رواں ہفتے مبینہ انڈین ایجنٹ سمیت 13 ’دہشت گرد‘ گرفتار: پنجاب سی ٹی ڈی

398865 2023241689


​پنجاب کے محکمہ انسداد دہشت گردی( سی ٹی ڈی) کے ترجمان نے ہفتے کو کہا رواں ہفتے صوبے میں خفیہ معلومات کی بنیاد پر کیے گئے 98 آپریشنز میں انڈین خفیہ ادارے را کے مبینہ ایجنٹ سمیت کالعدم تنظیموں کے 13 ’دہشت گردوں‘ کو گرفتار کر لیا گیا۔

ترجمان سی ٹی ڈی کے مطابق را کے مبینہ ایجنٹ کو پاک پتن سے گرفتار کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ گرفتار افراد کے خلاف مقدمات درج کر لیے گئے۔

ترجمان سی ٹی ڈی کے مطابق صوبے کے مختلف شہروں میں رواں ہفتے  کے دوران 9515 کومبنگ آپریشنز کے دوران 52 مشتبہ افراد گرفتارکیے گئے۔

اس دوران 55 ہزار 400 سے زائد افراد کو چیک کیا گیا۔

 ترجمان کا کہنا تھا کہ ’را سے تعلق رکھنے والے مبینہ دہشت گرد ماجد کے علاوہ گرفتار مبینہ دہشت گردوں کی شناخت عثمان، نعیم ، عبدالمنان ، واجد، اسامہ، عثمان، حسن اور بابر کے نام سے ہوئی اور ان کے قبضے سے دھماکہ خیز مواد، ایک دستی بم، تین دیسی ساختہ بم، 12 ڈیٹونیٹرز، فیوز اور 35 فٹ تار برآمد کیے گئے۔‘

ترجمان کے بقول ’گرفتار 13 دہشت گردوں کا تعلق مختلف کالعدم تنظیموں سے ہے ان کے خلاف 13 مختلف مقدمات درج کر کے کارروائی بھی شروع کر دی گئی ہے۔

’ان گرفتار دہشت گردوں کا تعلق فتنہ الخوارج  اور دیگر دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ  ہے اور وہ لاہور، سرگودھا، گجرات،  پاک پتن، راولپنڈی ، منڈی بہاؤالدین، فیصل آباد، خوشاب، چنیوٹ اورخانیوال  کے رہائشی ہیں۔ آپریشن مقامی پولیس اور حساس اداروں کی معاونت سے کیے گئے۔‘

پنجاب میں دہشت گردی روکنے کی حالیہ قانون سازی

پنجاب اسمبلی نے گذشتہ ماہ انسداد دہشت گردی ترمیمی بل 2026 کے نام سے منظور کیا تھا۔

اس قانون کو اپوزیشن نے متنازع قرار دیتے ہوئے شدید تحفظات ظاہر کیے اور بل منظوری کے وقت ایوان سے بائیکاٹ بھی کیا تھا۔

اس بل کے مطابق انسداد دہشت گردی کی دفعات کے تحت درج ہونے والے کسی بھی مقدمے کو ’سپیشل سکیورٹی کیس‘ قرار دیا جا سکتا ہے جس کا فیصلہ نامزد اتھارٹی یعنی گریڈ 20 کا افسر کرے گا اور تمام کارروائی کو خفیہ رکھا جائے گا۔

اجلاس کے دوران اپوزیشن کی جانب سے کئی اعتراضات اٹھائے گئے تاہم انہیں مسترد کرتے ہوئے ایوان کی اکثریت نے بِل کو منظور کیا۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

نئے قانون کے تحت نامزد اتھارٹی کی جانب سے ان کیسز پر کام کرنے کے لیے لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سے مشورہ کیا جائے گا۔

اس پر وہ دونوں فیصلہ کریں گے کہ کیا کسی مخصوص کیس یا کیسز کی کلاس کو غیر معمولی تحفظ کے اقدامات کی ضرورت ہے یا نہیں؟

اس قانون کے ذریعے حکومت سے بھی مشورہ اور رابطہ قائم ہوگا۔

سپیشل سکیورٹی کیسز میں ججز، وکلا، پراسیکیوٹرز اور گواہوں کی شناخت کا طریقہ خفیہ رکھا جائے گا۔ کیس کا مکمل عدالتی ریکارڈ سیل کیا جائے گا۔

اس قانون کے خلاف اپوزیشن نے گریڈ 20 کے افسر کو عدالت کے برابر اختیار ججز، وکلا اور کیس کا ریکارڈ پوشیدہ رکھے جانے کے اقدام کو غیر آئینی قرار دے کر اسے مسترد کر دیا تھا۔

یہ بل اسمبلی نے تو منظورکر لیا ہے اور گورنر پنجاب کے نوٹیفکیشن پر فوری نافذ العمل ہوجائے گا۔





Source link

متعلقہ پوسٹ