نیویارک: اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کے اقوام متحدہ جنرل اسمبلی سے خطاب کے آغاز پر درجنوں ممالک کے نمائندے ہال سے باہر نکل گئے۔ اسرائیلی ذرائع کے مطابق ۷۷ وفود ہال سے غیر حاضر رہے یا تقریر کے دوران باہر چلے گئے، جس کی رائٹرز نے بھی تصدیق کی۔
یہ خطاب ۲۴ ستمبر کو ۸۱ ویں جنرل اسمبلی کے ۹ ویں اجلاس میں ہوا۔ نیتن یاہو نے خطاب شروع کرنے سے پہلے ہی واک آؤٹ کرنے والوں کو ’’اخلاقی بزدل‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا: ’’اگر کوئی اور ابھی تک نہیں نکلا تو براہ کرم وہ بھی چلا جائے۔‘‘ جنرل اسمبلی کے صدر خلیل الرحمٰن نے نظم برقرار رکھنے کی متعدد اپیلیں کیں۔
اپنی تقریر میں نیتن یاہو نے ایران کی جوہری تنصیبات پر حملے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ یہ ان کا ’’آسان ترین فیصلہ‘‘ تھا اور بصورتِ دیگر ’’ہم سب مر چکے ہوتے‘‘۔ انہوں نے غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو جھوٹ قرار دیا، جبکہ اسرائیل کی پالیسیوں پر تنقید کرنے پر برطانیہ، فرانس، قطر اور ترکی کو بھی نشانہ بنایا۔
انہوں نے نیویارک کے میئر ظہران ممدانی کو براہ راست مخاطب کرتے ہوئے کہا، ’’آپ مجھے خاموش نہیں کراسکتے‘‘، جس پر ممدانی نے الزامات کو بے بنیاد قرار دیا۔ اقوام متحدہ کے باہر جیوش وائس فار پیس سے وابستہ مظاہرین نے بھی نیتن یاہو کے دورے کے خلاف احتجاج کیا۔

