چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار۔ (تصویر بہ شکریہ: پی آئی بی)
ملک بھر میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو عہدے سے ہٹانے کے مطالبہ کے لیے ہو رہے احتجاجی مظاہروں کے درمیان الیکشن کمیشن نے ایک خط جاری کرکے 20 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں ’چھوٹ گئے‘ ووٹروں کے لیے خصوصی مہم چلانے کی ہدایت دی ہے۔
نئی دہلی:ہندوستان کے دو سب سے بڑے شہروں میں 2 اکتوبر کو نوجوانوں کی قیادت میں ہوئے احتجاجی مظاہروں کے درمیان تنقید کا سامنا کر رہے الیکشن کمیشن نے 20 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں ایک ’خصوصی مہم‘ چلانے کی ہدایت دی ہے۔ ان ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں کمیشن متنازعہ ایس آئی آر کا عمل پہلے ہی پورا کر چکا ہے۔
الیکشن کمیشن نے ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے چیف الیکٹورل افسران (سی ای او)کو ایک خط جاری کیا ہے۔ اس میں کہا گیا ہے،’کمیشن نے ووٹر لسٹ میں چھوٹ جانے والے لوگوں اور پہلی بار ووٹ دینے والے ووٹروں/نوجوان ووٹروں کے رجسٹریشن کے لیے ایک خصوصی مہم چلانے کی ہدایت دی ہے۔‘
الیکشن کمیشن نے یہ خط سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر بھی شیئر کیا ہے۔ خط پر 1 اکتوبر کی تاریخ درج ہے، لیکن انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق یہ ہدایت 29 ستمبر کو تحریری طور پر دی گئی تھی اور 1 اکتوبر کو تمام ریاستوں کے چیف الیکٹورل افسران کے ساتھ ہوئی ویڈیو کانفرنس میں اسے دہرایا گیا۔
تیس ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں ووٹر لسٹوں سے تقریباً 13 کروڑ نام ہٹا دیے گئے ہیں۔ اس کی وجہ سے فہرست سے باہر رہ جانے والے لوگوں کے لیے راشن اور دیگر فلاحی اسکیموں سے فائدہ اٹھانے کے ساتھ ساتھ ملک میں رہنے کی ان کی اہلیت پر بھی وسیع اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ ایس آئی آرکے بعد تیار کی گئی ووٹر لسٹوں کی بنیاد پر اہم انتخابات کرائے گئے۔ انہی انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے پہلی مرتبہ بنگال میں اقتدار حاصل کیا، جبکہ 27 لاکھ اپیلیں زیر التوا تھیں۔
یہ خط 23 ستمبر کو انڈین ایکسپریس کی پڑتال کے ایک ہفتے بعد سامنے آیا ہے۔ اس پڑتال میں یہ بات سامنے آیاتھا کہ ووٹر لسٹ میں کس کا نام شامل ہوگا اور کس کا نام رہ جائے گا، یہ سوال خود الیکشن کمیشن کے اندر بھی اٹھایا جا رہا تھا۔ کئی بار ان معاملوں پر اکثریت کی رضامندی کے بغیر ہی فیصلے کیے جا رہے تھے۔
الیکشن کمشنروں سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی نے 10 مہینوں کے دوران 14بار باضابطہ طور پر ان فیصلوں پر اعتراض کیا تھا، جو کمیشن کے نام پر ان کی جانکاری کے بغیر لیے گئے تھے۔ ان میں فارم 6 میں تبدیلی بھی شامل تھی، جسے نئے ووٹر اپنا نام شامل کروانے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ ای سی آئی نیٹ سافٹ ویئر پر مرکزی کنٹرول کا معاملہ بھی تھا۔ایس آئی آرکے دوران اسی سافٹ ویئر کے ذریعے ووٹر لسٹیں تیار کی گئی تھیں اور اب تمام ووٹر لسٹ اسی پر دستیاب ہیں۔
