مہینہ اکتوبر کا، سال 2011۔ جگہ جگہ زرد خشک پتوں کے انبار۔ فضا میں ہلکی خنکی۔ خزاں نے لاہور شہر کو اپنی لپیٹ میں تقریبا لے لیا تھا لیکن عمران خان اور ان کی تحریک انصاف کے لیے بہار کا سا سماں تھا۔ مینارِ پاکستان کا احاطہ اور اردگرد لاکھوں کا مجمع، سٹیج پر وفادار ساتھیوں اور موسمی سیاسی رہنماؤں کا جمگھٹا۔
ساتھ میں کہیں کہیں اسٹیبلشمنٹ کی آشیرباد کا احساس بھی موجود تھا۔ پندرہ برس کی سیاسی تنہائی کا شکار تحریک انصاف کے لیے اقتدار کی راہداریوں تک رسائی کی امید کے سندیسے۔ ملکی سیاست کی تاریخ کا اہم موڑ۔ طاقتور حلقوں کی سوچ کہ روایتی جماعتوں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے مدمقابل کوئی تیسری سیاسی قوت بھی ہونی چاہیے، حقیقت کا روپ دھار رہی تھی۔
چند ہی ماہ قبل امریکیوں کے ہاتھوں ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کی موت اور میمو گیٹ سکینڈل کے تناظر میں پیپلز پارٹی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے تعلقات میں شدید تناؤ تھا۔ کیوں اور کیسے جیسے سوالات کی گونج سے غیر یقینی اور سوچ کے انتشار کی فضا تھی۔ اس صورت حال کی شدت اور حدت کو سنبھالنا تھا۔ عمران خان کی سپورٹ شاید اسی حکمت عملی کا حصہ تھی۔
نواز شریف نے تو عدالت میں کالا کوٹ پہن کر اسٹیبلشمنٹ کی مہربانیاں سمیٹنے کی کوشش کی تھی۔ 2013 کے انتخابات میں کامیابی بھی حاصل کی لیکن مشکلات پھر بھی رہیں۔
عمران خان کا اسلام آباد میں طویل دھرنا، نریندر مودی کا ان کی رائیونڈ رہائش گاہ پر آمد کا تنازع، ڈان لیکس اور پاناما سکینڈل۔ مصیبتوں کا انبار اور بالآخر انہیں وزارت اعظمیٰ کے عہدے سے ہاتھ دھونا پڑا۔ اسی دوران تحریک انصاف مہربانیوں اور نوجوانوں کی غیر معمولی حمایت سے ایک بڑی سیاسی قوت میں تبدیل ہوگئی۔
ن لیگ اور پیپلز پارٹی کی قیادت پر کرپشن کے الزامات لگائے گئے۔ مبینہ لوٹی ہوئی رقم کو بیرون ملک سے واپس لانے اور کرپشن فری نئے پاکستان کی تشکیل کے وعدے کیے گئے۔ عمران خان کی حکومت اور اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ کی قیادت کے درمیان غیر معمولی ہم آہنگی اور ایک پیج کا تاثر تھا۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اس دور کے آرمی چیف جنرل باجوہ اور آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل فیض حمید، جو آج کل کورٹ مارشل کے بعد سزا کاٹ رہے ہیں، عمران خان اور ان کی حکومت پر صدقے واری تھے۔ پھر تعلقات میں آئی سرد مہری اور موسم میں آئی تبدیلی۔
مہینہ اپریل، سال 2021۔ دارالحکومت اسلام آباد میں موسم بہار کا نزول لیکن عمران خان کی تحریک انصاف حکومت کے خاتمے کے بعد تو گویا موسم ہی بدل گیا۔ اس دن سے تحریک انصاف ایک بھنور میں پھنسی آج بھی دکھائی آتی ہے۔ نو مئی کے واقعات نے بحران کو اور شدید کر دیا۔ بڑے پیمانے پر گرفتاریاں ہوئیں اور رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف مقدمات قائم ہوئے۔
