
(24نیوز)بھارتی حکمران جماعت بی جے پی کو مقبوضہ کشمیر کی اسمبلی میں بڑی سیاسی شکست کا منہ دیکھنا پڑ گیا۔
مقبوضہ کشمیر اسمبلی میں بی جے پی کی شدید مخالفت کے باوجود مکمل ریاستی حیثیت کی بحالی کی قرارداد منظور کر لی گئی ہے،رپورٹ کے مطابق مکمل ریاستی حیثیت کی قرار داد عمر عبداللّٰہ نے پیش کی، جس میں نئی دہلی سے مکمل ریاستی حیثیت فوری بحال کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔
قرارداد کی نیشنل کانفرنس، کانگریس، پی ڈی پی، پیپلز کانفرنس، سی پی آئی، اے اے پی اور دیگر جماعتوں کے ارکان نے مکمل حمایت کی، مقبوضہ کشمیر کے کسی رکن نے قراداد کے خلاف ووٹ نہیں دیا۔
بی جے پی کے 29 ارکان ووٹنگ سے قبل واک آؤٹ کر گئے، بی جے پی ارکان کی نعرے بازی اور قرارداد کی نقول پھاڑنے کے بعد اسمبلی میں کشمیر کے حق میں نعرے لگائے گئے۔ مقبوضہ کشمیر اسمبلی نے مبینہ سرکاری دباؤ اور خطوط کے باوجود ریاستی حیثیت کی قرارداد منظور کی ہے۔
میر واعظ عمر فاروق کا کہنا ہے کہ کشمیری سیاسی جماعتوں کو آرٹیکل 370، 35 اے اور سیاسی حقوق کی بحالی کے لیے متحد ہونا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں : صدر اور وزیراعظم نے حکم دیا تو گورنر راج لگ سکتا ہے،فیصل کریم کنڈی

