غزہ پر فلم "نازا” کے نیویارک پریمیئر پر مظاہرے، ہدایت کاروں کو جان سے مارنے کی دھمکیاں

Inquilab 20260929 194826 0000 d


نیویارک: آسکر یافتہ ہدایت کاروں یوول ابراہم اور راچیل سزور کی دستاویزی فلم "نازا” (NAZA) کا نیویارک فلم فیسٹیول میں ۲۶؍ ستمبر کو سخت سکیورٹی اور مظاہروں کے درمیان پریمیئر ہوا۔ فلم میں اسرائیلی انٹیلیجنس کے ۲۴ گمنام سابق افسران کے انٹرویوز شامل ہیں، جو بتاتے ہیں کہ اسرائیلی فوج نے غزہ میں ہزاروں عام شہریوں کو کیسے اور کیوں ہلاک کیا۔ فلم کا مرکز اسرائیل کا ایلیٹ انٹیلیجنس یونٹ ۸۲۰۰ ہے۔ اسرائیلی فوج نے ان الزامات کو "دو ٹوک انداز میں مسترد” کیا ہے۔
لنکن سینٹر کے ایلس ٹولی ہال میں ہونے والی اسکریننگ کے موقع پر میٹل ڈٹیکٹرز، بیگز کی تلاشی اور بم سونگھنے والے کتے تعینات تھے۔ اسرائیلی-امریکی کونسل کی جانب سے براڈوے کے ساتھ اسرائیل کے حق میں پیغامات والے موبائل "مووی تھیٹرز” کھڑے کیے گئے اور سڑک کے دوسری جانب ریلی بھی نکالی گئی۔ ۱۰۸۶ نشستوں والی اسکریننگ کے تمام ٹکٹ فوراً فروخت ہو گئے۔
وینس فلم فیسٹیول میں پہلے پریمیئر کے بعد شرکاء نے ۲۵ منٹ تک کھڑے ہو کر داد دی اور فلم نے اسپیشل جیوری پرائز جیتا۔ اس کے بعد سے ہدایت کاروں کو جان سے مارنے کی دھمکیاں مل رہی ہیں، جبکہ کچھ اسرائیلیوں کی جانب سے ان کا "پیچھا کرنے” اور "شکار کرنے” کے مطالبات سامنے آئے ہیں۔ وزیرِ اعظم بنجامن نیتن یاہو نے دونوں کو شہریت سے محروم کرنے کا مطالبہ کیا اور فلم کا موازنہ اسرائیل پر "درجنوں بیلسٹک میزائل داغنے” سے کیا۔
ابراہم کے مطابق فلم کے کئی انکشافات ان کی ۱۱ سے زیادہ سابقہ تحقیقاتی رپورٹس پر مبنی ہیں، جن میں وہ رپورٹنگ بھی شامل ہے جس کی تصدیق پہلے دی واشنگٹن پوسٹ اور دی نیویارک ٹائمز نے کی تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ ۲۴ ذرائع کی شناخت کی تصدیق دی گارڈین کے ایڈیٹرز نے کی ہے، جو فلم کے شریک پروڈیوسر ہیں اور جن کے پاس خام مواد موجود ہے۔ رپورٹس کے مطابق فلم ستمبر کے اواخر سے ۵۰ سے زیادہ علاقوں میں ریلیز ہوگی، جبکہ دی گارڈین نومبر کے آخر سے اسے مفت آن لائن نشر کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اسرائیل میں تقسیم کاری کا فی الحال کوئی منصوبہ سامنے نہیں آیا۔

متعلقہ پوسٹ