مقامی حکومتوں کی خود مختاری میں چند بڑے چیلنجز

2729274 SalmanAbid 1729532257


آج کل قومی سیاست میں ایک مضبوط خود مختار مقامی حکومتوں کے نظام پر بحث جاری ہے۔اس بحث کو مجموعی طور پر ملک میں موجود بڑے گورننس کے مسائل سے جوڑ کر دیکھا جا رہا ہے۔یہ بحث ایک ایسے موقع پر سامنے آئی جب وزیر داخلہ محسن نقوی نے گورننس کی بہتری اور اصلاح کے لیے نئے صوبوں یا نئے انتظامی یونٹس سمیت مقامی حکومتوں کی خود مختاری پر زور دیا۔سیاسی حلقوں میں کہا جاتا ہے کہ نئے صوبوں یا نئے انتظامی یونٹس کو ریاستی اداروں کی حمایت حاصل ہے۔

اسی بحث کو کمزور کرنے کے لیے اب سیاسی قیادتیں،سیاسی جماعتیں اور صوبائی حکومتیں نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے مقابلے میں مقامی حکومتوں کے نظام کی حمایت اور اسے ہی مضبوط کرنے پر زور دے رہی ہیں۔اہم بات یہ ہے کہ اب تک گورننس کی بہتری میں تمام صوبائی حکومتوںکی کارکردگی مقامی حکومتوں کے نظام کی مضبوطی کے خلاف رہی اور انھوں نے اب تک صوبہ میں عدم مرکزیت کے مقابلے میں صوبائی مرکزیت کا نظام قائم کررکھا ہے۔

وہ کسی بھی صورت میں صوبہ کی جانب سے اضلاع کو سیاسی، انتظامی اور مالیاتی اختیارات کو نچلی سطح پر منتقل کرنے کے لیے تیار نہیں۔صوبائی فنانس کمیشن کی موجودگی میں بھی صوبوں سے اضلاع اور بالخصوص پس ماندہ اور محروم طبقات سے جڑے اضلاع میں وسائل کی تقسیم کا نظام غیر منصفانہ اور غیر شفاف ہے۔18ویں ترمیم جو 2010ء میں منظور ہوئی جس کا مقصد وفاق کے مقابلے میں صوبوںاور پھر اضلاع کو زیادہ بااختیار بنانا تھا ۔مگر صوبائی حکومتوں نے اس تناظر میں کچھ نہیں کیا اور اسی بنیاد پر ملک میں نئے صوبوں یا نئے انتظامی یونٹس کی بحث چھوٹے شہروں سے جنم لیتی ہیں۔

مقامی خود مختاری یا مضبوطی یا اس نظام کے تسلسل نہ ہونے کی ایک بنیادی وجہ آئین میں اس نظام کے تحفظ میں ابہام یا خامیاں ہیں جو اس نظام کے تسلسل کو ناممکن بناتی ہیں اور کئی کئی برس تک اس نظام یا انتخابات کے تسلسل میں مسائل موجود ہیں۔ یعنی آئین میں درج جو آرٹیکل 140-A،32،07،23 ہے ان میں مزید وضاحت کی ضرورت ہے۔اسی طرح جب تک مقامی حکومتوں کا ایک بنیادی فریم ورک قومی سطح سے صوبائی سطح تک نہیں جائے گا۔ صوبائی حکومتیں اس نظام میں اپنے ذاتی، سیاسی،انتظامی اور مالیاتی مداخلتوں کا سلسلہ نہیں روکیں گی اور نظام بھی مضبوط نہیں ہوسکے گا۔

اسی طرح اگر وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی طرح مقامی حکومتوں کی مدت ایک نہیں ہوگی یہ نظام اپنا تسلسل قائم نہیں رکھ سکے گا۔کیونکہ جو بھی نئی صوبائی حکومت منتخب ہو گی وہ پہلے سے موجود اپنی مخالف حکومت کو ختم کردے گی۔اسی طرح کئی دہائیوں سے صوبائی سطح پر ایک نظام کا نہ ہونا اور بار بار بہتری کے نام پر نئے نظام کو لانا یا اس میں توڑ پھوڑکرنا کبھی بھی نظام کو مضبوط نہیں بنا سکے گا۔ہمیں یا تو مقامی حکومتوں کے انتخابات قومی،صوبائی انتخابات کے ساتھ ہی کروانے چاہیے اور اگر یہ ممکن نہیں تو پھر صوبائی حکومت کے منتخب ہونے کے 120دن میں یہ ہونے چاہیے اور ان کی مدت ہو۔

