پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ دنوں میں جو جھڑپیں ہوئی ہیں ان میں بات زمینی حملوں سے بڑھ کر ایک بار پھر فضائی معرکہ آرائی تک جا پہنچی ہے ۔ افغانستان کی طرف سے بھی دو ڈرون حملے پاکستان پر ہوے اور پاکستان نے بھی جواب میں دس فضائی حملے ڈرون سٹور کئے جانے والے علاقوں پر کئے ۔ دونوں ممالک ایک دوسرے کے شہیدوں کی تعداد بڑھانے کے درپے ہیں ۔ اب تک تو ہم یہی سنتے اے تھے کہ کا فر کا مقابلہ کرتے ہوے مسلمان اگر مارا جاے تو وہ شہید ہے یہاں افغان باڈر ہو ، خلیجی ممالک یا پھر حوثی قبائل سب ایک دوسرے کو مارنے پر تلے ہوے ہیں ۔ فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ ان میں غازی کون ہے اور شہید کون ؟
افغانستان کی طرف سے جو تازہ تخریبی کاروائی کوۂاٹ میں کی گئی وہ حالات کو مزید بگاڑنے کا موجب بنی ۔ سانحہ کوہاٹ کی جو رپورٹ جاری ہوئی ہے اس کے مطابق دہشت گردوں کے ساتھ مقابلہ 21 گھنٹے جاری رہا جس میں ایک خودکش بمبار کے علاوہ 8 دہشت گرد پولیس کے ہاتھوں مارے گئے ۔ جبکہ دہشت گردوں کے ساتھ مقابلہ کے دوران 17 پولیس اہل کار اور 8 عام شہریوں نے جام شہادت نوش کیا۔ شہید ہونے والوں میں ایس پی ، ڈی ایس پی ، انسپکٹر و دیگر پولیس افسران شامل ہیں ۔اس قومی سانحہ پر حسب معمول ہماری حکومت اور سیاسی اکابرین نے دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے اور دہشت گردوں کی کمر توڑ دینے کے اعلانات کئے ۔ ابھی ان اعلانات کی گونج فضاء میں موجود تھی کہ کل ڈیرہ اسمعیٰل خان کے علاقہ میں خودکش حملہ میں 6 پولیس اہل کار ، دو کسٹم اہل کار ، بچوں خواتین سمیت پندرہ افراد شہید اور تیس زخمی ہوے جن میں کئی کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے ۔ حکومتی بیانات اپنی جگہ لیکن اب عام شہری بھی یہ جان گیا ہے کہ دہشت گردی کو کنٹرول کرنے میں حکومت ناکام ہو چکی ہے ۔ سرحد پار سے آ کر دہشت گرد جب اپنے مقصد میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو سرحد کے اندر موجود ان کے ہمدردوں کو نیا حوصلہ ملتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ کچھ عرصہ سے پاکستان میں مذہبی منافرت کے سبب قاتلانہ حملوں میں اضافہ ہو رہا ہے ۔ اور حکومت ان معاملات کو سنجیدگی سے نہی لے رہی ۔
روزانہ کی بنیاد پر ہمارے اہل کار اور عام شہری شہید ہو رہے ہیں ۔ جن کی بہادری کے قصے اور تعزیتی الفاظ لوگوں کی زبانوں پر ابھی جاری ہوتے ہیں کہ نیا واقعہ درپیش آ جاتا ہے ۔ اور جام شہادت نوش کرنے والوں کا ذکر پھر سے چل نکلتا ہے ۔ وطن کی خاطر جان کی قربانی دینے والوں کو مذہب اور عقیدہ کی آنکھ سے نہی جذبہ حب الوطنی کی آنکھ سے دیکھنا چائیے ۔
لیکن جس معاشرہ میں گاؤں کا مولوی یہ طاقت رکھتا ہو کہ گھر پر شہید کے نام کی لگی پلیٹ اتروا دے وہاں اگر کوہاٹ میں وطن کی خاطر جان کو خطرہ میں ڈالنے والے بہادر سپاہی عابد جان مسیح کی بہادری پر معاشرہ اور میڈیا خاموش ہے تو کوئی اچنبھے کی بات نہی ۔ ہم اس کی بہادری کو سلام اور عابد جان مسیح کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں ۔ ہمارے صحافتی ذرائع نے ہمیں بتایا کہ عابد جان ایس ایچ او سیف اللہ خان کے گنرتھے ۔ وقوعہ کے وقت وہ ٹوٹے ہوے بلاکس کی آڑ لے کر گھٹنوں کے بل بیٹھے فائرنگ کا جواب دے رہے تھے ۔ جب ان کے ساتھی پیچھے ہٹنے لگے وہ اپنی جگہ ڈٹے رہے اورمقابلہ جاری رکھا تاوقتیکہ کے دشمن کی گولی نے ان کو شدید زخمی نہ کر دیا ۔ واقعہ کی جو پولیس رپورٹ تیار کی گئی ہے اس میں کوہاٹ پولیس لائن کے جن بہادروں کے نام شامل کئے گئےہیں ان میں عابد جان مسیح کا نام بھی شامل ہے ۔ لیکن واقعہ کے چشم دید صحافی گواہ مہدی عباس بنگش کا یہ شکوہ بجا ہے کہ ہمارےبہت سے بہادر پولیس افسران اور جوانوں کا ذکر ہوا لیکن عابد جان مسیح کی تصویر ، ان کی بہادری اور ان کے کردار کا کہیں ذکر نظر نہی آیا ۔
سلام عابد جان مسیح اور کوہاٹ کے ان تمام پولیس اہل کاروں اور شہریوں کو جنہوں نے وطن کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ۔ سلام ان تمام بہادر سیکورٹی اہل کاروں کو جن کا تعلق چاہے کسی بھی مذہب سے ہو کہ آپ اس وطن کی حفاظت کے لئے جان ہتھیلی پر رکھ کے ذمہ داری نبھا رہے ہیں ۔ ہم سب ایک ہیں اور ایک رہیں گے
اور معاشرہ کو مذہب عقیدہ میں تقسیم کرنے والوں کو کامیاب نہی ہونے دیں گے ۔ قائد اعظم کے پاکستان میں ہر شہری کا حق برابر ہے

