لندن
برطانیہ کی نورفولک پولیس نے ایک منظم آپریشن کے دوران سات افغان باشندوں کو بچوں کے جنسی استحصال کے سنگین الزامات میں حراست میں لے لیا ہے۔ ملزمان کو ناروچ اور ڈمبرٹن میں مختلف مقامات پر چھاپے مار کر گرفتار کیا گیا۔
ابتدائی تحقیقات کے مطابق یہ کیس دو نابالغ لڑکیوں سے متعلق ہے جن کے ساتھ اگست 2023 اور مئی 2025 کے درمیان ناروچ میں واقعات پیش آئے۔ ملزمان کو عدالت میں پیش کیا گیا جہاں پولیس نے انکشاف کیا کہ یہ افراد غیر قانونی طریقوں سے برطانیہ میں داخل ہوئے تھے — بعض نے چھوٹی کشتیوں کے ذریعے سمندر پار کیا جبکہ ایک ملزم ایک لاری میں چھپ کر بندرگاہ سے داخل ہوا۔ تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ ان میں سے کوئی بھی نورفولک کی کسی سرکاری پناہ گزین رہائشگاہ میں مقیم نہیں تھا۔
برطانوی وزیر برائے تحفظِ خواتین نٹالی فلیٹ نے ان واقعات کو انتہائی گھناؤنا قرار دیتے ہوئے متاثرہ بچیوں اور ان کے اہلِ خانہ سے گہری ہمدردی کا اظہار کیا۔ انہوں نے واضح کہا کہ ملزمان کو قانون کا پوری طرح سامنا کرنا ہوگا اور غیر ملکی مجرمان کے لیے برطانیہ میں کوئی جگہ نہیں ہے۔
یہ گرفتاریاں ایسے وقت ہوئی ہیں جب برطانیہ میں غیر قانونی تارکینِ وطن اور بچوں کے تحفظ کے حوالے سے سیاسی بحث پہلے سے ہی شدت اختیار کیے ہوئے ہے۔

