امریکہ ایران جنگ بندی مذاکرات کی بحالی کے لیے ثالثی کوششیں تیز: رپورٹ

irus 2809 d


تہران، : امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی مذاکرات بحال کرانے کے لیے ثالثی کوششیں تیز ہو گئی ہیں، تاہم جوہری پروگرام پر رعایتوں کے معاملے میں دونوں فریقوں کے درمیان اختلاف برقرار ہے۔ ایران نے مذاکرات کے لیے آمادگی ظاہر کی ہے اور کسی نئی فوجی کارروائی کا بھرپور جواب دینے کا عندیہ دیا ہے، جبکہ واشنگٹن کی جانب سے سابقہ مفاہمت کی طرف واپسی سے انکار بڑی رکاوٹ بنا ہوا ہے۔
وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق ثالث ایران پر جوہری پروگرام کے حوالے سے رعایتیں دینے کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں۔ یہ کوشش ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران کی جانب سے پیش کردہ سات روزہ جنگ بندی کی تجویز مسترد کر دی۔ اس تجویز میں آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے اور ایرانی بندرگاہوں کی امریکی ناکہ بندی ختم کرنے کی بات کی گئی تھی۔ رپورٹ کے مطابق ثالثوں نے اس کوشش کو مشکل اور محدود امکانات والی قرار دیا ہے، جبکہ ایران نے اس معاملے پر بات چیت کے بہت کم اشارے دیے ہیں۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اتوار کو این بی سی نیوز سے گفتگو میں کہا کہ تہران مذاکرات کے لیے تیار ہے، لیکن کسی نئی فوجی کارروائی کا جواب دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایران جنگ دوبارہ شروع ہونے کے لیے پوری طرح تیار ہے اور کسی بھی نئی جارحیت کے سامنے ڈٹا رہے گا، تاہم سفارت کاری کے لیے بھی تیار ہے اور اب انتخاب صدر ٹرمپ کو کرنا ہے۔
عرب ثالثوں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی جانب سے تجویز مسترد کیے جانے کے بعد ایران نے کوئی رعایت نہیں دی، جبکہ خلیجی حکام کے مطابق تہران مذاکرات آگے بڑھانے سے قبل واشنگٹن سے رعایتیں چاہتا ہے۔ قطر کے وزیر اعظم شیخ محمد بن عبدالرحمٰن بن جاسم آل ثانی، جن کا ملک دونوں کے درمیان پیغامات پہنچا رہا ہے، نے نیویارک میں قطر اکنامک فورم کے موقع پر کہا کہ تنازع انتہائی پیچیدہ ہے اور اس کا حل دن بہ دن مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
ایران چاہتا ہے کہ واشنگٹن جون میں طے پانے والی مفاہمتی یادداشت پر واپس آئے، جس میں آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے اور بالآخر جوہری مذاکرات شروع کرنے کی بات شامل تھی۔ اس کے بدلے پابندیوں میں نرمی، بیرون ملک منجمد ایرانی اثاثوں میں سے اربوں ڈالر کا اجراء اور امریکی ناکہ بندی کا خاتمہ ہونا تھا۔ امریکی حکام کے مطابق ٹرمپ اب اس معاہدے پر واپس نہیں آنا چاہتے، جبکہ واشنگٹن نے پابندیاں مزید سخت کر دی ہیں اور ناکہ بندی برقرار رکھی ہے۔ مذاکرات میں شامل مشرق وسطیٰ کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے کہا کہ ایران جوہری پروگرام پر سمجھوتا کر سکتا ہے، لیکن اس کے لیے واضح یقین دہانی درکار ہوگی کہ کسی معاہدے کے بعد اسرائیل دوبارہ حملہ نہیں کرے گا۔

متعلقہ پوسٹ