ترکی کے مشرقی علاقے دوروپنار میں، کوہ ارارات کے قریب، ایک بار پھر نوح کی کشتی سے متعلق دعووں نے توجہ حاصل کر لی ہے۔ 2026ء میں جاری ایک بین الاقوامی تحقیق کے دوران جدید ریڈار سروے سے زیر زمین سیدھی لکیریں، قائمہ زاویوں سے کاٹتی ساختیں اور ممکنہ خالی جگہیں سامنے آئی ہیں۔ محققین نے ابھی تک اسے حضرت نوح کی کشتی قرار نہیں دیا۔
سیواس جمہوریہ یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر جنکر آتیلا کی سربراہی میں جاری اس تحقیق میں پانچ ممالک کے تقریباً 20 سائنس دان اور طلبہ شامل ہیں۔ 28 جون سے شروع ہونے والے 90 روزہ فیلڈ ورک میں نقشہ سازی، 2D اور 3D ماڈلنگ، GPS پیمائش، زیر زمین ریڈار اور مٹی کے نمونے لینے کے طریقے استعمال کیے گئے۔
150 مقامات سے حاصل کیے گئے تقریباً ایک ہزار مٹی کے نمونوں کے ابتدائی تجزیے میں فارمیشن کے اندر کاربن کی مقدار باہر کی مٹی کے مقابلے میں تقریباً 40 فیصد زیادہ پائی گئی، جسے نامیاتی مادے یا ممکنہ لکڑی کے آثار سے جوڑا جا رہا ہے، تاہم اکیلے یہ ثبوت کافی نہیں سمجھا جا رہا۔
معاون تنظیم نوحز آرک اسکینز کے مطابق تقریباً 18 میٹر گہرائی تک ڈرلنگ کی جا رہی ہے، جہاں ایک مقام پر سخت تہہ سے ٹکراؤ کے بعد ممکنہ پتھر نما لکڑی کے نمونے حاصل کیے گئے، جن کی تصدیق تجربہ گاہ میں ہونا باقی ہے۔ حتمی نتائج سردیوں میں متوقع تجزیوں کے بعد سامنے آئیں گے، جبکہ مکمل تحقیقی رپورٹ 2027ء میں شائع کیے جانے کا ہدف ہے۔

