
(ویب ڈیسک) مدھیہ پردیش کے شہر اجین سے یہ اذیت ناک خبریں آ رہی ہیں کہ وہاں ہندوتوا کے پجاری مسلمانوں کی قدیم مسجد کو شہید کرنے کے درپے ہیں اور سینکڑوں مسلمان اپنی قدیم عبادت گاہ کو بے حرمتی سے بچانے کے لئے مسجد کے اندر بیٹھ گئے ہیں۔
میڈیا رپورٹس میں بتایا جا رہا ہے کہ اجین شہر میں مسلمانوں کی کثیر تعداد اپنہی 600 سال پرانی تاریخی ‘شاہی مسجد’ کو شہید کرنے کی سازش کو روکنے کے لئے گھروں سے نکل کر مسجد میں بیٹھ گئے ہیں۔
بھارتی میڈیا میں سامنے آ رہی رپورٹوں میں بتایا جا رہا ہے کہ پولیس کی بھاری نفری کو ساتھ لے کر حکومت کی انتظامیہ نے گزشتہ رات گئے بلڈوزر ک چلا کے شاہی مسجد کو شہید کی کوشش کی۔ مقامی مسلمانوں نے جمع ہو کر سخت مزاحمت کی اور رات کے اندھیرے مین اچانک وار کر کے مسجد کو شہید کرنے کی سازشناکام بنا دی۔
2028 میں ہونے والے ہندوؤں کے مذہبی میلے ‘سمہاستھا کمبھ’ سے پہلے سڑک کو چوڑا کرنے کے ایک بہت متنازعہ سازشی منصوبے کے بہانے مسلمانوں کی اس تاریخی مسجد کے کچھ حصے کو مسمار کرنے کے لیے نشان زد کیا گیا ہے۔ تب سے مسلمان اس تاریخی مسجد کی حفاظت کے لئے پریشان ہیں۔ اب نام نہاد منصوبے کی آڑ میں ہندوتوا کے کھلے ایجنڈا پر عمل کرتے ہوئے اس مسجد پر بھی بلڈوزر چڑھانے کی عملی کوشش کر دی گئی۔
مدھیہ پردیش میں اس وقت بی جے پی کی حکومت ہے اور وزیرِ اعلیٰ موہن یادو ہے۔ مبصرین کہہ رہے ہیں کہ موہن یادو کی حکومت بھارتیہ جنتا پارٹی کی دیرینہ سازشی پالیسی پر چل رہی ہے اور مذہبی اشتعال پھیلا کر ہندو مسلمان نفرت کو بڑھا کر اپنی حکومت کا ووٹ بینک بڑھانے کی مکروہ کوشش کر رہی ہے۔
اب صورت حال یہ ہے کہ سینکڑوں مسلمان شاہی مسجد میں بیٹھے ہیں اور انتظامیہ کی ہندوتوا ایجنڈا کو سڑک کھلی کرنے کے بہانے سے آگے بڑھانے کی سازش پر مسلسل احتجاج کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایشئین گیمز میں جیولن تھرو کا فائنل کل شام ہو گا، ارشد ندیم کیلئے کیا امکانات ہیں؟
مسجد میں بیٹھے مسلمانوں نے صحافیوں کو بتایا کہ وہ تو دو ہفتوں سے مسلسل یہ احتجاج کر رہے ہیں۔ اس کے باوجود انتظامیہ نے رات ک یتاریکی میں بلڈوزروں کے ساتھ مسجد پر حملہ کرنے کی جسارت کی۔ اب ہم لوگوں نے مل کر یہ فیصلہ کیا ہے کہ مسجد کو شہید کرنے کی سازش کو ناکام بنانے کےلئے ہم بڑی تعداد میں ہر وقت مسجد میں موجود رہیں گے۔ ہم نے اپنے لئے مسجد کی ھفاظت کی ڈیوٹی کی شفٹوں کا تعین کر لیا ہے۔ دن ہو ریا رات ہم ہر وقت مسجد کے اندر موجود رہیں گے۔
مقامی میڈیا کی رپورٹوں میں بتایا جا رہا ہے کہ کل رات کی حرکت کے بعد انتظامیہ نے پولیس کی نفری میں اضافہ کیا ہے۔ اب مسجد کے قریب ریپڈ ایکشن فورس کو تعینات کیا گیا اور مسجد کو شہید کرنے کی نیت سے ایک بار پھر بلڈوزر یہاں لائے گئے لیکن جب مسجد کے اندر اور باہر مسلمانوں کا بڑا ہجوم جمع ہو گیا تو انتظامیہ کو کارروائی روکنی پڑی۔
یہ بھی پڑھیں: خیبر پختونخوا اسمبلی ٹوٹ سکتی ہے؟ سہیل آفریدی کے جملے نے ہلچل مچا دی