اسی طرح کسی بھی صورت میں صوبائی حکومت کو یہ اختیار نہیں ہونا چاہیے کہ وہ صوبوں میں مقامی حکومتوں کے مقابلے میں کوئی متبادل نظام بنائے یا صوبوں کو مختلف کمپنیوں اور اتھارٹیوں کی بنیاد پر مقامی حکومت کے نظام کی خود مختاری کو چیلنج کیا جائے۔اس وقت بھی صوبائی حکومتیں دوہرے اور تضادات پر اور غیر آئینی طریقہ کار سے نظام کو چلانے کی کوشش کررہی ہیںاور ان کہیں بھی روکا ہی نہیں جارہا۔ایک سب سے بڑا مسئلہ ارکان قومی اور صوبائی اسمبلی کے ترقیاتی فنڈز اور اپنے اضلاع میں سیاسی سطح کی مداخلت کا ہے۔

ارکان اسمبلی مقامی حکومتوں کی خود مختاری کو چیلنج اور اپنے لیے ایک بڑا خطرہ سمجھتی ہیں جس کی وجہ سے ان کی اور صوبائی حکومت کی ترجیحات کمزور ہوتی ہیں۔ جب تک ہم اپنے سیاسی نظام میں ارکان قومی اور صوبائی اسمبلی اور صوبائی حکومت کے ترقیاتی فنڈ کو عملی طور پر ختم نہیں کریں گے مقامی حکومتوں کا نظام ٹکراؤ کا سبب بنتا رہے گا۔دوسرا مسئلہ مضبوط بیوروکریسی کا ہے جو خود بھی نچلی سطح پر اختیارات کی منتقلی میں سنجیدہ نہیں اور نچلی سطح کی قیادت کے مقابلے میں خود کو طاقتور دیکھنا چاہتی ہے۔

اس لیے جب بات صوبائی حکومت کی ہوتی ہے اور کیونکہ یہ18ویں ترمیم کے بعد صوبائی سبجیکٹ ہے اور صوبائی حکومتوں اور بیوروکریسی کی سطح پر موجودہ طرز عمل کو دیکھتے ہوئے ایک خود مختار مقامی حکومتوں کی بات عملاً مشکل لگتی ہے ۔خود ایک ہی حکمران جماعت جب مقامی نظام کے ساتھ کھلواڑ کرے گی تو مضبوط نظام کیسے بن سکے گا۔اگر ہم دیانت داری سے چاروں صوبائی حکومتوں کی سطح پر موجود مقامی حکومتوں کے سیاسی،سماجی انتظامی اور مالیاتی بنیادوں پر مختلف گورننس کے ماہرین سے ان کا آڈٹ کروائیں تو آپ کو اندازہ ہوگا کہ ان اہم معاملات کی سطح پر ان کی کارکردگی کیا ہے۔

ایک آڈٹ تو پہلے سے موجود ہے کہ اگر ہم 2025-26کی سالانہ اکنامک رپورٹ میں پاکستان کے اہم سماجی،معاشی اور بنیادی حقوق بشمول تعلیم اور صحت سے متعلق بنیادی اعداد وشمار یا اشاریے دیکھیں تو اس سے ہمیں وفاقی،صوبائی اور انتظامی اداروں کی انسانی ترقی کے تضادات کی جھلک نمایاں طور پر دیکھنے کو ملتی۔انسانی ترقی کے عالمی انڈیکس میں ہم بہت پیچھے ہیں اور اس کی اہم وجہ کمزور مقامی خود مختار حکومتوں کا نہ ہونا بھی ہے۔

جب یہ مثال دی جاتی ہے کہ ہمارے پاس مقامی حکومتوں کا نظام ہے اور بیشتر حصہ میں یہ نظام چل رہا ہے اور ہمیںکسی نئے صوبے یا انتظامی یونٹ کی ضرورت نہیں۔مگر یہ دیکھنا ہوگا کہ ملک میں پہلے سے موجود مقامی حکومتوں کا مفلوج نظام چل رہا ہے اس سے ہمارے مسائل حل ہورہے ہیں یا نہیں۔ یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ کون ہے جو ملک میں وفاقی،صوبائی حکومتوں کے بعد تیسری یعنی مقامی حکومت کے وجود کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں اور کیوں بار بار اس نظام کی مضبوطی میں رکاوٹیں پیدا کی جاتی ہیں تاکہ حکمرانی کا نظام مضبوط شکل میں سامنے نہ آسکے۔