اسد عمر، فواد چوہدری، علی زیدی اور عمران اسماعیل جیسے مرکزی رہنماؤں کو جنہیں بڑے بڑے عہدوں سے نوازا گیا تھا، چند ماہ اور ہفتوں کی قید برداشت نہ کرسکے۔ خزاں کے پت جھڑ کی طرح تحریک انصاف سے علحیدہ ہوگئے۔ ان میں سے بعض اب ٹی وی شوز اور سوشل میڈیا پر ماہرانہ رائے دیتے نظر آتے ہیں البتہ ڈاکٹر یاسمین راشد جیسی مثالیں کم ہیں۔
تحریک انصاف کی سیاست کا محور ہمیشہ عمران خان کی شخصیت رہا ہے۔ شخصیت پرستی کا کلچر حاوی رہا جس کی وجہ سے بحرانی صورت حال میں کوئی بھی پارٹی کی باگ ڈور مضبوطی سے نہیں سنبھال سکا ہے۔
عمران خان گذشتہ تین برسوں سے جیل میں ہیں تو لیڈرشپ کا فقدان اور کمزور فیصلہ سازی کافی نمایاں ہے۔ کہنے کو تو سربراہی بیرسٹر گوہر کے پاس ہے لیکن فیصلہ سازی کبھی بہن علیمہ خان کے ہاتھوں میں تو کبھی اہلیہ بشریٰ بی بی کا جیل جانے سے قبل عمل دخل نظر آیا۔ اب بھی ایشوز کی بجائے تحریک انصاف کی سیاست عمران خان کی رہائی کے گرد گھوم رہی ہے۔
خیبرپختونخوا کو، جہاں تحریک انصاف کی 2013 سے حکومت ہے، پارٹی کی اہم اور آخری سیاسی آماجگاہ سجھا جا رہا ہے۔ عمران خان کی رہائی کے لیے یوں سمجھ لیجیے ایک مثلث متحرک ہے۔ خیبرپختوانخوا کی مرکزی حیثیت اور ذمہ داری عملی طور پر احتجاجی تحریک چلانا ہے۔ لاہور میں عمران خان کی بہنیں، جو اب نظر بند ہیں اور بین الاقوامی سطح پر لندن میں سابق اہلیہ جمائمہ کی جگہ بیٹے سلمان اور قاسم خاصے متحرک نظر آتے ہیں۔
ملک میں احتجاجی تحریک سے حکومت پر براہ راست دباؤ ڈالنا مقصود ہے۔ بیٹوں کے تواتر کے ساتھ انٹرویوز اور کرکٹ کے عظیم کھلاڑیوں کے عمران خان کے لیے پیغامات کا مقصد ہمدردیاں حاصل کرنا ہے۔ ہدف پاکستان کا موجودہ ’ہائبرڈ نظام‘ یعنی سیاسی اور عسکری قیادت کی عالمی سطح پر ساکھ کو نقصان پہنچانے کی حکمت عملی ہے۔
لگ بھگ دو برس کے بعد تحریک انصاف ایک مرتبہ پھر پشاور سے اسلام آباد تک لانگ مارچ کا ارادہ رکھتی ہے۔ خواہش عمران خان کے خلاف مقدمات کی ہنگامی بنیادوں پر شنوائی، رہائی اور علاج معالجے کی سہولیات دلوانا ہے۔
احتجاجی تحریک کی سربراہی خیبر پختوانخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے ہاتھوں میں ہے۔ صوبے میں پارٹی گروہ بندی کا شکار ہے۔ شہرام تراکئی اور عاطف خان کا گروپ اور سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور کا اپنا گروہ۔ غرض جتنے رہنما اتنے گروپس۔ اسد قیصر، بیرسٹر گوہر اور جنید اکبر کے اپنے اپنے خیالات ہیں کہ کیا پہلے پی ڈی ایم کی طرز پر اپوزیشن الائنس کی تشکیل ہو یا پھر احتجاجی تحریک۔
