ممبئی کے شیواجی پارک میں گیانیش کمار کے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہوئےمظاہرین۔ تصویر: ایکس/ سوربھ داس
دہلی پولیس کی کارروائی اور حراست کے باوجود لوگ لگاتار احتجاجی مقام کی جانب جانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ سینکڑوں لوگوں کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔
نئی دہلی:دہلی کے جنتر منتر پر چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفیٰ کے مطالبہ کو لے کر جاری احتجاج کو روکنے کے لیے انتظامیہ نے سکیورٹی کےکڑے انتظامات کیے ہیں۔ وہیں ممبئی کے شیواجی پارک میں شام 4 بجے کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی)کی قیادت میں احتجاج شروع ہو گیا ہے۔
Mumbai is up to something!
Jai Maharashtra 🔥 pic.twitter.com/TKRlZEHw3D
— Cockroach Janta Party – CJP (@Cockroachisback) October 2, 2026
جنتر منتر تک پہنچنے والے تمام راستوں کو بھاری بیریکیڈنگ کے ذریعے بند کر دیا گیا ہے۔ نئی دہلی ضلع میں بڑی تعداد میں سکیورٹی فورسز تعینات کی گئی ہیں۔ احتجاج میں شامل ہونے کے لیے پہنچنے والے اپوزیشن جماعتوں کے ارکانِ پارلیامنٹ، رہنماؤں اور دیگر لوگوں کو پولیس لگاتار حراست میں لے رہی ہے۔
تاہم، پولیس کی کارروائی اور حراست کے باوجود لوگ لگاتارجنتر منتر کی جانب جانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ سینکڑوں لوگوں کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔
پہلی بار حراست سے بچ نکلنے کے بعد آئیسا کی صدر نہا بورا کو دوبارہ حراست میں لے لیا گیا ہے۔ دہلی پولیس اہلکار نہا بورا کو گھسیٹ کر لے جاتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔
Delhi Police drags citizens on the streets of the capital!
History will remember you Delhi Police and whose side you were on, who you were trying to save and who you attacked! pic.twitter.com/nxudsUnvn4
— Neha (@neha_aisa) October 2, 2026
سماجی کارکن یوگیندر یادو کو بھی گھسیٹتے ہوئے حراست میں لیا گیا۔
दम है कितना दमन में तेरे, देख लिया है देखेंगे..#JantarMantarSatyagraha pic.twitter.com/Gf9siA9uyJ
— Yogendra Yadav (@_YogendraYadav) October 2, 2026
صبح حراست میں لیے جانے کے بعد عام آدمی پارٹی (عآپ) کے رہنما سوربھ بھاردواج اور سنجے سنگھ دوبارہ احتجاج میں شامل ہونے پہنچے۔ انہیں بھی دوبارہ حراست میں لے لیا گیا۔
حراست میں لیے گئے لوگوں میں ایس ایف آئی کے آل انڈیا رہنما آدرش ایم ساجی، سِرجن بھٹاچاریہ، آئشی گھوش اور ایس شلپا شامل ہیں۔
احتجاج میں شرکت کے لیے آئے سی پی آئی (ایم) کے سینئر رہنماؤں، جن میں جنرل سکریٹری ایم اے بے بی اور برندا کرات شامل ہیں، کو بھی حراست میں لیا گیا۔
دریں اثنا، یوتھ کانگریس نے بھی جنتر منتر پر ’ووٹ چوری‘ کے خلاف احتجاج کیا۔ یوتھ کانگریس کے بھی کئی ارکان کو حراست میں لیا گیا۔
‘वोट चोर कहां मिलेगा – BJP के दफ्तर में’
आज जंतर-मंतर पर अध्यक्ष @UdayBhanuIYC जी के नेतृत्व में IYC के युवा साथियों ने ‘वोट चोरी’ के खिलाफ जोरदार विरोध प्रदर्शन किया।
मोदी-ज्ञानेश की काली करतूत देश के सामने आ चुकी है, किसी को बख्शा नहीं जाएगा, अब हिसाब होगा।
📍दिल्ली pic.twitter.com/VhJAB1ztrE
— Congress (@INCIndia) October 2, 2026
نئی دہلی کے 12 میٹرو اسٹیشن بند کر دیے گئے ہیں، جبکہ علاقے میں انٹرنیٹ کی سہولت بھی روک دی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ضلع میں تقریباً 4,000 سے زیادہ سکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔
Am I dreaming or what? pic.twitter.com/NAA7ZdVPjz
— Abhijeet Dipke (@abhijeet_dipke) October 2, 2026
وہیں ممبئی کے شیواجی پارک میں سی جے پی کی قیادت میں جاری احتجاج میں شرکت کے لیے بڑی تعداد میں لوگ پہنچ رہے ہیں۔ معروف فلم اداکار نصیرالدین شاہ بھی احتجاج میں شامل ہوئے۔