اب یہ کہا جارہا ہے کہ 28ویں آئینی ترمیم میں جو دیگر دفعات یا ترامیم شامل ہونگی ان میں مقامی حکومتوں کی آئینی خود مختاری کو بھی یقینی بنانا ہے اور اس میں غیر معمولی تبدیلیوں کی بات کی جا رہی ہے۔اول، ایک نیا مقامی حکومتوں کا وفاقی نظام جیسے جنرل پرویز مشرف کے دور کا تھا اور اگر ایسا ہوتا ہے تو مطلب ہے اس نظام کو صوبائی کنٹرول سے لے کر وفاق کے کنٹرول میں دینا اور ملک بھر میں مقامی حکومتوں کا یکساں نظام ہوگا۔

دوئم یہ سننے کو بھی مل رہا ہے کہ مقامی حکومتوں کو وسائل براہ راست وفاقی حکومت سے این ایف سی کی مد سے دیے جائیں اور اس میں صوبائی حکومتوں کا کوئی تعلق نہیں ہوگا۔یقینی طور پران معاملات پر بڑی سیاسی جماعتوں پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن کو سنجیدہ خدشات ہونگے اور وہ اس عمل میں غیر سیاسی قوتوں کے ایجنڈے کو قبول نہیں کریں گی۔جیسے نئے صوبوں کی تشکیل پر بڑی جماعتوں کے تحفظات آئے ہیںاسی طرح وہ مقامی حکومتوں اور ان کے وسائل کی تقسیم کے وفاقی فارمولے کو قبول نہیں کرے گی۔

اصل میں ہمیں مقامی حکومتوں کی خود مختاری کے لیے موجودہ حالات میں نظام کی بہتری اورشفافیت کے لیے ان غیر معمولی سطح کے مسائل میں غیر معمولی اقدامات کی ضرورت ہے مقامی حکومتوں کی خود مختاری کا نظام روائتی اور فرسوددہ طریقے سے آگے نہیں بڑھ سکے گا اور اس مقامی نظام کو صوبائی مرکزیت یا کنٹرول سمیت بیوروکریسی سے آزاد کرنا ہوگا۔جب صوبائی حکومتیں صوبائی خود مختاری پر زور دیتی ہیں تو ان کو صوبائی خود مختاری کے ساتھ ساتھ مقامی خود مختاری کے اصول کو بھی اختیار کرنا ہوگا۔

ویسے تو سیاسی جماعتیں اور قیادت جمہوریت کی جدوجہد کی بات تو بہت کرتی ہیں لیکن ان کے جمہوری تضادات اتنے نمایاں ہیں جو مقامی جمہوریت کے ساتھ ساتھ ملک کی مجموعی جمہوریت کو بھی کمزور کرنے کا سبب بنتی ہیں۔ایک طرف مقامی حکومتوں کے نظام کو جمہوریت کی بنیادی نرسریوں کا دعوی تو دوسری طرف اپنے ہی سیاسی عمل یا اقدامات سے ان ہی مقامی نرسریوں کو اپنے ہی ہاتھ سے کمزور کرنا یا کاٹنا ظاہر کرتا ہے کہ ہم سیاسی اور جمہوری تضادات میں کہاں کھڑے ہیں۔

بنیادی طورپر ہمارا مسئلہ مقامی حکمرانی کے نظام کو شفاف اور لوگوں کی توقعات سے جوڑنا ہے تاکہ لوگوں کا اس نظام پر اپنا اعتماد بحال اور مضبوط ہوسکے۔لیکن اگر ایسا نہیں ہوتا اور صوبائی حکومتیں اپنا طرز عمل نہیں بدلیں گی اور حکمرانی کے نظام میں جدید بنیادوں پر خود کو تبدیل نہیں کریں گی تو پھر ملک کے اندر سے نئے صوبوں یا نئے انتظامی یونٹس کی بحث میں اور زیادہ شدت دیکھنے کو ملے گی۔کیونکہ اگر ہم صوبائی وزرائے اعلی کو بادشاہ کی طرح صوبوں کا سربراہ بنادیں گے اور اختیارات نچلی سطح پرتقسیم نہیں ہونگے توپھر یہ نظام نہیں چل سکے گا اور نہ ہی اپنی ساکھ قائم رکھ سکے گا۔





Source link

متعلقہ پوسٹ