پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں پیر کو شدید بارش کے باعث جدہ اور پیرس سے آنے والی پروازوں کا رخ موڑ دیا گیا، جبکہ انڈیا اور نیپال میں شدید بارشوں، سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں درجنوں افراد جان سے گئے۔
طوفان نے پیر کی صبح اسلام آباد اور قریبی شہر راولپنڈی کو متاثر کیا، جس کے باعث اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر پروازوں کا آپریشن متاثر ہوا۔
پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی نے بتایا کہ بارش کے باعث پروازوں کا رخ موڑ دیا گیا جو ملک کے دیگر ہوائی اڈوں پر بحفاظت اتر گئیں۔
محکمہ موسمیات پاکستان نے بتایا کہ مغربی ہواؤں کا ایک سلسلہ ملک کے بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کر رہا ہے اور مزید 24 گھنٹے تک برقرار رہ سکتا ہے۔
محکمہ موسمیات نے شمالی اور وسطی پاکستان کے بعض علاقوں میں مزید گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیش گوئی کی ہے جبکہ بعض مقامات پر شدید بارش یا ژالہ باری بھی ہو سکتی ہے۔
ایئرپورٹس اتھارٹی نے ایکس پر جاری بیان میں کہا: ’اسلام آباد میں خراب موسم (گرج چمک/بارش) کے باعث پی آئی اے کی پرواز PK750 (پیرس سے اسلام آباد) کا رخ ملتان کی جانب موڑ دیا گیا، جہاں یہ صبح 5 بج کر 44 منٹ پر بحفاظت اتر گئی۔‘
اتھارٹی کے مطابق جدہ سے آنے والی ایئرسیال کی ایک پرواز کا رخ پشاور کی جانب موڑ دیا گیا، جہاں یہ صبح 10 بج کر 25 منٹ پر بحفاظت اتر گئی۔
محکمہ موسمیات کے مطابق اسلام آباد کے علاقے سیدپور میں 33 ملی میٹر جبکہ راولپنڈی کے علاقے پیرودھائی میں 28 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔
انڈیا میں 62 افراد جان سے گئے
انڈیا میں حکام نے پیر کو بتایا کہ ریاست اتر پردیش میں تین روز سے شدید بارش اور سیلاب کے بعد کم از کم 62 افراد جان سے گئے۔
ریاستی حکومت کے مطابق بارشوں سے 46 افراد زخمی ہوئے جبکہ ایک ہزار سے زیادہ مکانات کو نقصان پہنچا۔
ریاستی دارالحکومت لکھنؤ سمیت بعض علاقوں میں سکول بند کر دیے گئے جبکہ امدادی ٹیموں نے سیلاب زدہ علاقوں کے رہائشیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا۔
انڈیای محکمہ موسمیات کے مطابق بارش میں کمی متوقع ہے کیونکہ خلیج بنگال کے اوپر موجود موسمی نظام کمزور ہو رہا ہے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
حکام نے بتایا کہ انڈیا کی مشرقی ریاست اڑیسہ میں بھی سیلاب کے باعث 75 ہزار سے زیادہ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونا پڑا۔
نیپال میں بھی شدید بارشوں سے نقصان
نیپال میں بھی شدید بارشوں، سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے جانی اور مالی نقصان ہوا ہے۔
روئٹرز کے مطابق جمعرات سے جاری شدید بارشوں اور طوفان کے نتیجے میں نیپال میں کم از کم 14 افراد جان سے گئے جبکہ 11 لاپتہ ہیں۔
حکام نے ملک کے 77 میں سے 49 اضلاع میں ممکنہ اچانک سیلاب کا انتباہ جاری کیا ہے۔
روئٹرز کے مطابق نیپال کے منانگ، مستنگ، میاگدی اور باگلونگ اضلاع میں بجلی کی فراہمی متاثر ہوئی جبکہ راہوگنگا دریا میں سیلاب سے 40 میگاواٹ کے ہائیڈرو پاور منصوبے کے ڈھانچے اور ٹرانسمیشن لائن کے ٹاورز کو نقصان پہنچا۔
اے ایف پی کے مطابق شمالی وسطی نیپال میں شدید موسم کے دوران برفانی تودہ گرنے سے کم از کم دو افراد جان سے گئے جبکہ متعدد افراد لاپتہ ہیں۔
نیپال کی ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایجنسی کے مطابق جمعرات سے اتوار کے درمیان ملک کے مختلف علاقوں میں موسم سے متعلق واقعات میں 21 افراد جان سے گئے تھے۔

