چیف جسٹس آف انڈیاجسٹس سوریہ کانت۔ (فوٹو: پی ٹی آئی)
چھ اکتوبر کو ریجی نگر اور نندی گرام اسمبلی سیٹوں پر ضمنی انتخابات ہونے ہیں، اسی کے مد نظر ایس آئی آر سے متعلق زیر التوا عرضیوں کی جلد سماعت کی اپیل کی گئی تھی۔ معاملے کی جلد شنوائی کا مطالبہ کرنے والے وکیل کے مطابق،’18,000 سے زیادہ اپیلیں زیر التوا ہیں۔‘ تاہم، اس مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے چیف جسٹس سوریہ کانت نے کہا، ’یہ صرف ضمنی انتخابات ہی ہیں۔‘
نئی دہلی: ہندوستان کے چیف جسٹس(سی جے آئی)جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی والی سپریم کورٹ کی ایک بنچ نے مغربی بنگال میں ایس آئی آرسے متعلق زیر التوا اپیلوں کی جلد سماعت کے مطالبہ کو مسترد کر دیا ہے۔
یہ مطالبہ 6 اکتوبر کو ہونے والے ضمنی انتخابات سے پہلے کیا گیا تھا۔
بار اینڈ بنچ کے مطابق، چیف جسٹس سوریہ کانت نے کہا، ’یہ صرف ضمنی انتخابات ہی ہیں، بس۔‘
بنچ میں چیف جسٹس سوریہ کانت کے علاوہ جسٹس جوائے مالیہ باگچی اور جسٹس وی موہنا بھی شامل تھے۔ عدالت نے مغربی بنگال کی ریجی نگر اور نندی گرام اسمبلی سیٹوں پر 6 اکتوبر کو ہونے والے ضمنی انتخابات کے مدنظر معاملے کی سماعت کی تاریخ آگے بڑھانے سے انکار کر دیا۔
جسٹس جوائے مالیہ باگچی نے اپریل میں مغربی بنگال اسمبلی انتخابات سے ٹھیک پہلے اسی طرح کی تشویش کا اظہار کیا تھا۔ اس وقت انہوں نے کہا تھا، اس انتخاب میں شاید وہ ووٹ نہ دے سکیں، لیکن ووٹر لسٹ میں بنے رہنے کا زیادہ اہم حق محفوظ رکھا جائے گا۔‘
اپریل میں ہی ایک دوسری سماعت کے دوران جسٹس باگچی نے انتخابات سے پہلے ووٹر لسٹ سے نام باہر رہنے کی صورت ال پر سنگین سوال اٹھائے تھے۔
لائیو لا کے مطابق، انہوں نے کہا تھا کہ اگر 10 فیصد ووٹر ووٹ نہ ڈال سکیں اور جیت کا فرق 10 فیصد سے زیادہ ہو تو صورتحال کیا ہوگی؟ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا تھا کہ اگر جیت کا فرق صرف 2 فیصد ہو اور 15 فیصد ووٹر ووٹ نہ ڈال پائے ہوں، تو عدالت کو یقینی طور پر اس معاملے پر غور کرنا ہوگا۔
معاملے کی جلد سماعت کا مطالبہ کرنے والے وکیل نے کہا کہ سماعت پہلے 29 اکتوبر کے لیے مقرر تھی، لیکن اب اسے عارضی طور پر 5 اکتوبر کے لیے درج کیا گیا ہے۔ بار اینڈ بنچ کے مطابق، وکیل نے کہا کہ ضمنی انتخابات سے پہلے سماعت کے لیے فوری ہدایات کی ضرورت ہے۔
وکیل نے کہا، ’ہم فوری ہدایات چاہتے ہیں تاکہ اس معاملے کو اس سے پہلے سماعت کے لیے درج کیا جا سکے۔ 18,000 سے زیادہ اپیلیں زیر التوا ہیں، جن کا ابھی تک فیصلہ نہیں ہوا ہے۔ ان لوگوں نے عام انتخابات میں حصہ نہیں لیا تھا۔‘
تاہم، معاملے کی سماعت اب 5 اکتوبر کو ہوگی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان ووٹروں کو دوسری مرتبہ ووٹ دینے سے محروم ہونا پڑ سکتا ہے۔
دی وائر کی رپورٹ کے مطابق، عدالت کے حکم پر قائم کیے گئے ٹریبونل کے سامنے دائر کی گئی تقریباً 38 لاکھ اپیلوں میں سے 37 لاکھ سے زیادہ اب بھی زیر التوا ہیں۔
کانگریس ایم پی ایشا خان چودھری کی جانب سے دائر کیے گئے آر ٹی آئی درخواست کے جواب میں مغربی بنگال کے چیف الیکشن آفیسر کے دفتر سے حاصل ہونے والے اعداد و شمار نے بھی صورتحال پر سوال اٹھائے ہیں۔
آر ٹی آئی سے حاصل اعداد و شمار کے مطابق، جن اپیلوں پر فیصلہ ہو چکا ہے، ان میں 75,443 معاملوں میں ووٹروں کے نام دوبارہ ووٹر لسٹ میں شامل کیے گئے، جبکہ 7,339 معاملوں میں نام ہٹانے کا فیصلہ کیا گیا۔
یعنی جن اپیلوں پر فیصلہ ہو چکا ہے، ان میں 91.13 فیصد معاملوں میں ووٹروں کو ووٹر لسٹ میں شامل کیا جا چکا ہے۔
مغربی بنگال میں ایس آئی آر کے عمل کے دوران کچھ اہم اسمبلی حلقوں میں مسلم ووٹروں کو مبینہ طور پر نشانہ بنا کر ووٹر لسٹ سے خارج کیے جانے کے الزامات بھی سامنے آئے ہیں۔
انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے بعد اس تشویش میں اضافہ ہواہے کہ دو الیکشن کمشنروں کو مغربی بنگال میں ووٹروں کے نام شامل کیے جانے کے خلاف مرکزی طور پر دائر کی گئی لاکھوں اپیلوں کے بارے میں جانکاری نہیں تھی۔ ان اپیلوں کا معاملہ دی وائر بھی اپنی رپورٹس میں اٹھا چکا ہے۔

