا، تاہم کسان اتحاد کے دوسرے دھڑے اور بلوچستان کی کسان تنظیموں نے اس میں شامل نہ ہونے کا اعلان کیا تھا۔

پاکستان کے دیگر صوبوں کی طرح پنجاب میں بھی کاشتکاروں کو سنجیدہ مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، جن میں گنے کی قیمت، شوگر ملوں سے گنے کے کاشتکاروں کو ادائیگیوں میں تاخیر اور گندم کی خریداری پر تحفظات شامل ہیں۔

اس کے علاوہ کھاد، بیج اور بجلی کے بلوں کے معاملے پر بھی کسان مشکلات کا اظہار کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ ان مسائل کے حل کی امید لے کر کسان تنظیمیں گزشتہ دو دہائیوں سے مختلف اوقات میں احتجاج بھی کرتی رہی ہیں۔

انہی مسائل کو حل کرانے کے لیے کسان اتحاد خالد باٹھ گروپ نے جمعہ 25 ستمبر کو کوئٹہ سے اسلام آباد تک لانگ مارچ کی تیاری کی تھی، تاہم اب اسے موخر کر دیا گیا ہے۔

لانگ مارچ شروع کرنے سے قبل چیئرمین کسان اتحاد خالد باٹھ نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا تھا کہ ’کاشتکاروں کو سب سے زیادہ مسائل پنجاب میں درپیش ہیں، جنہیں حل کرنے میں وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نہ سنجیدہ ہیں اور نہ کسانوں کی شکایات سنتی ہیں۔ اس لیے ہم وزیر اعلیٰ پنجاب کے استعفے کے مطالبے کے ساتھ آج کوئٹہ پریس کلب سے اسلام آباد تک لانگ مارچ شروع کر رہے ہیں۔‘

دیگر تنظیمیں لانگ مارچ میں شامل کیوں نہیں تھیں؟

کسان اتحاد کے دوسرے بڑے دھڑے کے صدر ملک خالد کھوکھر نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا تھا کہ ’کسانوں کو جن سنجیدہ مشکلات کا سامنا ہے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہیں۔ حکومت ہمارے مسائل حل کرنے میں سنجیدہ بھی دکھائی نہیں دیتی۔ لیکن اس کا حل سڑکیں بلاک کرنا یا تحریک چلانا نہیں بلکہ مل بیٹھ کر قابل عمل لائحہ عمل بنانے میں ہے۔ ہماری تنظیم یا بلوچستان سمیت کسی بھی صوبائی تنظیم کا کوئٹہ سے شروع ہونے والے لانگ مارچ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔‘

انہوں نے کہا تھا کہ ’کسان اتحاد کے نام سے سیاسی جماعت بنانے والوں نے یہ سیاسی حکمت عملی بنائی ہے، جس کا مقصد کسانوں کی مشکلات ختم کرنے کی بجائے ان کے نام پر سیاسی فائدہ حاصل کرنا ہے۔ جو سیاسی جماعت الیکشن کمیشن میں رجسٹرڈ ہے وہ کسانوں کی نمائندگی کیسے کر سکتی ہے۔‘

بلوچستان کی کسان تنظیموں نے بھی اس لانگ مارچ میں شرکت نہیں کی تھی، نہ ہی کسانوں کی وہاں سے نمائندہ تنظیم کے کسی عہدیدار نے اس کے حق میں کوئی اعلان کیا تھا۔

خالد کھوکھر کے بقول، ’کوئٹہ میں لانگ مارچ سے بلوچستان کے کسان بھی متفق نہیں ہیں، نہ ہی وہ اس میں شریک ہو رہے ہیں۔ کیونکہ اس وقت ملک میں دیگر کئی مسائل موجود ہیں، امن و امان کی صورت حال بھی واضح ہے۔ ایسے حالات میں سڑکوں پر نکلنا کسی کے بھی حق میں نہیں ہے۔‘

لانگ مارچ کا راستہ اور آئندہ کا لائحہ عمل

لانگ مارچ کی قیادت کرنے والے خالد باٹھ نے بتایا تھا کہ یہ مارچ کوئٹہ سے براستہ ڈیرہ اسماعیل خان اسلام آباد پہنچے گا اور پنجاب کی حدود میں داخل نہیں ہوگا، جبکہ ملتان سے ان کے اتحادی کسانوں کی ریلی راستے میں ان کے ساتھ شامل ہوگی۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

تاہم جمعے کو مارچ کی روانگی کے بعد زیارت سے قبل بلوچستان حکومت نے کسان اتحاد سے رابطہ کیا اور سکیورٹی فورسز کے عسکریت پسندوں کے خلاف جاری آپریشن اور روڈ بند ہونے کی اطلاع دیتے ہوئے لانگ مارچ موخر کرنے کی درخواست کی۔

خالد باٹھ کے مطابق کسان اتحاد نے حکومت کی درخواست قبول کرتے ہوئے مارچ موخر کر دیا ہے اور شرکا واپس کوئٹہ جا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ لانگ مارچ کی آئندہ روانگی کی تاریخ کا اعلان جلد کیا جائے گا۔

دوسری جانب بلوچستان حکومت کے معاون برائے محکمہ داخلہ بابر یوسفزئی نے کہا ہے کہ حکومت اور کسان اتحاد کے درمیان مذاکرات کامیاب رہے اور کسان اتحاد نے حکومتی یقین دہانی اور درخواست کو قبول کرتے ہوئے اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ اور دھرنا موخر کر دیا ہے۔

بابر یوسفزئی کے مطابق صوبائی حکومت کسان برادری کے جائز مطالبات کے حل کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔





Source link

متعلقہ پوسٹ