یمن کے حوثی گروپ نے بحیرۂ احمر میں اسرائیل سے منسلک بحری جہاز رانی پر ”مکمل پابندی” نافذ کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ گروپ نے جافا میں حساس اسرائیلی اہداف پر میزائل حملوں کا دعویٰ بھی کیا اور خبردار کیا کہ کشیدگی برقرار رہی تو فوجی کارروائیاں مزید بڑھائی جائیں گی۔
یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب اسرائیل اور ایران کے درمیان تناؤ ایک بار پھر عروج پر ہے۔ ایران نے شمالی اسرائیل کی جانب میزائل داغے جبکہ اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا کہ اس نے ایران کے فوجی مقامات، بشمول تہران، اصفہان، تبریز اور کرج کے اطراف، کو نشانہ بنایا ہے۔
لبنان میں بھی صورتحال کشیدہ رہی۔ اسرائیل نے بیروت کے جنوبی مضافات میں حزب اللہ کے کمانڈ سینٹر پر حملہ کیا جس میں لبنانی وزارتِ صحت کے مطابق دو افراد ہلاک اور ۲۰ زخمی ہوئے۔ ایران نے اس حملے کو اپنے میزائل حملوں کا جواز قرار دیا۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے دونوں فریقوں سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی اور کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدہ آئندہ چند روز میں طے پا سکتا ہے۔ انہوں نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو سے جوابی کارروائی سے باز رہنے کی درخواست کی۔ برطانوی وزیرِ خارجہ یوویٹ کوپر نے بھی کشیدگی میں کمی پر زور دیا۔
مبصرین خبردار کر رہے ہیں کہ حالیہ فوجی کارروائیاں اپریل کی جنگ بندی کو خطرے میں ڈال سکتی ہیں اور پورے خطے میں وسیع تر تنازع کا باعث بن سکتی ہیں۔

