سوموار کو سری نگر میں احتجاج کرتے ہوئے کانگریس کارکنان۔ (فوٹو: پی ٹی آئی)
ایس آئی آر اور الیکشن کمیشن کے ارد گرد جاری تنازعات کے درمیان کمیشن کی وضاحت کو کانگریس نے ’ڈیمیج کنٹرول کی ایک مایوس کن کوشش‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ’سب کچھ چھپاتی ہے اور کچھ بھی واضح نہیں کرتی۔‘ شیوسینا (یو بی ٹی) کے ایم پی سنجے راؤت نے بھی اس معاملے پر نریندر مودی حکومت کو نشانہ بنایا اور کہا کہ حکومت گیانیش کمار کو بچانے کی کوشش کر رہی ہے۔
نئی دہلی:الیکشن کمیشن نے سنیچر (26 ستمبر) کی رات ووٹر لسٹ میں جاری ایس آئی آرکے حوالے سے خدشات کے ازالے کے لیے کئی اقدامات کا اعلان کیا۔ اس کے جواب میں کانگریس نے اسے ’نقصان کی تلافی کے لیے کی گئی ایک مایوس کن کوشش‘قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ’سب کچھ چھپاتی ہے اور کچھ بھی واضح نہیں کرتی۔‘
کانگریس لیڈر جئے رام رمیش نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ الیکشن کمیشن کے پریس نوٹ میں کیے گئے دعووں کی حقیقت پہلے ہی سامنے آ چکی ہے اور یہ بھی واضح ہو چکا ہے کہ یہ دراصل کیا ہے- ڈیمیج کنٹرول کی ایک مایوس کن کوشش، جس میں سب کچھ چھپانے کی کوشش کی گئی ہے اور کچھ بھی واضح نہیں کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ جن ووٹروں کے نام ہٹائے گئے ہیں یا جو خطرے میں ہیں، ان کے لیے ’ٹکڑوں میں اٹھائے جانے والے‘یہ قدم ’بڑے پیمانے پر حق رائے دہی سے محرومی‘کے مسئلے کو حل کرنے میں بہت کم مدد کریں گے۔
चुनाव आयोग द्वारा कल रात जारी किए गए प्रेस नोट के दावों की सच्चाई पहले ही सामने आ चुकी है और यह भी साफ हो चुका है कि वह असल में क्या है-डैमेज कंट्रोल की एक हताश कोशिश, जिसमें सब कुछ छिपाने की कोशिश की गई है और कुछ भी स्पष्ट नहीं किया गया। अब उस पूरी तरह अर्थहीन प्रेस नोट के दावों… pic.twitter.com/DvbDO8PLuz
— Jairam Ramesh (@Jairam_Ramesh) September 27, 2026
رمیش نے الیکشن کمیشن کی جانب سے کرائی گئی کئی یقین دہانیوں پر سوال اٹھائے۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ نوٹس پانے والے ووٹروں کے گھروں پر بی ایل او کے جانے کا منصوبہ۔ انہوں نے کہا کہ ان ووٹروں کو عوامی سماعت میں شرکت کے لیے بلانے کے بجائے ان کے گھروں پر جا کر کارروائی مکمل کرنے کی بات کی گئی ہے۔
انہوں نے کہا،’ہم جانتے ہیں کہ حقیقت میں یہ دورے بہت کم اور چھٹ پٹ رہے ہیں۔ ایسے میں دوسری بار گھر جا کر تصدیق کرنے کے وعدے کا کیا مطلب ہے، جو ممکنہ طور پر ہوگا ہی نہیں؟ ایسی کارروائی کو دوبارہ کرنے کے جواز کا جائزہ لیا جانا چاہیے، جسے پہلی بار ٹھیک سے نہیں دیا گیا۔‘
رمیش نے ایس آئی آر کے عمل کے جواز پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے اسے بہت بڑے پیمانے پر وسائل کی بربادی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ تین مراحل میں تقریباً 14 کروڑ ووٹروں کے نام ہٹائے جانے کے بعد اب ان سے ووٹر لسٹ میں دوبارہ نام شامل کرانے کے لیے نئے سرے سے درخواست دینے کو کہا جا رہا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حاشیے پر موجود ووٹروں کے نام بی جے پی کو فائدہ پہنچانے کے مقصد سے حذف کیے گئے تھے۔
