اسلام آباد/ماسکو: افغانستان میں دہشت گردوں کے بڑھتے ہوئے نیٹ ورکس نے خطے کے ممالک کی تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔ روس نے افغانستان میں سرگرم دہشت گرد تنظیموں پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے جبکہ پاکستان کے نمائندہ خصوصی برائے افغانستان نے افغان سرزمین پر ہزاروں ازبک دہشت گردوں کی موجودگی کے حوالے سے اپنے ازبک ہم منصب سے رابطہ کیا ہے۔
خطے کے ممالک کا خیال ہے کہ افغانستان میں موجود دہشت گرد عناصر نہ صرف پاکستان بلکہ وسطی ایشیائی ریاستوں کے لیے بھی سنگین خطرہ بنتے جا رہے ہیں۔ ازبکستان سمیت متعدد وسطی ایشیائی ممالک افغان سرزمین سے آپریٹ کرنے والی ازبک دہشت گرد تنظیموں کی سرگرمیوں پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔
پاکستانی نمائندہ خصوصی کی ازبک ہم منصب سے رابطے میں افغانستان میں موجود ازبک دہشت گردوں کی تعداد، ان کی سرگرمیوں اور خطے کی سلامتی پر مرتب ہونے والے اثرات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں اطراف نے اس خطرے سے نمٹنے کے لیے مشترکہ حکمت عملی اپنانے کی ضرورت پر زور دیا۔
واضح رہے کہ افغانستان میں تحریک طالبان پاکستان (TTP)، داعش خراسان اور متعدد وسطی ایشیائی دہشت گرد تنظیمیں سرگرم ہیں جو خطے کے استحکام کے لیے مسلسل خطرہ بنی ہوئی ہیں۔