ایس آئی آرکے عمل کی وضاحت کرتے ہوئے الیکشن کمیشن نے کہا،’ووٹر رجسٹریشن ایک مسلسل عمل ہے۔ کوئی بھی شخص، جس کا نام ابھی تک ووٹر لسٹ میں درج نہیں ہوا یا جس کا نام فہرست سے ہٹا دیا گیا ہے، کسی بھی وقت رجسٹریشن کے لیے درخواست دے سکتا ہے۔ اس خصوصی مہم کا مقصد ایسے ووٹروں کی شناخت کرنا اور ان کے رجسٹریشن کے عمل کو آسان بنانا ہے۔‘
خط میں کہا گیا ہے کہ بوتھ لیول افسران (بی ایل او) — جو پہلے ہی مختلف ریاستوں میں کام کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں — اب موجودہ ووٹر لسٹ کا ایس آئی آر سے پہلے کی ووٹر لسٹ کے ساتھ موازنہ کریں گے۔ اس عمل کے تحت ان ووٹروں کی شناخت کی جائے گی جن کے نام پہلے فہرست میں شامل تھے، لیکن موجودہ فہرست سے غائب ہیں۔
بی ایل اوگھر گھر جا کر ان ووٹروں کی صورتحال کی تصدیق کریں گے اور فارم 6 کے توسط سے ان کا دوبارہ رجسٹریشن کرانے میں مدد کریں گے۔ انہیں ہر ہفتے کم از کم 20 سے 25 ووٹروں کو کور کرنا ہوگا اور تقریباً ایک مہینے میں یہ پورا عمل مکمل کرنا ہوگا۔اب انہیں ووٹر لسٹ سے چھوٹ جانے والے لوگوں کے ساتھ ساتھ پہلی بار رجسٹریشن کرانے والے اور نوجوان ووٹروں کی بھی مدد کرنی ہوگی۔ ان ووٹروں کی فہرستیں تسلیم شدہ سیاسی جماعتوں اور الیکٹورل رجسٹریشن افسران (ای آر او) کے ساتھ بھی شیئر کی جائیں گی۔
الیکشن کمیشن کا اب یہ بھی دعویٰ ہے کہ بوتھ کی سطح پر کیمپ منعقد کیے جائیں گے۔ ان میں بے گھر اور حاشیے پر رہنے والے لوگوں کے لیے خصوصی کیمپ بھی شامل ہوں گے۔
خاص بات یہ ہے کہ ممکنہ ووٹر فارم 6 کا استعمال اس سوال کے بغیر کر سکیں گے جو جولائی 2026 میں اس فارم میں شامل کیا گیا تھا۔ یہ وہی سوال تھا جس پر دونوں الیکشن کمشنروں نے باضابطہ طور پر اعتراض کیا تھا اور جس کے لیے پارلیامنٹ کی منظوری کی ضرورت تھی۔
خط میں یہ بھی کہا گیا ہے،’چیف الیکٹورل افسر(سی ای او)، ڈسٹرکٹ الیکشن افسر(ڈی ای او)اور الیکٹورل رجسٹریشن افسر(ای آراو)تعلیمی اداروں، مقامی سطح پر عوامی رابطے،اسی وی ای ای پی سرگرمیوں، باقاعدہ پریس بریفنگ اور دیگر مناسب ذرائع کے ذریعے بیداری پیدا کرنے اور لوگوں کو رجسٹریشن کے لیے ترغیب دینے کی کوششیں کریں گے، تاکہ ہر اہل شہری کو ووٹر لسٹ میں اپنا نام درج کرانے کے اس موقع کے بارے میں جانکاری ہو۔‘
خط میں مزید کہا گیا ہے،’اس مہم کی پیش رفت اور اس کے باقاعدہ جائزے کی نگرانی چیف الیکٹورل افسر، ڈسٹرکٹ الیکشن افسر اور الیکٹورل رجسٹریشن افسر کی سطح پر باریکی سے کی جا سکتی ہے۔‘
غور طلب ہے کہ مقامی افسران کے کردار کو کم کرکے دہلی میں قائم الیکشن کمیشن کے مرکزی کنٹرول کو بڑھانے کا معاملہ بھی ان میں شامل تھا جن پر دونوں الیکشن کمشنروں نے اعتراضات اٹھائے تھے۔

