اے آئی کی معلومات پر سوالیہ نشان، صحت سے متعلق غلط معلومات سامنے آ گئیں

FB IMG 1767599226355 1


مصنوعی ذہانت (اے آئی) نے زندگی کے کئی اہم شعبوں میں اپنا کردار ادا کرنا شروع کر دیا ہے، تاہم اس کی فراہم کردہ معلومات کی درستگی پر سوالات بھی اٹھنے لگے ہیں۔ اسی حوالے سے ایک حالیہ تحقیق میں حیرت انگیز نتائج سامنے آئے ہیں۔
برطانوی اخبار دی گارڈین کی تحقیق کے مطابق گوگل کے مصنوعی ذہانت پر مبنی اے آئی اوورویوز—جو سرچ نتائج کے بالکل اوپر ظاہر ہوتے ہیں—بعض اوقات صحت کے حوالے سے غلط، نامکمل یا گمراہ کن معلومات فراہم کرتے ہیں۔ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ ایسی معلومات پر انحصار کرنے سے لوگوں کی صحت اور زندگی کو سنگین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق کچھ معاملات میں اے آئی اوورویوز نے بیماریوں کی علامات، علاج اور ادویات کے بارے میں ایسی معلومات پیش کیں جو طبی ماہرین کے مستند مؤقف سے مطابقت نہیں رکھتیں۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ عوام اگر ڈاکٹر یا مستند طبی ذرائع کے بجائے صرف اے آئی کی فراہم کردہ معلومات پر بھروسا کریں تو یہ رجحان خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
تحقیق کے بعد ماہرین صحت اور ٹیکنالوجی تجزیہ کاروں نے گوگل سمیت دیگر ٹیکنالوجی کمپنیوں پر زور دیا ہے کہ وہ اے آئی سسٹمز میں فراہم کی جانے والی معلومات کی جانچ اور نگرانی کا مؤثر نظام متعارف کرائیں، خاص طور پر صحت جیسے حساس شعبے میں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت بلاشبہ ایک طاقتور ٹیکنالوجی ہے، لیکن اس کا ذمہ دارانہ اور محتاط استعمال ناگزیر ہے تاکہ غلط معلومات کے پھیلاؤ سے بچا جا سکے۔

متعلقہ پوسٹ