موسمیاتی تبدیلی کے تناظر میں سمندروں کا مستقبل اور تحفظ

IMG 20260608 WA2084

تحریر: رضوان طاہر چوہان

ہر سال 8 جون کو دنیا بھر میں سمندروں کا عالمی دن منایا جاتا ہے تاکہ انسانی زندگی میں سمندروں کی اہمیت کو اجاگر کیا جا سکے اور ان کے تحفظ کے لیے اجتماعی شعور کو فروغ دیا جا سکے۔ زمین کی سطح کے 70 فیصد سے زائد حصے پر محیط سمندر کرۂ ارض کے ماحولیاتی نظام کا بنیادی ستون ہیں۔ یہ نہ صرف عالمی آب و ہوا کو متوازن رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں بلکہ اربوں انسانوں کو خوراک، روزگار، تجارت اور معاشی مواقع بھی فراہم کرتے ہیں۔
رواں سال سمندروں کے عالمی دن کا موضوع "Reimagine: Beyond The World We Know, a New Relationship With Our Ocean” ہے، جو اس امر پر زور دیتا ہے کہ انسانیت کو سمندروں کے ساتھ اپنے تعلق کو نئے انداز میں دیکھنے اور ان کے تحفظ کے لیے پائیدار حکمت عملی اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ موضوع ہمیں یاد دلاتا ہے کہ سمندر صرف قدرتی وسائل کا ذخیرہ نہیں بلکہ انسانی بقا، ترقی اور خوشحالی کے لیے ناگزیر اثاثہ ہیں۔
سمندروں کا عالمی دن اس بات کی یاد دہانی بھی کراتا ہے کہ ہماری روزمرہ زندگی کا ایک بڑا حصہ براہِ راست یا بالواسطہ طور پر سمندروں سے وابستہ ہے۔ اس دن کا مقصد عوام کو سمندری ماحول پر انسانی سرگرمیوں کے اثرات سے آگاہ کرنا، سمندروں کے تحفظ کے لیے عالمی سطح پر شعور پیدا کرنا اور دنیا بھر کے شہریوں کو سمندری وسائل کے پائیدار استعمال کے لیے متحد کرنا ہے۔
بدقسمتی سے آج دنیا کے سمندر متعدد خطرات سے دوچار ہیں۔ پلاسٹک اور دیگر آلودگیوں کی بڑھتی ہوئی مقدار سمندری حیات کو شدید نقصان پہنچا رہی ہے۔ حد سے زیادہ ماہی گیری کے باعث کئی اقسام کی مچھلیوں کے ذخائر خطرناک حد تک کم ہو چکے ہیں، جبکہ موسمیاتی تبدیلی سمندری درجہ حرارت میں اضافے، سمندری تیزابیت اور سطحِ سمندر میں بلند ی جیسے مسائل کو جنم دے رہی ہے۔ یہ تمام عوامل نہ صرف سمندری حیاتیاتی تنوع بلکہ عالمی غذائی تحفظ اور معاشی استحکام کے لیے بھی سنگین خطرہ ہیں۔
پاکستان کے لیے سمندروں کی اہمیت اور بھی زیادہ ہے۔ بحیرہ عرب کے ساتھ طویل ساحلی پٹی رکھنے والا پاکستان وسیع سمندری وسائل اور بلیو اکانومی کی بے شمار صلاحیتوں کا حامل ہے۔ ماہی گیری، بندرگاہی سرگرمیاں، سمندری تجارت، ساحلی سیاحت اور دیگر بحری شعبے قومی معیشت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ تاہم ان مواقع سے بھرپور استفادہ اسی صورت ممکن ہے جب سمندری ماحولیاتی نظام کے تحفظ کو قومی ترجیحات میں شامل کیا جائے۔
اس مقصد کے لیے مؤثر ماحولیاتی حکمرانی، سائنسی تحقیق، سمندری آلودگی کی روک تھام، پائیدار ماہی گیری کے فروغ اور ساحلی علاقوں کے تحفظ کے لیے مربوط اقدامات ناگزیر ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ تعلیمی اداروں، میڈیا، سول سوسائٹی اور نوجوانوں کو بھی سمندری شعور کے فروغ اور ماحولیاتی ذمہ داری کے احساس کو مضبوط بنانے میں فعال کردار ادا کرنا ہوگا۔
سمندروں کا تحفظ محض ایک ماحولیاتی ضرورت نہیں بلکہ معاشی اور سماجی استحکام کی بھی ضمانت ہے۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومتیں، ادارے، نجی شعبہ اور عام شہری مل کر ایسے اقدامات کریں جو سمندروں کو آلودگی، غیر قانونی ماہی گیری اور موسمیاتی خطرات سے محفوظ بنا سکیں۔
سمندروں کے عالمی دن کے موقع پر ہمیں اس عزم کا اعادہ کرنا چاہیے کہ ہم اپنے سمندروں کے ساتھ ایک نیا، ذمہ دارانہ اور پائیدار تعلق قائم کریں گے۔ ایک صاف، صحت مند اور محفوظ سمندری ماحول ہی آنے والی نسلوں کے روشن اور خوشحال مستقبل کی بنیاد بن سکتا ہے۔

متعلقہ پوسٹ