کانگریس رہنما نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے ای سی آئی نیٹ کے حوالے سے خدشات کا ازالہ نہیں کیا ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ ای سی آئی نیٹ کا استعمال اہل ووٹروں کے نام حذف کرنے اور الیکٹورل رجسٹریشن افسران(ای آر او)کے فیصلوں کو نظرانداز کرنے کے لیے کیا گیا۔ رمیش نے کہا کہ سافٹ ویئر کے موجودہ قوانین کے مطابق ہونے کا جائزہ لینے کی الیکشن کمیشن کی تجویز اس بات کا اعتراف ہے کہ اس کی قانونی حیثیت پر سوال اٹھ رہے ہیں۔
انہوں نے سوال کیا کہ کیا گوا میں سامنے آنے والے مسائل دوسرے صوبوں میں بھی پیش آئے۔ انہوں نے ای سی آئی نیٹ کے کام کرنے کے طریقے اور ووٹر لسٹ تیار کرنے میں مصنوعی ذہانت (اے آئی)کے استعمال کے حوالے سے شفافیت کے فقدان پر بھی سوال اٹھایا۔
رمیش نے مزید الزام لگایا کہ فارم 6 میں کی گئی ایک مبینہ غیر قانونی تبدیلی کے بارے میں الیکشن کمیشن نے خاطر خواہ وضاحت پیش نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ کمیشن نے 27 مئی کے سپریم کورٹ کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے اس تبدیلی کا دفاع کیا، جس میں فارم 6 میں ایک نیا اعلامیہ شامل کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔ تاہم، ان کا کہنا تھا کہ جولائی میں آن لائن فارم 6 میں یہ تبدیلی تمام ووٹروں کے لیے کی گئی تھی، نہ کہ صرف ایس آئی آر کے دائرے میں آنے والے ووٹروں کے لیے۔
رمیش نے یہ بھی کہا کہ ووٹروں کو دیا جانے والا غیر ایس آئی آر فارم 6 کا متبادل گمراہ کن ہے، کیونکہ اسپیشل سمری ریویژن(ایس ایس آر) 2024 سے ہی ملتوی ہے اور ایسی کوئی غیر ایس آئی آر ووٹر لسٹ شائع نہیں کی جا رہی جس کے ذریعے ووٹر اپنا نام شامل کرا سکیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ بیٹھکوں کے طریقہ کار اور قواعد کی پابندی کے حوالے سے الیکشن کمیشن کی جانب سے کرائی گئی یقین دہانیاں اس بات کو تسلیم کرنے کے مترادف ہیں کہ طے شدہ قواعد پر عمل نہیں کیا گیا۔ انہوں نے اسے ایک آئینی ادارے کے لیے انتہائی تشویش ناک صورتحال قرار دیا۔
’چیف الیکشن کمشنر کو جانا ہوگا‘
دوسری جانب، شیوسینا (یو بی ٹی) کے رکن پارلیامنٹ سنجے راؤت نے بھی اس معاملے پر نریندر مودی حکومت کو نشانہ بنایا اور کہا کہ حکومت گیانیش کمار کو بچانے کی کوشش کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی)کو اپنے عہدے سے جانا ہوگا۔ راؤت نے ایکس پر ایک پوسٹ میں الزام لگایا کہ انتخابی ہیر پھیر اور دھوکہ دہی کے ذریعے انتخابات میں کامیابی یقینی بنانے کے لیے کمار کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے الزام لگایا،’مودی حکومت نے ایک نکاتی پروگرام شروع کیا ہے: گیانیش کمار کو بچاؤ!‘
راؤت نے مزید دعویٰ کیا کہ ’جمہوریت کے قاتلوں‘کو بچانے کے لیے ایک وسیع کوشش کی جا رہی ہے۔
ज्ञानेश कुमार हा मोदी शहा यांच्या गळ्यातील हाडुक बनले आहे,
निवडणुकीत घोटाळे करून विजय संपादन करण्याचे हत्यार ज्ञानेश कुमार आहे , त्यामुळे या गुन्हेगाराला वाचवणे हा मोदी शहांचा आपदधर्म बनला आहे,म्हणूनचमोदी सरकार आणि त्यांच्या ताब्यात असलेल्या राज्यांच्या मुख्यमंत्र्यांना सर्व…
— Sanjay Raut (@rautsanjay61) September 27, 2026
ترنمول کانگریس کی رکن پارلیامنٹ مہوا موئترا نے الیکشن کمیشن کے اعلانات کو وضاحت سے زیادہ قبولنامہ بتایا۔
Sir – they have admitted guilt. It was an admission more than any clarification. https://t.co/4Qto3BaNa2
— Mahua Moitra (@MahuaMoitra) September 26, 2026
مہوا نے یہ بات آندھرا پردیش کے وزیر اعلیٰ چندربابو نائیڈو کی اس ایکس پوسٹ کے جواب میں کہی، جس میں وہ انتخابات سے متعلق ’وضاحت‘ دینے پر الیکشن کمیشن کا شکریہ ادا کر رہے تھے۔

