دہلی میں سینکڑوں مظاہرین حراست میں، ممبئی کے شیواجی پارک میں احتجاج شروع

CJP Mumbai


ممبئی کے شیواجی پارک میں گیانیش کمار کے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہوئےمظاہرین۔ تصویر: ایکس/ سوربھ داس

دہلی پولیس کی کارروائی اور حراست کے باوجود لوگ لگاتار احتجاجی مقام کی جانب جانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ سینکڑوں لوگوں کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔

نئی دہلی:دہلی کے جنتر منتر پر چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفیٰ کے مطالبہ کو لے کر جاری احتجاج کو روکنے کے لیے انتظامیہ نے سکیورٹی کےکڑے انتظامات کیے ہیں۔ وہیں ممبئی کے شیواجی پارک میں شام 4 بجے کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی)کی قیادت میں احتجاج شروع ہو گیا ہے۔

جنتر منتر تک پہنچنے والے تمام راستوں کو بھاری بیریکیڈنگ کے ذریعے بند کر دیا گیا ہے۔ نئی دہلی ضلع میں بڑی تعداد میں سکیورٹی فورسز تعینات کی گئی ہیں۔ احتجاج میں شامل  ہونے کے لیے پہنچنے والے اپوزیشن جماعتوں کے ارکانِ پارلیامنٹ، رہنماؤں اور دیگر لوگوں کو پولیس لگاتار حراست میں لے رہی ہے۔

تاہم، پولیس کی کارروائی اور حراست کے باوجود لوگ لگاتارجنتر منتر کی جانب جانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ سینکڑوں لوگوں کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔

پہلی بار حراست سے بچ نکلنے کے بعد آئیسا کی صدر نہا بورا کو دوبارہ حراست میں لے لیا گیا ہے۔ دہلی پولیس اہلکار نہا بورا کو گھسیٹ کر لے جاتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔

سماجی کارکن یوگیندر یادو کو بھی گھسیٹتے ہوئے حراست میں لیا گیا۔

صبح حراست میں لیے جانے کے بعد عام آدمی پارٹی (عآپ) کے رہنما سوربھ بھاردواج اور سنجے سنگھ دوبارہ احتجاج میں شامل ہونے پہنچے۔ انہیں بھی دوبارہ حراست میں لے لیا گیا۔

حراست میں لیے گئے لوگوں میں ایس ایف آئی کے آل انڈیا رہنما آدرش ایم ساجی، سِرجن بھٹاچاریہ، آئشی گھوش اور ایس شلپا شامل ہیں۔

احتجاج میں شرکت کے لیے آئے سی پی آئی (ایم) کے سینئر رہنماؤں، جن میں جنرل سکریٹری ایم اے بے بی اور برندا کرات شامل ہیں، کو بھی حراست میں لیا گیا۔

دریں اثنا، یوتھ کانگریس نے بھی جنتر منتر پر ’ووٹ چوری‘ کے خلاف احتجاج کیا۔ یوتھ کانگریس کے بھی کئی ارکان کو حراست میں لیا گیا۔

نئی دہلی کے 12 میٹرو اسٹیشن بند کر دیے گئے ہیں، جبکہ علاقے میں انٹرنیٹ کی سہولت بھی روک دی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ضلع میں تقریباً 4,000 سے زیادہ سکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔

وہیں ممبئی کے شیواجی پارک میں سی جے پی کی قیادت میں جاری احتجاج میں شرکت کے لیے بڑی تعداد میں لوگ پہنچ رہے ہیں۔ معروف فلم اداکار نصیرالدین شاہ بھی احتجاج میں شامل ہوئے۔





Source link

متعلقہ پوسٹ