بڑا سوال یہ ہے کہ عمران خان کی رہائی کے لیے دوسری سیاسی جماعتیں تحریک انصاف کی مہم میں کیوں شریک ہوں گی۔ وہ ایشوز کی سیاست میں بیان دے سکتی ہیں، مثلاً مولانا فضل الرحمٰن جو حکومت سے شدید ناراض ہیں، سخت بیان بھی دے رہے ہیں لیکن تحریک انصاف کے احتجاج میں اپنی پارٹی جے یو آئی کو نہیں جھونک سکتے۔ ماضی میں عمران خان اپنے ساتھیوں کے ہمراہ مولانا کو ’مولانا ڈیزل‘ اور نواز شریف اور زرداری کو ’چور‘ اور ’ڈاکو‘ پکارتے تھے۔
تحریک انصاف کو ہمیشہ ملک کی دوسری سیاسی جماعتوں سے الگ تھلگ ایک پاک صاف پارٹی کے طور پر پیش کرتے تھے۔ اب وہی تحریک انصاف ان ہی سیاسی جماعتوں کو اپنا ساتھ دینے پر کیسے آمادہ کر سکتی ہے؟
قصہ مختصر سہیل آفریدی کسی حد تک کمزور اور تنہا نظر آتے ہیں۔ خود ان کی سیاسی ساکھ داؤ پر لگی ہوئی ہے۔ ٹکراؤ کی صورت میں صوبائی حکومت کو کھو دینے کا خوف بھی ہے۔ صوبہ دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے اور گورننس کے مسائل بھی ہیں۔ عوام کی سپورٹ ہے لیکن احتجاج کا فیصلہ اس وقت تحریک انصاف کے لیے گلے میں پھنسی اس ہڈی کے مانند ہے جو نہ نگلا جائے اور نہ اگلا جائے۔
ادھر اسلام آباد میں ن لیگ کی حکومت کے اعصاب خوف کا شکار ہیں۔ لوہے کے درجنوں کنٹینرز راستوں اور شاہراہوں کے کنارے پڑے ہیں۔ وزرا کی دھمکیاں، بھپکیاں اور الزامات کی بارش ہے۔ وہ خیبر پختوانخوا حکومت پر ریاست کی دہشت گردی کے خلاف مہم اور طالبان کے خلاف کریک ڈاؤن کی راہ میں رکاوٹ بن کر قومی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کے الزامات عائد کر رہی ہے۔
چند ہفتے قبل سپریم کورٹ نے عمران خان کو ہسپتال منتقل کرنے کا کہا تھا۔ عقل و فہم کا تقاضہ تو تھا کہ سیاسی حدت کو کم کیا جاتا۔ عالمی سطح پر ملک کی سفارت کاری کی پذیرائی، ہو رہی ہے۔ ایسے میں نئے صوبوں کے تصور اور اب تحریک انصاف کے خلاف ایک نیا محاذ سیاسی عدم استحکام کا باعث ہوسکتا ہے۔
تاہم محسوس ہوتا ہے کہ سیاسی افہام و تفہیم کے بجائے حکومت اسٹیبلشمنٹ اور تحریک انصاف کے درمیان موجود خلیج کو مزید گہرا کرنا چاہتی ہے۔ یہ صرف سیاسی ہی نہیں بلکہ انا کی بھی جنگ ہے۔ اگر آپ عمران خان کی ضد اور انا کو پرکھیں تو وہ سمجھوتہ کر کے بیرون ملک جانے کو ترجیح نہیں دیں گے۔ شاید غیر سیاسی زندگی بسر کرنے کی بنی گالہ میں مشروط منتقلی پر بھی آمادہ نہیں ہوں۔ وہ بظاہر احتجاج، ٹکراؤ اور اس کے نتیجے میں سیاسی انتشار کو ترجیح دیں گے۔
حکو مت بھی سمجھوتے کی بجائے چاہے گی کہ عمران خان اور تحریک انصاف مشکلات کے بھنور میں ہمیشہ پھنسے رہیں۔ اس تناظر میں سیاسی ٹکراؤ کا ماحول سنگینی اختیار کرتا جا رہا ہے۔
اب اکتوبر اور موسمِ خزاں کی آمد ہے۔ وہی زرد خشک پتوں کے ڈھیر۔ تحریک انصاف کی موسم بہار کی خواہش لیکن ایسا لگتا ہے کہ اس کے سیاسی مستقبل کا موسم فی الوقت تبدیل نہیں ہو رہا ہے۔
یہ تحریر مصنف کی ذاتی رائے پر مبنی ہے، جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

