پاکستان کے نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے سعودی عرب، ترکی اور مصر کے وزرائے خارجہ سے ملاقات کے بعد آج اسلام آباد میں کہا ہے کہ ایران اور امریکہ دونوں نے مذاکرات میں سہولت کاری کے لیے پاکستان پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں دونوں فریقین کے درمیان بامعنی مذاکرات کی میزبانی اور سہولت کاری کو پاکستان اپنے لیے اعزاز سمجھے گا۔
اسلام آباد میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی جانب سے چار ممالک کے وزرائے خارجہ کے دوسرے اجلاس کے اختتام پر جاری بیان میں کہا گیا کہ ’وزرائے خارجہ نے خطے کی موجودہ صورتحال پر تفصیلی اور گہرائی سے تبادلہ خیال کیا اور جنگ کے جلد اور مستقل خاتمے کے ممکنہ طریقوں پر بھی غور کیا۔‘
اسحاق ڈار نے مزید بتایا کہ جاری تنازعے کی وجہ سے خطے میں انسانی جانوں اور روزگار پر تباہ کن اثرات پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا اور وزرائے خارجہ نے اس امر پر اتفاق کیا کہ یہ جنگ کسی کے حق میں نہیں اور صرف تباہی اور اموات کا باعث بنے گی۔
اس موقع پر مشکل حالات میں امت مسلمہ کے اتحاد کو انتہائی اہم قرار دیا گیا۔
وزیر خارجہ نے مہمان وزرائے خارجہ کو اسلام آباد میں ممکنہ امریکہ ایران مذاکرات کے امکانات سے آگاہ کیا جس پر مہمان ممالک نے مکمل حمایت کا اظہار کیا۔
اجلاس میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ صورتحال کو قابو میں رکھنے، فوجی کشیدگی کے خطرات کو کم کرنے اور متعلقہ فریقین کے درمیان بامقصد مذاکرات کے لیے سازگار ماحول پیدا کیا جائے گا۔
وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ تنازعات کے حل اور خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے مکالمہ اور سفارت کاری ہی واحد قابل عمل راستہ ہے، جبکہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصولوں، بشمول خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے احترام، پر عملدرآمد کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔
اسحاق ڈار نے سعودی عرب، ترکی اور مصر کے وزرائے خارجہ کا پاکستان کی امن کوششوں کی حمایت پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی قیادت میں پاکستان نے علاقائی اور عالمی شراکت داروں کے ساتھ مسلسل رابطہ رکھا ہے اور تنازع کے خاتمے کی ہر کوشش میں فعال کردار ادا کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے امریکہ کے ساتھ بھی اہم تعلقات ہیں اور کشیدگی میں کمی اور پرامن حل کی تلاش کے لیے امریکی قیادت کے ساتھ بھی مسلسل رابطہ جاری ہے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اسی تناظر میں انہوں نے کہا کہ پاکستان اس بات پر خوش ہے کہ ایران اور امریکہ دونوں نے مذاکرات کے لیے پاکستان پر اعتماد کا اظہار کیا ہے اور پاکستان آنے والے دنوں میں دونوں ممالک کے درمیان بامعنی مذاکرات کی میزبانی اور سہولت کاری کرے گا تاکہ جاری تنازع کا جامع اور دیرپا حل نکالا جا سکے۔
وزیر خارجہ نے بتایا کہ ان کی چین کے وزیر خارجہ وانگ یی سے بھی تفصیلی ٹیلیفونک گفتگو ہوئی جس میں چین نے ایران امریکہ مذاکرات کی میزبانی کے پاکستانی اقدام کی مکمل حمایت کی۔
اسی طرح انہوں نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل سے بھی بات چیت کی، جنہوں نے پاکستان کے امن اقدام کی بھرپور حمایت کا اظہار کیا۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ انہوں نے دنیا کے مختلف ممالک کے اپنے ہم منصبوں سے بھی متعدد ٹیلیفونک رابطے کیے جنہوں نے پاکستان کی کوششوں پر مکمل اعتماد اور حمایت کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی کوششوں کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے اور دوست ممالک کی جانب سے بھرپور حمایت حاصل ہے، جبکہ پاکستان خلوص نیت اور عزم کے ساتھ اپنی کاوشیں جاری رکھے گا۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ امن کے قیام اور اس جنگ کے مستقل خاتمے کے لیے پاکستان کی کوششوں کی کامیابی کے لیے پوری عالمی برادری کی دعاؤں اور تعاون کی ضرورت ہو گی۔

