نیویارک شہر کے میئر ظہران ممدانی نے عوامی طور پر ایک بیان میں اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجامین نیتن یاہو کو "جنگی مجرم” قرار دیا اور امریکی وفاقی حکومت پر زور دیا ہے کہ اگر نیتن یاہو امریکہ میں داخل ہوتا ہے تو اس کے خلاف بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کے جاری کردہ گرفتاری وارنٹ پر عمل درآمد کیا جائے۔
واضح رہے کہ آئی سی سی نے نومبر ۲۰۲۴ء میں نیتن یاہو اور اسرائیل کے سابق وزیرِ دفاع یوآو گیلنٹ کے خلاف غزہ میں اسرائیل کی فوجی مہم کے دوران جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات پر گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے تھے۔
ممدانی نے منگل کے دن سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ کردہ ویڈیو میں کہا کہ "بنجامین نیتن یاہو ایک جنگی مجرم اور فلسطینی عوام کے خلاف ہولناک نسل کشی کا ماسٹر مائنڈ ہے۔” ۲ منٹ ۹ سیکنڈ طویل اس ویڈیو میں انہوں نے اسرائیلی وزیراعظم کو غزہ میں ۷۳ ہزار سے زائد فلسطینیوں کے قتل عام، اسپتالوں کو نشانہ بنانے اور ضرورت مند افراد تک خوراک اور انسانی امداد پہنچانے میں رکاوٹ ڈالنے کیلئے ذمہ دار ٹھہرایا۔
ممدانی نے مزید کہا کہ امریکہ اس تباہی کی براہِ راست ذمہ داری اٹھاتا ہے: "ہم، بطور امریکی، ان بموں کی قیمت ادا کرتے ہیں جو یہ قتل و غارت گری میں استعمال ہوتے ہیں۔” انہوں نے کہا کہ "کسی وجہ کی بناء پر ہی بین الاقوامی فوجداری عدالت نے نیتن یاہو کی گرفتاری کا وارنٹ جاری کیا ہے۔ جس کے پاس بھی آنکھیں، دل اور ضمیر ہے، اسے اس تباہی کو تسلیم کرنا چاہیے جو انہوں نے مچائی ہے اور یہ سمجھنا چاہیے کہ اس کی جگہ عدالت کے سامنے ہے۔”
میئر ممدانی نے تسلیم کیا کہ ان کی انتظامیہ کے پاس آئی سی سی کے گرفتاری وارنٹ پر عمل درآمد کیلئے خود مختار قانونی اختیارات نہیں ہیں، تاہم انہوں نے کہا: "وفاقی حکومت کے پاس یہ اختیار ہے، اس لیے میں ان سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ آئی سی سی کا ساتھ دیں اور اس وارنٹ پر عمل درآمد کریں۔” انہوں نے اعلان کیا کہ "بنجامین نیتن یاہو کا نیویارک شہر میں خیر مقدم نہیں ہے اور نہ ہی کسی دوسرے آزاد گھومنے والے جنگی مجرم کا۔”
ممدانی نے غزہ نسل کشی کے خلاف کارروائی کا ایک وسیع تر مطالبہ بھی کیا: "اگرچہ ہم خود سے اس نسل کشی کو ختم نہیں کر سکتے، لیکن ہم یہ فیصلہ کر سکتے ہیں کہ آیا ہماری خاموشی ایک اور ہتھیار بنے گی یا نہیں۔”
واضح رہے کہ گزشتہ سنیچر کو ممدانی نے دی نیویارک ٹائمز کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ وہ اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا ان کے پاس ستمبر میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے آئندہ اجلاس کے دوران نیتن یاہو کو گرفتار کرنے کا قانونی اختیار ہے یا نہیں۔ ان کے اس بیان پر امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے پیر کے دن ردعمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ نیتن یاہو کو امریکہ میں موجودگی کے دوران کسی بھی حالت میں یا کسی بھی صورت میں گرفتار نہیں کیا جائے گا۔

