امریکا اور چین کا 30 ارب ڈالر کی اشیا پر ٹیرف کم کرنے پر اتفاق
‘امریکا اور چین کے درمیان آئندہ مذاکرات نومبر میں ہوں گے’
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان تین روزہ سربراہی ملاقات کے بعد امریکا اور چین نے تقریباً 30 ارب ڈالر مالیت کی اشیا پر عائد ٹیرف میں کمی اور مصنوعی ذہانت سے متعلق مذاکرات شروع کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق دونوں ممالک نے امریکا اور چین کے درمیان تجارت میں شامل غیر حساس اشیا کے لیے زیادہ سازگار ٹیرف پالیسی کی سفارشات پر اتفاق کیا ہے۔
مجوزہ اقدامات کے تحت امریکا سے چین برآمد کی جانے والی زرعی مصنوعات، لکڑی اور کاسمیٹکس جبکہ چین سے امریکا درآمد ہونے والی چھوٹی گھریلو اشیا، کھلونے اور آرائشی سامان شامل ہوگا۔
امریکا اور چین نے تجارتی امور پر رابطے کے لیے ایک نئی ٹریڈ کونسل قائم کرنے اور کوالالمپور میں ہونے والے سابقہ مذاکرات کے نتائج کو مزید آگے بڑھانے پر بھی اتفاق کیا۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دنیا کی دونوں بڑی معیشتوں نے تجارتی جنگ بندی میں مزید دو ماہ کی توسیع کی ہے جس سے وسیع تر تجارتی معاہدے کے لیے مذاکرات جاری رکھنے کا موقع مل گیا ہے۔
دونوں ممالک نے مصنوعی ذہانت کے شعبے میں بھی تعاون اور مذاکرات شروع کرنے پر بھی اتفاق کیا جبکہ مذاکرات میں ٹیکنالوجی کے فوائد، ممکنہ خطرات اور مصنوعی ذہانت سے متعلق معاملات پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق امریکا اور چین کے درمیان آئندہ مذاکرات نومبر میں ہوں گے جبکہ مصنوعی ذہانت سے متعلق ممکنہ واقعات سے نمٹنے کے لیے رابطے کا ایک خصوصی چینل بھی قائم کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ چینی صدر شی جن پنگ تین روزہ دورہ امریکا مکمل کرنے کے بعد بیجنگ پہنچ گئے ہیں۔

