واشنگٹن/لندن: وائٹ ہاؤس نے باضابطہ بیان جاری کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ امریکا نے گرین لینڈ کے حصول کے لیے مختلف آپشنز پر غور شروع کر دیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق، گرین لینڈ کا حصول صدر ٹرمپ کی قومی سلامتی کی ترجیحات کا حصہ ہے اور قطب شمالی کا یہ خطہ امریکی مخالفین کو روکنے کے لیے تزویراتی طور پر انتہائی اہم ہے۔
وائٹ ہاؤس کا موقف:
امریکی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ صدر اور ان کی ٹیم اس ہدف کو پانے کے لیے تمام ممکنہ راستوں کا جائزہ لے رہی ہے۔ بیان میں واضح کیا گیا کہ ضرورت پڑنے پر امریکی فوج کا استعمال کمانڈر ان چیف کے اختیار میں ہمیشہ ایک آپشن کے طور پر موجود رہتا ہے۔
یورپی ممالک کا مشترکہ محاذ:
دوسری جانب، امریکا کے اس اعلان پر یورپی ممالک نے سخت برہمی کا اظہار کیا ہے۔ برطانیہ، فرانس، جرمنی، اٹلی، اسپین، پولینڈ اور ڈنمارک نے ایک مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ گرین لینڈ وہاں کے عوام کی ملکیت ہے اور کوئی بھی بیرونی طاقت اس کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق نہیں رکھتی۔
یورپی ممالک نے بین الاقوامی قوانین کی پاسداری اور آزاد ریاستوں کی خودمختاری و علاقائی حدود کے احترام پر زور دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ گرین لینڈ کے عوام کے ساتھ کھڑے ہیں۔

