مغربی کنارے میں آبادکاروں کے حملے جاری، مسجد اقصیٰ کے احاطے میں دھاوا

israel palestine d


مقبوضہ بیت المقدس، مقبوضہ بیت المقدس سمیت مغربی کنارے میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران یہودی آبادکاروں کے حملوں کی اطلاعات ہیں، جن میں فلسطینیوں کی گاڑیوں کو آگ لگانا، رہائشی علاقوں پر دھاوا اور زرعی زمینوں کو نشانہ بنانا شامل ہے۔ اسی دوران آبادکاروں نے مسجد اقصیٰ کے احاطے میں داخل ہو کر مذہبی رسومات ادا کیں۔ یہ واقعات راملہ، الخلیل، نابلس اور بیت المقدس میں پیش آئے۔
مقامی اطلاعات کے مطابق راملہ کے شمال مشرق میں واقع گاؤں ابو فلاح پر اتوار کی صبح فجر کے وقت حملہ کر کے متعدد گاڑیوں کو نذر آتش کیا گیا۔ جلنے والی گاڑیوں کی تعداد یا مالی نقصان کے بارے میں تفصیلات جاری نہیں ہوئیں۔ ایک روز قبل ہفتے کی شام المغیر اور ابو فلاح کے درمیان ’مرج سیع‘ کے راستے پر بھی فلسطینی گاڑیوں کو نشانہ بنایا گیا۔ المغیر کے کونسل چیئرمین امین ابو علیا کے مطابق اسرائیلی فوج کی موجودگی میں آبادکاروں نے گاڑیوں پر حملہ کیا اور ایک گاڑی کو شدید نقصان پہنچا، تاہم جانی نقصان کی اطلاع نہیں۔ ان کے بقول درجنوں آبادکار قصبے کے دروازے پر جمع ہوئے اور اپنے مویشی گھروں کے درمیان چھوڑ دیے، جبکہ فوجیوں نے آنسو گیس کے گولے فائر کیے۔ آبادکاروں نے راملہ شہر کے محلے الطیر پر بھی دھاوا بولا۔
الخلیل کے جنوب میں يطا کے مشرق میں واقع تل ماعین اور راملہ کے قریب فر مال کی زمینوں پر آبادکاروں نے اپنے مویشی زیتون کے درختوں اور کاشت شدہ زمینوں میں چھوڑ دیے۔ زیتون کی کٹائی کا موسم قریب ہے، جو فلسطینی خاندانوں کی سالانہ آمدنی کا اہم ذریعہ ہے۔ اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطہ انسانی امور (اوچا) نے 18 ستمبر کی رپورٹ میں خبردار کیا تھا کہ زیتون کے سیزن سے قبل آبادکاروں کے تشدد اور زرعی املاک کو نقصان کے باعث تحفظ کے خطرات نمایاں طور پر بڑھ گئے ہیں۔
مقامی خبروں کے مطابق اتوار کی صبح آبادکار باب المغاربہ کے راستے مسجد اقصیٰ کے احاطے میں داخل ہوئے اور صحنوں میں مذہبی رسومات ادا کیں۔ یہ کارروائی یہودی تہوار کے موقع پر اسرائیلی پولیس کے سخت سیکیورٹی انتظامات کے سائے میں ہوئی، جس میں اجتماعی گانے، رقص اور اسرائیلی پرچم لہرانے کی اطلاعات ہیں۔ پرانے شہر اور مسجد کے گردونواح میں سیکیورٹی انتہائی سخت رہی۔

متعلقہ پوسٹ